حمایت- جموں وکشمیر کے نوجوانوں کی حصولیابیوں میں مددگار

تصنیف : ڈاکٹر سندھیا گوپا کمارن

Advertisement

نئی دہلی07 اگست 2020 ۔کسی بھی دیگر شخص کو اس نوجوان میں کوئی خاص بات شاید نظر نہ آئے ، جو خود اعتمادی سے معمور ہے اورچنڈی گڑھ میں ایک پروسس مینجمنٹ فرم کے لئے کام کرکے بھارتی کرنسی میں 20,000 روپے ماہانہ کماتا ہے۔تاہم جب آپ یہ جانتے ہیں کہ وہ منیش کمار ہے جس کا تعلق کٹھوعہ جموں وکشمیر کے خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کبنے سے ہے اور وہ مخؤحض انٹر میڈیٹ پاس ہے ، جس کے والد ایک پھل فروش ہیں اورسالانہ تقریباَ24,000روپے آئی این آر کماتے ہیں ۔یہ ایک غیر معمولی تغیر محسوس ہوتا ہے ۔ مینش اب اس بات سے مسرور ہے کہ وہ اب اپنے کنبے کی کفالت پر قادر ہے ۔اس کی زندگی میں بدلاؤ اس وقت رونما ہوا جب اس نے حمایت اسکیم کے تحت ایک تربیت فراہم کار کے ذریعہ چلائی جانے والی ترغیب کار مہم میں شمولیت اختیار کی ۔ یہ اسکیم جموںوکشمیر کے نوجوانوں کو پلیس منٹ سے مربوط تربیت فراہم کرتی ہے۔
حمایت ایک پلیسمنٹ سے مربوط ایک تربیتی پروگرام ہے ،جسے حکومت ہند، جموں وکشمیر کے نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لئے100فیصد سرمایہ فراہم کرتی ہے ۔ اس اسکیم پر جموں وکشمیر کے دیہی روزی روٹی مشن جے اینڈ کے ایس آر ایل ایم ) ، محکمہ دیہی ترقیات اور حکومت جموں وکشمیر کے ذریعہ حمایت مشن مینجمنٹ یو نٹ ( ایچ ایم ایم یو ) کے ذریعہ عمل آوری ہورہی ہے ۔ دیہی ترقیاتی وزارت کے تحت ڈی ڈی یو جے کے وائی کی نگرانی میں بااختیار کمیٹی نے 2022 تک کے لئے 1781.66 کروڑروپے کی لاگت سے 149180 ہنرمندی فراہمی نشانہ مقرر کیا ہے۔


ایسے ہی ایک استفادہ کنندہ کرگل کی باشندہ پروین فاطمہ ہیں جو حمایت سے فارغ التحصیل ان معدودے چند شخصیات میں شامل ہیں جن کا ذکر محترم وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے 27 دسمبر 2019 کو اپنی ’من کی بات‘ میں کیا تھا ۔ وزیراعظم چند از حد کامیاب افراد کا حوالہ دے رہے تھے جنہوں نے سنگین صورتحال کا سامناکرکے کامیابی حاصل کرکے دکھائی ۔ مذکورہ پروین فاطمہ کا تعلق گوما ، کرگل ، لداخ کےدوردراز گاؤں سے ہے، جنہیں شرٹ ، کرتہ اورسفاری بنانے کے ہنر میں تربیت فراہم کی گئی ہے اوراب وہ ایس ایم جی گارمنٹس تریپورہ تمل ناڈو میں بطور ٹیم لیڈر مصروف عمل ہیں ۔پروین سیکڑوں لڑکیوں کے لئے تقلید کی مثال بن گئی ہیں، جو بے شمار سماجی اور مالی دشواریوں کے درپیش ہونے کے باوجود بااختیار بن جانے کا خواب دیکھتی ہیں۔ حمایت مختلف شعبوں میں ، تربیت کی تکمیل پر روزگار فراہم کرنے کی ضمانت کے تحت خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے کنبوں کے افراد سمیت غیر بی پی ایل زمرے کے نوجوانو ں پر احاطہ کرتی ہے۔ان میں دیہی اورشہری دونو ں علاقوں کے نوجوان شامل ہوتے ہیں۔ عام طور پر چند گروپوں کی استثنائیوں کے ساتھ ان جوانوں کی عمریں 18سے 35 برس کے درمیان ہوتی ہیں، 100فیصد مرکزی امداد کی حامل اسکیم ہونے کے باوجود حمایت تربیت یافتہ افراد میں سے کم از کم 70 فیصد کے پلیسمنٹ کو یقینی بناتی ہے ۔حفظان صحت کے شعبےکے تحت فارمیسی اسسٹنٹ کے طور پر مصروف عمل ہیں ۔ گجنیت سنگھ کا کہنا ہے کہ ’’ اپنی تربیت کے پہلے دن میں کلاس کے سامنے بول بھی نہیں پارہا تھا تاہم آہستہ آہستہ مجھ میں اعتماد آتا گیا اور میں بولنے لگا اور اب مجھے میرے پیشے میں روزانہ تقریبا 100فراد سے گفتگو کرنی پڑتی ہے۔ گجنیت سنگھ کی حمایت سے حاصل کردہ تربیت کے بعد اپنے اندر ہونے والے تغیر پر اظہار خیال کررہے تھے۔حمایت کے تحت تربیت یافتہ مس شبنم بلوریا کووڈ-19ہیلپ لائن نمبر کے لئے سی سی ای کے طورپرکام کرتی ہوئیں ۔ ان کا تعلق بسوہلی ،کٹھوعہ سے ہے نوجوانوں کو ہنر مندی تربیت ، پروجیکٹ نفاذ ای این سی کی جانب سے ہنر مندی کی تربیت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ( پی پی پی ) کے توسط سے فراہم کی جاتی ہے ۔ان ایجنسیوں کو دیہی ترقیات کی ایک شاخ یعنی ایچ ایم ایم یو اور این آئی آر ڈی پی آر میں ماہرین کی جانب سے تربیت فراہم کی جاتی ہے ۔ یہ عمل پروگرام کے مکمل نفاذ کے تحت معیاری آپریٹنگ ضوابط کے مطابق انجام دیا جاتا ہے ۔دیہی ترقیات کی وزارت کے اس یوتھ ہنر مندی پروگرام کے چار ستون – موبیلائزیشن ، کونسلنگ ، تریبت اور پلیسمنٹ ہیں۔ اس اسکیم کے لئے تربیت کے بعد پلیسمنٹ کا مستحکم سپورٹ فراہم کیا جاتا ہے تاکہ نوجوان پلیسمنٹ کے بعد اوائل مہینوں میں دشواریوں کاشکار نہ ہوں ۔محترمہ عابدہ ، جنہوں نے بارہمولہ میں تربیت حاصل کی ہے اور اب بطور سیلز ایگزیکٹیو 18000 روپے ماہانہ کمارہی ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس تربیت نے میری خود اعتمادی میں اضافہ کیا ہے اور اب میں اپنے لئے کھڑی ہوسکتی ہوں یعنی اپنا موقف مضبوطی سے پیش کرسکتی ہوں۔ بی پی ایل کنبے سے وابستہ ہونے اور آمدنی کا کوئی مستقل وسیلہ نہ ہونے کے باوجود محترمہ عابدہ کو اب اپنی خوداعتمادی پر فخر ہے۔ اسکیم کے تحت نوجوانوں کو مختلف النوع شعبوں مثلاََ خردہ ، میز بانی ، بینکنگ اور بیمہ ،آئی ٹی آئی ٹی ای ایس ، حفظان صحت اور دیگر بہت سارے شعبوں میں ان کے رجحان کے مطابق تربیت فراہم کی جاتا ہے ۔ نوجوانوں کو سافٹ اسکل ، آئی ٹی اور انگلش میں بھی تربیت فراہم کی جاتی ہے ۔2022 تک جموں وکشمیر کےنوجوانوں کو 1.5 لاکھ تربیتی سیکٹر فراہم کرنے اور پلیس منٹ کی سہولت دینے کے نشانے کے ساتھ اب تک 14956 نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جاچکی ہے جن میں سے 6143 ( 41فیصد) لڑکیاں ہیں۔ تربیت فراہم کئے گئے نوجوانوں میں 6 ہزار نوجوا نوں کو پلیسمنٹ مل چکا ہے ۔ یہ بات قابل فخر ہے کہ حمایت کے تربیت یافتہ نوجوان ، نہ صرف یہ کہ اپنا روزگار کما رہے ہیں بلکہ بہت اچھے طریقے اپنی کامیابی کا مظاہرہ بھی کررہے ہیں ،دوسروں کی زندگیا ں بچا رہے ہیں اور دیگر اشخاص کے لئے قابل رشک مثال پیش کررہے ہیں ۔ جناب محمد اعظم جن کی عمر 70 برس ہے اور جنہیں دل کا دورہ پڑا تھا ، انہیں پنچھ کے نزدیک دو ٹی ایم ٹی نے ایمبولینس نے اٹھایا تھا یہ وہی افراد تھے جنہیں حمایت میں تربیت حاصل ہوئی تھی ۔ ڈاکٹرو ں کی رہنمائی میں مریض کو انجکشن دیا گیا اور شاک لگا گیا اور اسی نے خون کے جماؤ کو ختم کیا اور مریض کو مزید معالجے کے لئے ِضلع اسپتال منتقل کردیا گیا ۔
حمایت پروگرام میں دیہی ترقیات کی وزارت نے جو سمجھوتہ نہ کرنے والا ڈھانچہ جاتی طریقہ کار اپنا یا ہے او ر جس کا مقصد نوجوانوں کو تربیت فراہم کرکے انہیں پلیسمنٹ فراہم کرنا ہے، اس کے ذریعہ نوجو ان اپنی ذاتی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں کامیاب ہوئے ہیں اور اب و ہ اپنے ، اپنے کنبے کی زندگی بد ل رہے ہیں اور سماج کو بھی اس کا بدل فراہم کررہے ہیں ۔ زندگیاں بچاتے ہوئے : حمایت کےتحت تربیت یافتہ اور ملازمت پر لگائی گئی ای ایم ٹی ٹیم کے اراکین ایک دیگر مسرور ، بااختیار نوجوان جس نے مذکورہ اسکیم کے تحت تربیت حاصل کی ہے او ر حمایت کے ذریعہ اسے پلیسٹمنٹ فراہم کرایا گیا ہے ،وہ اپنے پیغام میں کہتا ہے کہ ’’ کشمیر کے نوجوانوں کو میرا پیغام یہی ہے کہ اگر آپ اسکول کی تعمیل درمیان میں ترک کرچکے ہیں تو اب احساس محرومی سے باہر آئیں ۔ حمایت آپ کی اسی انداز میں مدد کرسکتی ہے، جس طرح اس نے میری مدد کی ہے۔ آپ اب بھی روزی روٹی کما سکتے ہیں ۔ بہت سارے روزگار ہیں ۔ بس آپ کو کسی ایک کو اختیار کرکے اس میں مصروف ہوجانا ہے ۔
(ڈاکٹر سندھیا گوپا کمارن نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف رورل ڈیولپمنٹ اینڈ پنچایت راج حیدرآباد ، جو دیہی ترقیات کی وزارت حکومت ہند کے تحت ایک خودمختار ادارہ ہے ۔ ملک کے دیہی نوجوانوں کو تربیت فراہم کرنے کے اپنے شوق کے علاوہ موصوفہ کو شعبہ تعلیم میں تقریباََ 7 برس کا تجربہ حاصل ہے اور انہوں نے ایک لرننگ اور ترقیاتی پیشہ ور کے طور پر صنعت میں 12 برس گزارے ہیں۔ PIB Raipur

Advertisement

Related Articles