دہلی کے کالکاجی اجتماعی عصمت دری معاملے پر سپریم کورٹ سخت
امن و قانون کی صورتحال پر سوالات
نئی دہلی، ۔ سپریم کورٹ نے دہلی کے کالکاجی علاقے میں اجتماعی زیادتی کے واقعے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے امن و قانون کی صورتحال اور انتظامی نظام پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ جسٹس جے بی پاردی والا کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ اس واقعے نے 2012 کے نربھیا سانحے کی یاد تازہ کردی ہے اور یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔
عدالت نے معاملے کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے عوامی مقامات کی سکیورٹی میں مبینہ غفلت پر تشویش کا اظہار کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ سکیورٹی میں سنگین لاپروائی کے باعث عوامی مقامات کو خطرناک علاقے بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔عدالت نے کہا کہ اگر پارکوں، بسوں اور دیگر عوامی مقامات پر مناسب روشنی، مؤثر پولیسنگ اور ضروری انتظامی سہولیات کی کمی کے باعث لوگ خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو یہ شہریوں کے حقِ زندگی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت اور انتظامیہ کی اولین ذمہ داری ہے۔سپریم کورٹ نے سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے صرف تشویش کا اظہار یا یکجہتی کا مظاہرہ کرنے پر بھی سخت تبصرہ کیا۔ عدالت نے کہا کہ محض رسمی یا کھوکھلی ہمدردی سے متاثرین کے زخموں پر مرہم نہیں رکھا جا سکتا۔عدالت کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کے اندر قانون کا خوف پیدا ہو اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوامی مقامات کی حفاظت کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائیں۔




