لکھنؤ:وزیراعلیٰ یوگی نے کیایو پی سی او ایس کا افتتاح

کہا اس نظام کے نافذ ہونے کے بعد آؤٹ سورس ملازمین کا استحصال نہیں کیا جا سکے گا

نائب وزرائے اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور برجیش پاٹھک بھی موجود، آؤٹ سورس ملازمین کے استحصال پر روک لگانے کا اعلان
لکھنؤ، اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بدھ کے روز اترپردیش آؤٹ سورس سروس کارپوریشن (یو پی سی او ایس) کا افتتاح کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نظام کے نافذ ہونے کے بعد آؤٹ سورس ملازمین کا استحصال نہیں کیا جا سکے گا۔ مکمل آؤٹ سورس انسانی وسائل کے انتظام کو ڈیجیٹل طور پر مربوط کرنے کے مقصد سے کارپوریشن کے آغاز کے ساتھ اس کے پورٹل اور ویب سائٹ کی بھی لانچنگ کی گئی۔ اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ اور برجیش پاٹھک بھی موجود تھے۔ وزیر اعلیٰ نے پروگرام میں مستفیدین کو ڈیمو چیک بھی تقسیم کیے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ سابقہ سماج وادی پارٹی حکومت میں ’’سیفئی سنڈیکیٹ‘‘ لوگوں کا خون چوسنے کا کام کرتا تھا۔ اب آؤٹ سورس ملازمین کو ان کا حق ملے گا اور کوئی بھی ان کا استحصال نہیں کر سکے گا۔
یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے نو برسوں میں اترپردیش نے ترقی کا جو سفر طے کیا ہے، وہ ان تمام ملازمین کی محنت سے ممکن ہوا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ملازمین کو ان کی محنت اور وقار کے مطابق عزت بھی حاصل ہو۔ اترپردیش آؤٹ سورس سروس کارپوریشن اسی وقار کو قائم کرنے کی حکومت کی کوشش ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے آؤٹ سورس کا نظام تین حصوں میں تقسیم تھا، جن میں ملازم، ایجنسی اور حکومت شامل تھے۔ اکثر ملازم کو اپنی شکایت کے لیے مختلف دروازوں پر جانا پڑتا تھا اور مسئلہ پیدا ہونے پر اس کی سماعت کرنے والا کوئی نہیں ہوتا تھا۔ حکومت اور ملازم کے درمیان صرف تنخواہ اور ڈیوٹی کا رشتہ نہیں ہوسکتا، بلکہ یہ اعتماد کا رشتہ بھی ہونا چاہیے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ملازم کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ اس کے اچھے کام کا ریکارڈ محفوظ کیا جا رہا ہے، اس کی شکایات سننے کے لیے ایک باقاعدہ نظام موجود ہے اور وہ خود کو تنہا محسوس نہ کرے۔ اسے وقت پر تنخواہ ملے، مستقبل کی پیشہ ورانہ بچت (پی ایف( اور انشورنس محفوظ رہے اور اسے اس کی محنت کے مطابق معاوضہ ملے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اس جانب مناسب توجہ نہیں دی جاتی تھی۔یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ سماجی امتیاز ختم کرنے کے لیے معاشی امتیاز کو بھی ختم کرنا ضروری ہے۔ ریاست میں ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ آؤٹ سورس ملازمین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھی حکمرانی کی پہلی شرط حساسیت ہے۔انہوں نے بتایا کہ نئے نظام کے تحت کسی ملازم کو اس کا حق کسی فرد کی مہربانی سے نہیں بلکہ مقررہ نظام کے تحت ملے گا۔ تمام ضروری معلومات پورٹل پر دستیاب ہوں گی۔ حکومت اس کارپوریشن کے ذریعے تقریباً 20 لاکھ افراد کو سماجی و مالی تحفظ کا حصار فراہم کرنا چاہتی ہے۔نئے نظام کے تحت محکمہ، آؤٹ سورسنگ ایجنسی اور ملازم تکنیکی طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہوں گے۔ بھرتی کا عمل آن لائن ہوگا اور ریاستی حکومت کی ریزرویشن پالیسی نافذ کی جائے گی۔ ملازم کی سروس تفصیلات، بینک اکاؤنٹ اور دیگر ضروری معلومات ایک ہی پورٹل پر دستیاب ہوں گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ہر ماہ 5 تاریخ تک ملازم کے بینک اکاؤنٹ میں معاوضہ منتقل کرنا لازمی ہوگا۔ مستقبل کی پیشہ ورانہ بچت (پی ایف) کی رقم حکومت الگ سے فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کوئی آؤٹ سورسنگ کمپنی من مانی طور پر کسی ملازم کو ملازمت سے نہیں نکال سکے گی۔ اس کے لیے پہلے حکومت کو اطلاع دینا ہوگی اور معاملے کی جانچ کی جائے گی۔ اگر ملازم پر لگائے گئے الزامات غلط پائے گئے تو ایجنسی اسے ملازمت سے برطرف نہیں کر سکے گی۔

نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ اب آؤٹ سورسنگ کے ذریعے ملازمت کرنے والے افراد سے غیر قانونی وصولی نہیں کی جا سکے گی اور انہیں مکمل معاوضہ ملے گا۔ اگر کوئی آؤٹ سورسنگ کمپنی بے ضابطگی کرے گی تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔سیاسی بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس موقع پر سیاسی گفتگو نہ ہو تو مناسب نہیں ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جہاں بی جے پی کی حکومت بنتی ہے، وہاں بار بار بنتی ہے اور اترپردیش میں بھی بی جے پی تیسری مرتبہ حکومت بنائے گی۔نائب وزیر اعلیٰ برجیش پاٹھک نے پروگرام میں موجود نوجوانوں سے اودھی زبان میں خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ یوگی حکومت عوام کی ضرورت اور توقعات کے مطابق چل رہی ہے۔ انہوں نے سابقہ سماج وادی پارٹی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ’’بھیا‘‘ کی حکومت گھر سے چلتی تھی۔

پاٹھک نے کہا کہ لوگوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا کہ آؤٹ سورس کے تحت ملازمت کرنے والوں کی ملازمت کو تحفظ مل سکے گا، لیکن وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے ان کی فکر کی ہے۔ انہوں نے آؤٹ سورس ملازمین سے اپیل کی کہ وہ بھی پوری محنت اور لگن کے ساتھ کام کریں۔

 

Related Articles