گیارہویں شریف — غوثِ اعظمؒ کی تعلیمات اور عصرحاضر کا پیغام
مولاناقاری محمدیوسف عزیزی قادری
(بانی وناظم جامعۃ ا
لقراء،کھدرا ،لکھنؤ)
مسلمانوں کی روحانی اور تہذیبی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی گزری ہیں جن کا فیض کسی ایک زمانے، علاقے یا طبقے تک محدود نہیں رہا۔ ان کی زندگی علم، عمل، تقویٰ، اصلاحِ نفس اور خدمتِ خلق کا ایسا روشن نمونہ بن گئی جس سے صدیوں بعد بھی انسان رہنمائی حاصل کرتا ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی عظیم المرتبت شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ عالمِ دین، واعظ، فقیہ، زاہد اور صاحبِ نسبت بزرگ کی حیثیت سے اسلامی تاریخ میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آپ کی نسبت سے قائم ہونے والی قادری روایت نے دنیا کے مختلف خطوں میں روحانی اور اخلاقی تربیت کے میدان میں گہرا اثر چھوڑا۔ تاریخی طور پر آپ کا تعلق جیلان سے تھا اور آپ نے بغداد میں علمی و دینی زندگی کا بڑا حصہ گزارا، جہاں آپ کی وعظ و تدریس نے وسیع حلقۂ اثر پیدا کیا۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کو عام طور پر غوثِ اعظم، پیرانِ پیر اور محی الدین جیسے القاب سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی شخصیت کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ ان کے ہاں شریعت اور روحانیت ایک دوسرے سے جدا نہیں تھیں۔ علم کے بغیر روحانیت کو ناقص اور عمل کے بغیر علم کو بے اثر سمجھنے کا مزاج ان کی تعلیمات میں نمایاں نظر آتا ہے۔ ان کی معروف تصنیف ’’الغنیۃ‘‘ اور ان سے منسوب خطبات و مواعظ میں عبادات، اخلاق، ذکر، توبہ، نفس کی اصلاح اور انسانی کردار کی تعمیر پر خصوصی زور ملتا ہے۔
گیارہویں شریف اسی عظیم بزرگ سے عقیدت و محبت کی ایک معروف روایت ہے۔ ربیع الآخر کی گیارہویں تاریخ کو برصغیر کے مختلف علاقوں میں قرآن خوانی، ذکر و اذکار، نعت و منقبت، دعا، صدقہ، نیاز اور ایصالِ ثواب کی مجالس منعقد کی جاتی ہیں۔ اس روایت کی بنیاد حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی یاد اور ان کے لیے ایصالِ ثواب سے جوڑی جاتی ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات 561 ہجری میں بغداد میں ہوئی؛ تاریخِ وصال کے تعین میں تاریخی مآخذ کے درمیان کچھ اختلاف بھی ملتا ہے، تاہم ربیع الآخر کی گیارہویں تاریخ ان کی نسبت سے برصغیر کی مذہبی روایت میں خاص شہرت رکھتی ہے۔
گیارہویں شریف کی اصل روح کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ یہ محض ایک رسم یا مخصوص کھانے کا نام نہیں۔ اس کا حقیقی مقصد اللہ تعالیٰ کی یاد، قرآن مجید کی تلاوت، درود و سلام، دعا، صدقہ، نیکی اور ایصالِ ثواب کے ذریعے اپنے دل کو خیر کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ کسی بزرگ کی یاد منانے کا سب سے خوب صورت طریقہ یہ ہے کہ ان کی زندگی اور تعلیمات کو سمجھا جائے اور پھر اپنے کردار میں ان کا عکس پیدا کیا جائے۔ اگر محفل ختم ہونے کے بعد انسان کی زبان میں جھوٹ، دل میں کینہ، معاملات میں خیانت اور معاشرے میں ظلم باقی رہے تو صرف ظاہری اہتمام اس روحانی نسبت کا حق ادا نہیں کرسکتا۔
حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا سب سے نمایاں پہلو علم اور عمل کا امتزاج تھا۔ وہ ایسے دور میں سامنے آئے جب علمی مراکز میں فقہ، حدیث، تفسیر اور دیگر علوم کی بڑی سرگرمیاں جاری تھیں۔ انہوں نے علمی تربیت حاصل کی اور بغداد میں تدریس و وعظ کے ذریعے لوگوں کی اصلاح کی۔ تاریخی و تحقیقی مآخذ انہیں حنبلی فقہ کے عالم اور مؤثر واعظ کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ ان کی شخصیت میں فقہی علم اور روحانی تربیت کا امتزاج ان کے اثر و رسوخ کی ایک اہم وجہ بنا۔
ان کی تعلیمات کا ایک بنیادی پیغام تقویٰ ہے۔ تقویٰ صرف ظاہری عبادات کا نام نہیں بلکہ انسان کے اندر اللہ تعالیٰ کی جواب دہی کا احساس پیدا ہونے کا نام ہے۔ آدمی تنہائی میں بھی وہی کام کرے جسے لوگوں کے سامنے کرنے میں شرم محسوس نہ ہو، حلال و حرام کی تمیز کو اپنے معاملات میں زندہ رکھے اور اپنے نفس کی خواہشات کو شریعت و اخلاق کا پابند بنائے، یہی حقیقی تقویٰ ہے۔ آج جب مادّی کامیابی کو زندگی کی سب سے بڑی کامیابی سمجھنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، غوثِ اعظمؒ کی تعلیمات انسان کو یاد دلاتی ہیں کہ اصل کامیابی کردار، پاکیزگی اور اللہ سے تعلق میں ہے۔
حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات میں توبہ اور اصلاحِ نفس کو بھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ انسان سے غلطی ہوسکتی ہے، لیکن غلطی پر اصرار انسان کو اندر سے کمزور کردیتا ہے۔ توبہ انسان کو مایوسی سے نکال کر اصلاح کی طرف لے جاتی ہے۔ آج کا معاشرہ غصے، انتقام، حسد، مقابلہ آرائی اور انا کے مسائل سے دوچار ہے۔ ایسے ماحول میں روحانی تربیت کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا سے کٹ جائے، بلکہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے اخلاق کو بہتر بنائے۔
ان کی تعلیمات کا ایک اہم پہلو خدمتِ خلق بھی ہے۔ حقیقی روحانیت انسان کو دوسروں کے دکھ درد سے بے نیاز نہیں کرتی بلکہ اسے زیادہ حساس اور ذمہ دار بناتی ہے۔ غریب کی مدد، محتاج کی دست گیری، یتیم کی خبرگیری، بھوکے کو کھانا، کمزور کے ساتھ حسنِ سلوک اور ضرورت مند کے احترام جیسے اعمال ہی اس روحانی فکر کو معاشرتی زندگی میں منتقل کرتے ہیں۔ قادری سلسلہ وروایت سے متعلق معاصر مواد بھی حضرت غوثِ اعظمؒ کی تعلیمات میں انسانی خدمت، علم، ذکر اور تزکیۂ نفس کو نمایاں موضوعات کے طور پر پیش کرتا ہے۔
آج گیارہویں شریف کے موقع پر ہمیں اپنے معاشرے کے ایک بڑے مسئلے کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے اور وہ ہے مذہبی جذبات اور عملی کردار کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ۔ ہم بزرگوں سے محبت کا اظہار تو کرتے ہیں لیکن ان کے اخلاق اپنانے میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ ہم ان کے نام کی محفل سجاتے ہیں لیکن ان کی سچائی، دیانت، عاجزی، سخاوت اور خدمت کے پیغام کو اپنی زندگی میں جگہ نہیں دیتے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ گیارہویں شریف ہمارے لیے ایک دن کی محفل کے بجائے پورے سال کی اخلاقی تربیت کا آغاز بنے۔
خصوصاً نوجوان نسل کے لیے حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں ایک بڑا سبق موجود ہے۔ آج کا نوجوان کامیابی چاہتا ہے، لیکن کامیابی کے راستے میں فوری نتائج، شہرت اور مادّی فائدے کا دباؤ بھی موجود ہے۔ غوثِ اعظمؒ کی زندگی بتاتی ہے کہ علم حاصل کرنا، استاد کا احترام کرنا، محنت کرنا، نفس کی تربیت کرنا اور اصولوں پر قائم رہنا ہی پائیدار شخصیت کی بنیاد بنتا ہے۔ علم صرف معلومات جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ انسان کے کردار کو سنوارنے کا ذریعہ بھی ہے۔
اسی طرح موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو آسان کردیا ہے، مگر زبان اور قلم کی ذمہ داری کو کم نہیں کیا۔ حضرت غوثِ اعظمؒ کی وعظی روایت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصلاح کا مقصد کسی کو ذلیل کرنا نہیں بلکہ انسان کو بہتر بنانا ہے۔ اختلاف ہو تو تہذیب کے ساتھ، نصیحت ہو تو خیر خواہی کے ساتھ اور تنقید ہو تو انصاف کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اگر مذہبی نسبت ہمارے لہجے میں نرمی، معاملات میں دیانت اور دوسروں کے حقوق کے احترام کو پیدا نہیں کرتی تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
گیارہویں شریف کے موقع پر ایصالِ ثواب بھی اسی وسیع تر نیکی کا حصہ بن سکتا ہے۔ قرآن خوانی، ذکر، درود، دعا، صدقہ اور ضرورت مندوں کی مدد جیسے اعمال کے ذریعے انسان اپنے مرحومین اور بزرگانِ دین کے لیے ثواب پہنچانے کی نیت کرسکتا ہے۔ اہلِ علم نے ایصالِ ثواب کی مختلف صورتوں پر تفصیلی گفتگو کی ہے، جبکہ ربیع الآخر کی گیارہویں تاریخ کو خصوصی اجتماع اور اس کی مخصوص صورتوں کے بارے میں فقہی آرا میں اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ اس لیے اس معاملے میں ادب، اعتدال اور دوسرے مسلمانوں کے دینی معمولات کا احترام بھی ضروری ہے۔ اصل توجہ نیکی، دعا، ذکر اور اصلاحِ کردار پر رہنی چاہیے۔
حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کا سب سے بڑا پیغام یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ انسان اپنے ظاہر کے ساتھ اپنے باطن کی بھی اصلاح کرے۔ نماز صرف جسم کی حرکت نہ بنے بلکہ دل کو اللہ سے جوڑے، روزہ صرف بھوک پیاس نہ ہو بلکہ نفس کی تربیت کرے، علم صرف زبان پر نہ رہے بلکہ عمل میں ظاہر ہو اور عبادت انسان کے اخلاق کو بہتر بنائے۔ یہی وہ روح ہے جو مذہبی اعمال کو انسانی زندگی کے لیے بامعنی بناتی ہے۔
آج جب معاشرہ اخلاقی انتشار، معاشی پریشانی، خاندانی کمزوری، نوجوانوں میں بے مقصدیت اور باہمی عدم اعتماد جیسے مسائل سے گزر رہا ہے، حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کو محض ماضی کی داستان سمجھنا درست نہیں۔ ان کا پیغام آج بھی زندہ ہے، کیونکہ سچائی، امانت، تقویٰ، علم، عاجزی، خدمتِ خلق اور اصلاحِ نفس کسی ایک دور کی ضرورت نہیں بلکہ ہر زمانے کی بنیادی ضرورت ہیں۔
گیارہویں شریف ہمیں یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ ہم محبت کو عمل میں تبدیل کریں۔ غوثِ اعظمؒ سے عقیدت کا بہترین ثبوت یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں میں نماز اور قرآن کا ماحول پیدا کریں، اپنے معاملات میں دیانت اختیار کریں، والدین اور اساتذہ کا احترام کریں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں، غریب اور ضرورت مند کو تنہا نہ چھوڑیں، اپنی زبان کو جھوٹ اور غیبت سے محفوظ رکھیں اور اپنے دل کو تکبر و نفرت سے پاک کرنے کی کوشش کریں۔
حقیقت یہ ہے کہ بزرگوں کی یاد کا سب سے روشن چراغ ان کے افکار و اعمال کی پیروی ہے۔ گیارہویں شریف اگر ہمیں صرف ایک دن کی محفل سے نکال کر پورے سال کی اصلاح، عبادت، خدمت اور اخلاق کی طرف لے جائے تو یہ نسبت ہمارے لیے حقیقی معنوں میں باعثِ خیر بن سکتی ہے۔ حضرت غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی ہمیں یہی دعوت دیتی ہے کہ علم کو عمل سے، عبادت کو اخلاق سے، روحانیت کو خدمتِ خلق سے اور محبت کو کردار سے جوڑا جائے۔
آئیے اس گیارہویں شریف پر صرف نیاز تقسیم کرنے اور محفل منعقد کرنے تک محدود نہ رہیں بلکہ اپنے اندر ایک نیا عہد پیدا کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت سے وابستگی، صالحین کی محبت، اپنے نفس کی اصلاح، مخلوقِ خدا کی خدمت اور ہر معاملے میں سچائی و دیانت اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ یہی غوثِ اعظم رحمۃ اللہ علیہ کی نسبت کا وہ پیغام ہے جو آج کے انسان کو بھی اندھیروں سے نکال کر علم، کردار، محبت اور انسانیت کی روشنی کی طرف لے جاسکتا ہے۔




