خوراک، غذائی بے اعتدالی اور ماہرین غذا کی رہنمائی
ڈاکٹرسیداقبال ہاشمی
صدر آل انڈیا محمدی مشن ،لکھنؤ
اللہ تعالیٰ نے انسان کو صحت مند جسم، عقل اور قوتِ عمل عطا فرمائی ہے اور صحت کی حفاظت انسان کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ خوراک زندگی کی بنیادی ضرورت ہے، لیکن یہی خوراک اگر مقدار، معیار اور طریقۂ استعمال کے اعتبار سے بے اعتدال ہو جائے تو صحت بخش ہونے کے بجائے بیماریوں کا سبب بن سکتی ہے۔ آج کے دور میں ہماری غذائی عادات میں بہت تبدیلی آئی ہے۔ فاسٹ فوڈ، تلی ہوئی اشیا، بیکری کی مصنوعات، میٹھے مشروبات، زیادہ نمک اور چینی کا استعمال بڑھ گیا ہے، جبکہ جسمانی سرگرمی کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کا نتیجہ موٹاپا، ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض، خون میں چکنائی کی زیادتی، جگر میں چربی اور دیگر کئی بیماریوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔
غذائی بے اعتدالی سے کی
ا مراد ہے؟غذائی بے اعتدالی سے مراد صرف زیادہ کھانا نہیں، بلکہ ضرورت سے کم کھانا، غیر متوازن غذا لینا، بہت زیادہ چکنائی، چینی، گھی، مکھن اور غیر صحت بخش چکنائیوں کا استعمال، نمک اور تلی ہوئی اشیا کا زیادہ استعمال، فاسٹ فوڈ اور میٹھے مشروبات کا کثرت سے استعمال، جبکہ پھل، سبزیوں اور فائبر کا کم استعمال بھی غذائی بے اعتدالی میں شامل ہے۔ کھانے کے اوقات میں بے قاعدگی اور جسمانی سرگرمی کے مقابلے میں زیادہ کیلوریز لینا بھی صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔ اس لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہم کیا کھا رہے ہیں، کتنی مقدار میں کھا رہے ہیں، کتنی بار کھا رہے ہیں اور کس طریقے سے کھا رہے ہیں۔
آج کے دور میں غذائی بے اعتدالی کی بڑی وجوہات:آج فاسٹ فوڈ کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بیکری کی مصنوعات، فرائیڈ چکن، سموسہ، برگر، کچوری اور دیگر تلی ہوئی اشیا وقتی طور پر ذائقے کی تسکین تو فراہم کرتی ہیں، لیکن ان کا بار بار استعمال جسم میں زیادہ کیلوریز، نمک اور غیر صحت بخش چکنائی پہنچاتا ہے۔اسی طرح میٹھے مشروبات بھی غذائی بے اعتدالی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ کولڈ ڈرنکس، میٹھے جوس، انرجی ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات جسم کو ضرورت سے زیادہ چینی اور کیلوریز فراہم کرتے ہیں۔مٹھائیاں، کیک، بسکٹ، چاکلیٹ اور بیکری کی دیگر اشیا کا زیادہ استعمال بھی وزن اور خون میں شوگر کی سطح بڑھانے کا سبب بن سکتا ہے۔اس کے ساتھ جسمانی سرگرمی میں بھی واضح کمی آئی ہے۔ پہلے لوگ زیادہ پیدل چلتے تھے، جسمانی محنت کرتے تھے اور گھریلو کاموں میں بھی زیادہ سرگرمی ہوتی تھی، جبکہ آج گاڑیوں، لفٹ، موبائل فون اور کمپیوٹر کے زیادہ استعمال کی وجہ سے بیٹھنے کا وقت بڑھ گیا ہے اور جسمانی سرگرمی کم ہو گئی ہے۔ایک اور اہم وجہ یہ ہے کہ کھانا بعض اوقات بھوک کے بجائے ذائقے، بوریت یا وقت گزاری کے لیے کھایا جاتا ہے۔ اس طرح انسان آہستہ آہستہ ضرورت سے زیادہ کھانے کا عادی ہو جاتا ہے اور وزن میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔
غذائی بے اعتدالی سے پیدا ہونے والی اہم بیماریاں:غذائی بے اعتدالی سے پیدا ہونے والی اہم بیماریوں میں ذیابیطس ایک اہم بیماری ہے۔ غیر متوازن غذا، زیادہ کیلوریز، وزن میں اضافہ اور جسمانی سرگرمی کی کمی ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ ذیابیطس کا اثر دل، آنکھوں، گردوں اور خون کی نالیوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ اس لیے صرف دوا لینا کافی نہیں، بلکہ غذا، جسمانی سرگرمی اور باقاعدہ طبی نگرانی بھی ضروری ہے۔موٹاپا بھی غذائی بے اعتدالی کا ایک اہم نتیجہ ہے۔ جب انسان اپنی جسمانی ضرورت سے زیادہ کیلوریز لیتا ہے اور جسمانی سرگرمی کم ہوتی ہے تو وزن بڑھنے لگتا ہے۔ موٹاپا ذیابیطس، ہائی بلڈ پریشر، دل کے امراض، بعض اقسام کے سرطان، جوڑوں کے مسائل، نیند میں سانس کی رکاوٹ اور جگر میں چربی جیسے مسائل کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔دل کے امراض میں بھی غذا اور طرزِ زندگی کا اہم کردار ہے۔ زیادہ نمک، غیر صحت بخش چکنائی، ضرورت سے زیادہ کیلوریز اور جسمانی سرگرمی کی کمی دل کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ دل کے مریضوں کو عموماً نمک اور تلی ہوئی اشیا کم استعمال کرنے، مناسب مقدار میں صحت بخش چکنائی، سبزیاں، پھل، ثابت اناج اور مناسب پروٹین استعمال کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔خون میں کولیسٹرول اور ٹرائی گلیسرائیڈز کی زیادتی بھی غذا اور طرزِ زندگی سے متاثر ہوتی ہے۔ زیادہ چینی اور کیلوریز، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور بعض دیگر عوامل خون میں چکنائی کی سطح کو متاثر کر سکتے ہیں اور دل کے امراض کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں۔فیٹی لیور یعنی جگر میں چربی کا جمع ہونا بھی آج کل ایک عام مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ زیادہ وزن، انسولین کے خلاف مزاحمت، ٹائپ۲؍ذیابیطس اور ضرورت سے زیادہ کیلوریز کا استعمال اس سے وابستہ ہو سکتا ہے۔ اس بیماری میں شروع میں اکثر واضح علامات نہیں ہوتیں، اس لیے وزن، خون میں شوگر، خون کی چکنائی اور ضروری ٹیسٹوں کی نگرانی اہم ہے۔ہائی بلڈ پریشر میں بھی زیادہ نمک کا استعمال بعض افراد میں بلڈ پریشر بڑھا سکتا ہے۔ اس لیے کھانے میں نمک کم استعمال کرنا، کھانے پر اضافی نمک نہ چھڑکنا اور اچار و دیگر نمکین اشیا کے استعمال میں احتیاط کرنا ضروری ہے۔غذائی بے اعتدالی نظامِ ہاضمہ کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ بدہضمی، قبض، تیزابیت، سینے کی جلن اور پیٹ میں اپھارہ جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ مناسب مقدار میں فائبر، سبزیاں، پھل اور جسمانی سرگرمی ان مسائل سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔
بچوں پر غذائی بے اعتدالی کے اثرات:بچوں میں فاسٹ فوڈ، بسکٹ، چاکلیٹ، نمکین اشیا اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال، اسکرین ٹائم میں اضافہ اور کھیل کود میں کمی بھی تشویش کا باعث ہے۔ اس طرزِ زندگی سے بچوں میں موٹاپے اور مستقبل میں میٹابولک بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ بچوں کی غذا میں متوازن خوراک اور جسمانی سرگرمی کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
ماہرینِ غذاء کی بنیادی رہنمائی:ماہرینِ غذائیت کے مطابق صحت مند رہنے کے لیے کسی ایک خاص یا جادوئی غذا کی ضرورت نہیں، بلکہ متوازن غذا اور مناسب طرزِ زندگی بنیادی اصول ہیں۔ کھانے میں سبزیوں اور سلاد کا مناسب حصہ، پروٹین کے لیے دال، چنا، لوبیا، مچھلی، انڈا یا مناسب مقدار میں گوشت، جبکہ توانائی کے لیے روٹی، چاول یا دیگر مناسب نشاستہ دار غذائیں شامل ہونی چاہئیں۔ البتہ ذیابیطس، دل، جگر یا کسی دوسری بیماری کے مریض کے لیے غذا کی مقدار اور نوعیت بیماری کے مطابق مقرر کی جانی چاہیے۔غذا میں موسمی سبزیاں، سلاد، مناسب مقدار میں پھل، دالیں، چنے، ثابت اناج، دودھ یا دہی، مچھلی، انڈا، مناسب مقدار میں گوشت اور گری دار میوے شامل کیے جا سکتے ہیں۔ پانی کا مناسب استعمال بھی ضروری ہے۔کولڈ ڈرنکس اور دیگر میٹھے مشروبات، بہت زیادہ مٹھائیاں، تلی ہوئی اشیا، فاسٹ فوڈ، بہت زیادہ نمکین کھانے اور بیکری کی مصنوعات کے زیادہ استعمال سے پرہیز کرنا چاہیے۔
زندگی میں تین چیزوں کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے: متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور پوری و مناسب نیند۔بڑی عمر کے افراد کے لیے بھی غذا کا انتخاب خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ عمر کے ساتھ جسم کی ضروریات اور غذا برداشت کرنے کی صلاحیت میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ انہیں نمک اور مٹھائیوں کے استعمال میں احتیاط، مناسب پروٹین، سبزیاں، پھل، پانی اور ہلکی جسمانی سرگرمی کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہیے۔ اگر کوئی بیماری موجود ہو تو ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت سے مشورہ ضروری ہے۔
ایک عمومی عوامی رہنمائی کے طور پر متوازن غذائی چارٹ:ایک صحت مند فرد کے لیے عمومی طور پر پیر کے دن ناشتے میں دو روٹی، ایک انڈا اور دہی، دوپہر میں دو روٹی، دال اور سبزی، شام میں ایک پھل اور رات میں دو روٹی کے ساتھ سبزی یا دال لی جا سکتی ہے۔ منگل کے دن ناشتے میں مناسب مقدار میں دلیہ یا روٹی کے ساتھ انڈا اور دہی، دوپہر میں مناسب مقدار میں چاول، دال اور سلاد، شام میں ایک پھل اور رات میں دو روٹی کے ساتھ سبزی یا دال لی جا سکتی ہے۔ بدھ کے دن ناشتے میں روٹی، انڈا یا دہی، دوپہر میں دو روٹی کے ساتھ چکن اور سلاد، شام میں پھل اور رات میں دال یا سبزی کے ساتھ روٹی لی جا سکتی ہے۔جمعرات کے دن ناشتے میں دلیہ اور دودھ، دوپہر میں دال، روٹی اور دہی، شام میں پھل اور رات میں دو روٹی کے ساتھ مناسب مقدار میں گوشت اور سبزی لی جا سکتی ہے۔ جمعہ کے دن ناشتے میں روٹی، انڈا اور دہی، دوپہر میں چکن، دو روٹی اور سلاد کے ساتھ پھل، شام میں ایک پھل اور رات میں ہلکی دال یا سبزی کے ساتھ دو روٹی لی جا سکتی ہے۔ ہفتہ اور اتوار کو بھی غذا میں دال، سبزی، روٹی، چاول، مچھلی یا مناسب مقدار میں گوشت، سلاد، دہی اور پھل کو شامل رکھا جا سکتا ہے اور کھانے کی مقدار جسمانی ضرورت کے مطابق ہونی چاہیے۔
اس کے ساتھ بادام، اخروٹ اور دیگر گری دار میوے مناسب مقدار میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ صحت مند فرد مختلف اقسام کے پھل کھا سکتا ہے، جبکہ ذیابیطس کے مریض کو پھل مکمل طور پر چھوڑنے کی ضرورت نہیں، البتہ انگور، کیلا، چیکو اور آم جیسے پھلوں کی مقدار پر خاص توجہ دینی چاہیے۔ امرود، سنگترہ اور پپیتا بھی مناسب انتخاب ہو سکتے ہیں۔
ذیابیطس یا دل کے مریضوں کے لیے غذا کی مقدار ان کی بیماری اور ڈاکٹر یا ماہرِ غذائیت کے مشورے کے مطابق ہونی چاہیے۔ انسولین استعمال کرنے والے مریض کھانا چھوڑنے یا اچانک بہت کم غذا لینے سے پہلے اپنے ڈاکٹر سے مشورہ کریں۔ دل کے مریض اچار اور بہت زیادہ نمکین اشیا سے احتیاط کریں، جبکہ موٹاپے کے شکار افراد سبزیوں اور سلاد کا استعمال بڑھائیں اور مٹھائیوں، تلی ہوئی اور زیادہ کیلوریز والی غذاؤں کو کم کریں۔یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ متوازن غذا صحت مند زندگی کی بنیاد ہے۔ دل، گردے، جگر یا کسی دوسری بیماری کے مریض، نیز بہت زیادہ تلی ہوئی اشیا اور نمک استعمال کرنے والے افراد، اپنی غذا کی مقدار اور نوعیت کو اپنی بیماری، وزن اور طبی رپورٹس کے مطابق رکھیں۔ ایک اصول ہمیشہ سامنے رہنا چاہیے کہ غذا بیماری کے مطابق اور غذا کی مقدار مریض کے مطابق ہونی چاہیے۔ صحت کی حفاظت صرف دوا سے نہیں بلکہ درست غذا، مناسب جسمانی سرگرمی، اچھی نیند اور متوازن طرزِ زندگی سے بھی ممکن ہے۔



