معروف صحافی وید پرتاپ ویدک انتقال کر گئے

نئی دہلی، مارچ۔معروف صحافی اور مصنف وید پرتاپ ویدک کا منگل کو دارالحکومت سے متصل گروگرام میں واقع ان کی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا۔ان کی عمر 78 برس تھی۔ مسٹر ویدک پوری طرح صحت مند تھے۔ ان کے پرسنل اسسٹنٹ کے مطابق وہ صبح نو بجے کے قریب ممکنہ طور پر دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے باتھ روم میں گرے۔ بعد میں انہیں باتھ روم کا دروازہ توڑ کر باہر نکالا گیا اور اس کے فوراً بعد انہیں گھر کے قریب واقع اسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دے دیا۔ خاندانی ذرائع کے مطابق ان کی آخری رسومات اندور میں ادا کی جائیں گی۔مسٹر ویدک 30 دسمبر 1944 کو اندور، مدھیہ پردیش میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی سے بین الاقوامی سیاست میں پی ایچ ڈی کی۔ انہوں نے تقریباً چار سال دہلی میں پولیٹیکل سائنس بھی پڑھایا۔ وہ فلسفہ اور سیاسیات میں بھی دلچسپی رکھتے تھے۔ راجندر ماتھر، پربھاش جوشی کی نسل کے آخری شخصیت تھے۔ مسٹر ویدک نے افغانستان پر تحقیق کی اور 50 سے زیادہ ممالک کا سفر کیا۔مسٹر ویدک، جو نیوز ایجنسی پی ٹی آئی بھاشا، نوبھارت ٹائمز، جن ستا میں اعلیٰ ادارتی عہدوں پر فائز رہے، 26 نومبر 2008 کے ممبئی حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور لشکر طیبہ کے دہشت گرد حافظ سعید کا انٹرویو لینے کی وجہ سے مشہور ہوئے۔ حافظ سعید کے انٹرویو کے بعد پورے ملک میں کھلبلی مچ گئی اور دو اراکین پارلیمنٹ نے انہیں گرفتار کرنے اور غداری کا مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا۔ اس پر مسٹر ویدک نے بڑی ڈھٹائی سے کہا تھاکہ ‘صرف دو ایم پیز ہی نہیں، پورے 543 ایم پیز کو ‘اتفاق رائے’ سے قرارداد پاس کرکے مجھے پھانسی پر لٹکانا چاہیے۔ میں ایسی پارلیمنٹ پر تھوکتا ہوں۔راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نے مسٹر ویدک کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ سنگھ نے کہا کہ ہندی کو قومی زبان بنانے میں ہمیشہ یقین رکھنے والے عظیم مفکر اور انگریزی ہٹاؤ آندولن کے علمبردار، نامور ادیب، صحافی اور سیاسی مفکر مسٹر ویدک کا انتقال ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔نیشنل یونین آف جرنلسٹ (این یو جے) کے صدر راس بہاری نے مسٹر ویدک کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہندی میں ایسے بہت سے الفاظ کہے جن کا انگریزی الفاظ سے مقابلہ ہوتا تھا۔ ان کے بنائے ہوئے ہندی الفاظ آج بھی تحریر میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں۔

Related Articles