جموں و کشمیر ایک انسانی مسئلہ ہے، واجپئی کی طرح سوچا جائے: محبوبہ مفتی
سری نگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے پیر کے روز کہا کہ جموں و کشمیر ایک انسانی مسئلہ
ہے، اور مرکزی سرکار سے اپیل کی کہ وہ اسے انسانیت، جمہوریت اور کشمیریت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرے، جیسا کہ سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے سوچا تھا۔وہ یوم الحاق کے موقع پر سری نگر میں ایک پارٹی اجتماع اور نامہ نگاروں سے بات کر رہی تھیں۔ 26 اکتوبر 1947 کو مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔ محبوبہ مفتی نے خطاب کے دوران الحاق کی دستاویز کی ایک کاپی ہاتھ میں اٹھا رکھی تھی۔انہوں نے کہا: ’’کوشش کیجیے جیسے اٹل بہاری واجپئی نے سوچا تھا کہ یہ ایک انسانی مسئلہ ہے۔ یہاں انسانیت سے کام لینا پڑے گا، جمہوریت سے کام لینا پڑے گا، کشمیریت سے کام لینا پڑے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر مرکز چاہتا ہے کہ یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے، تو آج یہاں آٹھ لاکھ فوج ہے اور وہ سولہ لاکھ لے آئے گا۔محبوبہ مفتی نے الزام لگایا کہ بی جے پی خاموشی کو امن سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’بی جے پی اس خاموشی کو امن اور معمول کی صورتحال سمجھتی ہے۔ یہ معمول کی صورتحال نہیں ہے، یہ دہشت ہے جس کا مزہ اب پورا ملک چکھ رہا ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پورے ملک کے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح سخت گیر طریقے سے نمٹا جاتا ہے، جسے جموں و کشمیر کے لوگ برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی بات ہر جگہ ہوتی ہے، لیکن جہاں اور جن کے ساتھ ہونی چاہیے، وہاں نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق، یہاں بات چیت این آئی اے، سی بی آئی اور دیگر ایجنسیوں، یو اے پی اے اور کرفیو کے ذریعے ہوتی ہے۔ انہوں نے اجتماع کے باہر تعینات پولیس کی بڑی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صرف پچاس یا سو لوگوں کے جمع ہونے پر اتنی پولیس لگا دی گئی ہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ 2019 میں جموں و کشمیر کے ساتھ جو کیا گیا اور ہندوتوا کا جو ایجنڈا پورا کیا گیا، اس کے بعد سختی اور مشکلات میں اضافہ ہی ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بی جے پی سے کوئی امید نہیں ہے، کیونکہ اس نے آئین کی دھجیاں اڑا دیں، جس نے جموں و کشمیر کو دفعہ 370 کے تحت حقوق دیے تھے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں ملک کے لوگوں سے امید ہے، جنہوں نے جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کی ایک جھلک دیکھی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جموں و کشمیر کے نوجوان اندرون اور بیرون ریاست کی جیلوں میں بند ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔الحاق کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر میں قبائلیوں کو بھیج کر بڑی غلطی کی، جو جموں و کشمیر کے لوگوں پر حملہ تھا۔ ان کے مطابق، یہاں کے لوگ سوچ سمجھ کر اپنا فیصلہ کرنا چاہتے تھے، جس کے نتیجے میں مہاراجہ ہری سنگھ نے حکومت ہند سے رجوع کیا، اور مسلم اکثریتی ریاست نے ہندوستان کے ساتھ ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت کی ہندوستانی قیادت اس پر یقین رکھتی تھی کہ ملک سیکولر رہے گا اور شیخ محمد عبداللہ نے الحاق کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کو کچھ آئینی ضمانتیں ملیں، جن کے تحت زمین اور نوکریاں محفوظ رہیں گی۔انہوں نے کہا کہ جواہر لعل نہرو نے کشمیر کو ایک مثالی کھڑکی بنانے کی بات کہی تھی، لیکن بعد میں شیخ عبداللہ اور مرکزی قیادت کے تعلقات خراب ہو گئے، شیخ عبداللہ بددل ہوئے اور انہوں نے 22 سال تک رائے شماری کا مطالبہ کیا، جس کی وجہ سے یہاں کے لوگ ہندوستان کی نظروں میں مشکوک ہو گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آج جموں و کشمیر دنیا کا سب سے زیادہ فوجی موجودگی والا علاقہ ہے، جہاں سات یا آٹھ لاکھ فوج تعینات ہے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ترکی کے صدر نے اور حسب روایت پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی کشمیر کا ذکر کیا، جبکہ حکومت ہند نے حسب معمول اسے اٹوٹ انگ کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ اترپردیش، ہماچل اور پنجاب جیسی ریاستوں کے انتخابات میں بھی جموں و کشمیر کا ذکر ہوگا۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر نے ایسے ہندوستان کے ساتھ الحاق کیا تھا جو گاندھی، نہرو اور امبیڈکر کا ہندوستان تھا، جنہوں نے سب کو حقوق دیے۔ انہوں نے کہا: ’’یہ کوئی کاغذ کا ٹکڑا نہیں ہے۔ اس پر اس وقت کے مقبول رہنماؤں، مہاراجہ اور آپ کی قیادت نے، جس نے ہندوستان کو آزادی دلائی، تصدیق کی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا: ’’آج ہم ایک عظیم ملک کے ساتھ اپنے جڑاؤ کی قدر کرتے ہیں، لیکن اس عظیم ملک کو بھی یاد کرنا چاہیے کہ یہ جڑاؤ کن شرطوں پر، کن حالات میں اور کن جذبات کے ساتھ ہوا تھا۔‘‘انہوں نے مرکزی سرکار سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے لوگوں پر ظلم بند کرے۔ انہوں نے کہا: ’’اسے بازو پکڑ کر نہ گھسیٹیں، بلکہ ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ چلنا سکھائیں۔‘‘




