آتشی نے کیجریوال حکومت کی ترقی سے دنیا کو کرایا روبرو

نئی دہلی، مئی۔ عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کی سینئر لیڈر اور ایم ایل اے آتشی نے سویڈن کے مالمو سربراہ کانفرنس میں آئی سی ایل ای آئی ورلڈ کانگریس 2022 سے خطاب کرتے ہوئے دہلی میں کیجریوال حکومت کی جانب سے کی گئی ترقی سے دنیا کو بروبروکرایا۔ دہلی ماڈل کے تحت ریاست کی تبدیلی کے بارے میں بات کرتے ہوئے، محترمہ آتشی نے کہا کہ اگر تین کروڑ باشندوں کا شہر دہلی انصاف اور شمولیت کی طرف بڑھ سکتا ہے، تو میرا ماننا ہے کہ دنیا کا ہر شہر ایسا کر سکتا ہے۔ دہلی نے پچھلے سات سالوں میں دکھادیا ہے کہ تین کروڑ لوگوں کا شہر اقتصادی ترقی کے ساتھ انصاف، شمولیت اور پائیداری کی طرف کوشش کر سکتا ہے۔ گزشتہ چار سالوں سے دارالحکومت کے سرکاری اسکولوں کے نتائج پرائیویٹ سکولوں سے بہتر ر ہے ہیں۔ دہلی کی فی کس آمدنی ملک کے باقی حصوں سے تین گنا زیادہ ہے اور ریاست کی جی ڈی پی گزشتہ دہائی میں 150 فیصد بڑھی ہے۔ دہلی حکومت اپنی موثر بجٹ مینجمنٹ پالیسیوں اور مالیاتی سمجھداری کے ساتھ سرکاری سبسڈی کے ساتھ تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔ ایم ایل اے آتشی نے کہا کہ جیسا کہ ہم آج مالمو سربراہی اجلاس میں مساوات اور شمولیت پر بات کرنے کے لیے یکجا ہوئے ہیں، ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم عدم مساوات کی دنیا میں رہتے ہیں۔ دنیا میں ہر تین میں سے ایک کے پاس پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں ہے۔ سال 2022 میں دنیا میں 20 کروڑ سے زیادہ لوگ بے روزگار ہونے جا رہے ہیں۔ دنیا کی 85 فیصد آبادی کے پاس دنیا کی ایک فیصد آبادی کے لئے دستیاب وسائل کا نصف بھی نہیں ہے۔ خاص طور پر دنیا کے جنوب میں واقع شہروں کو اس دنیا کی سب سے بڑی عدم مساوات کا سامنا ہے۔ دنیا بھر کے شہروں میں رہنے والے بہت سے لوگ پانی، بجلی، صفائی، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات تک رسائی سے محروم ہیں۔ یہ عدم مساوات اور اختلافات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں کیونکہ شہروں میں آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ ہم مزید مساوی اور جامع شہر بنانا چاہتے ہیں۔ ہم سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ کیا اقتصادی ترقی کی قیمت پر انصاف، شمولیت اور پائیداری آئے گی؟ ان کا مزید کہنا تھا کہ جو سرکاری اسکول 2015 میں خستہ حال نظر آ رہے تھے۔ آج سات سال کی عدم مساوات کے بعد یہ اسکول ملک کے کسی بھی نجی اسکول سے بہتر نظر آتے ہیں۔ آج شہر کی تمام آبادی میں ’محلہ کلینک‘ کے نام سے بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے مراکز موجود ہیں جہاں شہری ایک مستند ڈاکٹر سے مفت مشورہ اور مفت ٹیسٹ اور ادویات حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے پانچ سالوں میں پانچ کروڑ سے زیادہ لوگوں نے کونسلنگ لی ہے۔ اب ہمارے پاس ہفتے میں ساتوں دن، چوبیس گھنٹے بجلی ہے اوریہ ملک میں سب سے کم بجلی کی شرح ہے۔ 1500 سے زیادہ رہائشی علاقوں میں پہلی بار پائپ سے پانی کی سپلائی کی گئی ہے۔ ایم ایل اے نے مزید کہا کہ ہر سال دہلی حکومت نے اپنی آمدنی میں اضافہ کیا ہے اور ریونیو-سرپلس بجٹ رکھا ہے۔ دہلی کی فی کس آمدنی ملک کے دیگر حصوں سے تین گنا زیادہ ہے۔

Advertisement
Advertisement

Related Articles