عمران کی بیوقوفیوں سے پھر ٹوٹے گا پاک

 

آر کے سنہا

Advertisement

عمران خان کچھ ہل سے گئے لگتے ہیں۔اب ان کی سرکار نے پاکستا ن کا ایک نیا نقشہ جاری کرتے ہوئے گجرات کے جونا گڑھ اور سر کریک لائن کو بھی پاکستان کا حصہ بتا دیا ہے۔ وہ اپنے کو بار بار بیوقوف ثبات کرنے پر آمادہ ہو گئے لگتے ہیں۔ وہ خود کو تاریخ کا طالب علم کہتے ہیں مگر لگتا ہے کہ انہیں کوئی تاریخ بنیاد معلومات بھی نہیں ہے۔ حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ انہیں اتنا بھی نہیں معلوم کہ جونا گڑھ میں ریفرینڈم تک ہو چکا ہے ۔ یہ 1948 میں ہوا تھا اور وہاں کے 99.95فیصد لوگوں نے بھارت کے ساتھ ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔

آگے بڑنے سے پہلے ذرا یہ جان لیں کہ کیا ہے جونا گڑھ؟ یہ گجرات کے گرنار پہاڑی کے قریب واقع ہے۔ یہیں ہڑپا سے قبل کے دور کے مقام کی کھدائی بھی ہوئی ہے۔ اس ہر کی تعمیر نویں صدی میں ہوئی تھی۔یہ حقیقیتاً چوڑا سم راجپوتوں کی راجدھانی تھی۔ یہ ایک ریاست تھی۔ گرنار کے راستے میں ایک گہرے رنگ کی بسالٹ یا کسوٹی کے پتھر کی چٹان ہے جس پر تین بادشاہوں کے خاندان کی نمائندگی کرنے والا پتھر موجود ہے۔ موریہ حکمراں اشوک(تقریباً260-238قبل مسیح) رودر دامن(150عیسوی) اور اسکند گپت(تقریبا455-467) یہاں 00-700عیسوی کے دوران بودھو ں کے ذریعہ بنائی گئی گپھاوں کے ساتھ ایک کھمبا بھی ہے ۔ جونا گڑھ شہر کے نزدیک واقع ایک مندر اور مسجد بھی اس کے لمبی اور مشکل تاریخ کو ظاہری کرتی ہیں۔ یہاں تیسری صدی قبل مسیح کی بودھ گپھائیں،پتھر پر نقش سمراٹ اشوک کا حکمنامہ اور گرنار پہاڑ کی چوٹیوں پر کہیں کہیں جین مندر واقع ہیں۔15ویں صدی تک راجپوتوں کا گڑھ رہے جونا گڑھ پر 1472میں گجرات کے محمود بیگڑھا نے قبضہ کر لیا جنہوں نے اسے مصطفیٰ آباد نام دیا اور یہاں ایک سجد بنوائی جو اب گھنڈر ہو چکی ہے۔

جونا گڑھ اور بھٹو کنبہ

اب ذرا لوٹتے ہیں تازہ تاریخ پر۔ جونا گڑھ کا تعلق پاکستان کے دو وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو سے رہا ہے ۔ بھٹو کے والد سر شاہنواز بھٹو ملک کی تقسیم سے پہلے جونا گڑھ ریاست کے وزیر اعظم تھے ۔ وہ گجرات کے نواب محمد مہابت خنجی کے خاص تھے۔ ذوالفقار علی احمد بھٹو کی ماں ہندو تھی۔ ان کا نکاح سے پہلے کا نام لکھی بائی تھا۔ بعد میں ہو گیا خورشید بیگم۔وہ بنیادی طور پر ایک معروف راجپوت خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ انہوں نے نکاح کرنے سے پہلے ہی اسلام قبول کیا تھا۔ کہنے ووالے کہتے ہیں کہ شاہنواز اور لکھی بھائی کے درمیان پہلے ملاقات جونا گڑھ کے نوا کے قلعے میں ہی ہوئی۔ وہاں پر لکھی بائی بھج سے آئی تھیں۔ شاہ نواز جونا گڑھ کے وزیر اعطم کے عہدے پر 30مئی 1947سے لے کر 8نومبر1947تک رہے۔ لکھی بھائی کے والد جے راج سنگھ جڈیجہ کا تعلق راج کوٹ کے پینیلی گاوں سے تھا۔ اب آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ جونا گڑھ کا کس طرح سے تعلق ہے بھٹو کے کنبے سے۔

در اصل ملک کی تقسیم کے بعد بھارت سرکار جونا گڑھ کے نواب محمد مہابت خنجی سے بار بار کہ رہی تھی کہ وہ بھارت کے ساتھ انضمام نامہ پر دستخط کر کے بھارت کی یونین کا حصہ بن جائیں لیکن وہ بضد تھے ۔ بھارت سرکار نے انہیں دھمکیاں بھی دیں لیکن وہ نہیں مانے ۔ بتا دیں کہ جونا گڑھ کی تین طرف کی سرحدیں بھارت سے جڑی ہیں او چوتھی سمندر سے۔ پھر بھی جونا گڑھ کے نواب کی خواہش تی کہ جونا گڑھ پاکستان میں سمندر کے راستے مل جائے ۔ محمد علی جنا ح نے منظوری بھی دے دی تھی اور 15ستمبر ،1947 کو انضمام نامے پر جونا گڑھ کے تعلق سے دستخط بھی کر دیئے ۔ بھارت سرکار کے سکریٹری وی پی مینن نے نواب کو اپنا فیصلہ بدنے کو کہا تاکہ پاکستان کے ساتھ ہوئے سمجھوتے رد ہو جائیں لیکن نواب نہیں ماے۔ تب بھارت نے جونا گڑھ کے لئے اپنی تمام سرحدوں کو بند کر دیا۔ مال ،ٹرانسپورٹ اور ڈاک اشیاکی آمد و رفت بند کر دی۔ صورت حال خراب ہوتے دیکھ کر نواب اور ان کے خاندان نے جونا گڑھ چھوڑ دیا اور 25اکتوبر 1947کو سمندر کے راستے کراچی فرار ہو گئے۔

اب جونا گڑھ کے وزیر اعظم بھٹو، جو ذوالفقار علی بھٹو کے والد اور بے نظیر کے داد ا تھے نے پاکستان میں چلے گئے نواب کو ایک خط لکھا۔ جوابی ٹیلی گرام میں جونا گڑھ کے نواب نے بھٹو کو یہ اختیار دیا کہ وہ مسلمانوں کے مفاد میں فیصلہ لے لیں۔ تب بھٹو نے بھارت سرکار کے ساتھ مشورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے جونا گڑھ

آخر میں یہ طے ہوا کہ بھارت جونا گڑھ کے شہریوں کی زندگی کے تحفظ کے لئے اقتدار اپنے ہاتھ میں لے گی اور وہاں فروری 1948میں ایک ریفرینڈم کا انعقاد کرے گی۔ اس ریفرینڈم میں 99فیصد سےے بھی زیادہ لوگوںنے بھارت میں شامل ہونے کے لئے ووٹنگ کی ۔ اس کے ساتھ ہی جونا گڑھ پوری طرح سے بھارت کا اٹوٹ حصہ ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ جونا گڑھ کے نواب کو آخر کار پاکستان میں جا کر آباد ہونا بہت ہی مہنگا ثابت ہوا تھا۔ پاکستان میں ان کی جم کر بے قدر ہوئی ۔ پھر وہ بھارت اور جونا گڑھ کو یاد کرتے ہوئے دنیا سے وداع ہو ئے۔ تو یہ ہے جونا گڑھ کی حالیہ تاریخ۔ یعنی جونا گڑھ بھارت کا اٹوٹ حصہ ہے ۔ اب اچانک سے عمران خان بکواس کر رہے ہیں کہ جونا گڑھ تو ان کا ہے ۔

تو پھر ٹوٹے گا پاکستان

کہتے ہیں جو وگ شیشے کے گھروں میں رہتے ہیں وہ دوسروں پر پتھر نہیں پھینکا کرتے ۔ عمران خان جموں و کشمیر لیہہ لداخ اور گجرات کے جونا گڑھ اور سر کریک لائن کو بھی پاکستان کا حصہ بتا رہے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ وہ پہلے بلوچستان کو اپنے ملک سے الگ ہونے سے بچا لیں۔ وہاں پر شدید علیحدگی پسند تحریک چلا رہے ہیں۔ عمران خان کو اسکی پل پل کی معلومات ہے۔ پچھلے کچھ برسوں سے چل رہی علیحدگی پسند کی تحریک اب بے قابو ہوتی جا رہی ہے ۔تحریک اس لئے ہو رہی ہے کیونکہ مقامی عوام کا الزام ہے کہ چین جو بھی سرمایہ کاری ان کے علاقے میں کر رہا ہے اس کا اصلی مقصد بلوچستان کا نہیں بلکہ چین کافائدہ کرنا ہے ۔بلوچستان کی کالعدم تنظیموں نے دھمکی دی ہے کہ چین سمیت دوسرے ملک گوادر میں اپنا پیسہ برباد نہ کریں، دوسرے ممالک کو بلوچستان کی قدرتی دولت کو لوٹنے نہیں دیا جائے گا۔ ان تنظیموں نے بلوچستان میں کام کر رہے چینی انجینئروں پر اپنے حملے بڑھا دیئے ہیں۔

بلوچستان کے عوام کا کہنا ہے کہ جیسے 1971میں پاکستان سے کٹ کر بنگلہ دیش بن گیا تھا سی طرح ایک دن بلوچستان الگ ملک بن جائے گا ۔ بلوچستان کے لوگ کسی بھی قیمت پر پاکستان سے الگ ہو جانا چاہتے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کی مغربی ریاست ہے جس کی راجدھانی کوئیٹہ ہے۔ بلوچستان کے پڑوس میں ایران اور افغانستان ہے۔1944میں ہی بلوچستان کو آزادی دینے کے لئے ماحول بن رہا تھا لیکن 1947میں اسے جبراً پاکستان میں شامل کر لیا گیا اور ہماری سرکار نے تب بلوچی عوام کی مانگ مانتے ہوئے اسے بہرت میں شامل کرنے سے انکار کر دیا ۔ تبھی سے بلوچ لوگوں کی جدو جہد چل رہی ہے اور اتنی ہی طاقت سے پاکستانی فوج اور سرکار بلوچ لوگوں کو کچلتی چلی آ رہی ہے ۔ بہر حال یہ لگتا ہے کہ عمران خان بھارت کے کچھ حصوں کو اپنا بتانے کی کوشش میںاپنے ملک کو ہی تقسیم کرا بیٹھیں گے ۔

Advertisement

Related Articles