نصیرالدین شاہ کی طلبہ تحریک کی حمایت پر سیاسی تنازع

مرکزی وزیر پرہلاد جوشی کا بھارت مخالف مہم چلانے کا الزام

نئی دہلی ، بالی ووڈ کے سینئر اداکار نصیرالدین شاہ کی جانب سے کولکاتا کے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ کے احتجاجی طلبہ کی حمایت کے بعد سیاسی تنازع پیدا ہوگیا ہے۔ نصیرالدین شاہ نے دعویٰ کیا تھا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی پالیسیوں اور نظریات سے اختلاف کرنے والوں سے بدلہ لینا چاہتی ہے۔ اس بیان پر مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے سخت اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا کہ اداکار مخالفت کے نام پر بھارت مخالف مہم چلارہے ہیں۔ شیوسینا کے ترجمان سنجے نروپم نے بھی ان کے مؤقف پر تنقید کی ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق ادارے میں کشیدگی 27 ستمبر کو شروع ہوئی تھی۔ ضابطے کے مطابق اجازت لے کر منعقد کیے گئے ایک پروگرام کے دوران احتجاجی طلبہ مرکزی آڈیٹوریم میں داخل ہوگئے، جس کے بعد مارپیٹ اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے۔ ادارے کے سربراہ پر حملے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ ان واقعات کے بعد 500 سے زیادہ طلبہ غیر معینہ مدت کے دھرنے پر بیٹھ گئے۔ نصیرالدین شاہ کی جانب سے ان طلبہ کی حمایت کے بعد معاملے پر سیاسی بحث مزید بڑھ گئی۔
کرناٹک کے ہبلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پرہلاد جوشی نے کہا کہ بعض لوگ مسلسل بھارت میں جمہوریت نہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ہر شہری کو اپنی رائے ظاہر کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ ان کے مطابق شہریوں کو اظہار خیال کا حق ملنا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں جمہوریت مضبوط ہے اور آئینی اقدار برقرار ہیں۔
دوسری جانب شیوسینا کے ترجمان سنجے نروپم نے کہا کہ ملک کے لاکھوں لوگ نصیرالدین شاہ کی اداکاری کو پسند کرتے ہیں، لیکن زندگی کے اس مرحلے میں ان کی ایک مختلف شخصیت سامنے آرہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اداکار کے اندر اب انتہا پسندانہ نظریات رکھنے والے سیاسی شخص کی جھلک دکھائی دینے لگی ہے۔ طلبہ کے احتجاج، ادارے میں مبینہ تشدد اور اظہار رائے کی آزادی سے متعلق مختلف مؤقف کے باعث اس معاملے پر سیاسی بحث جاری ہے۔

Related Articles