آلودگی پر مرکزاور دہلی حکومت کو سپریم کورٹ کی پھٹکار

نئی دہلی، نومبر۔ سپریم کورٹ نے قومی راجدھانی خطہ میں فضائی آلودگی کے معاملے میں مرکز اور دہلی حکومت کو ایک بار پھر پھٹکار لگاتے ہوئے انہیں مسئلے کا مستقل حل نکالنے کی ہدایت دی ہے۔
سپریم کورٹ نے قومی راجدھانی خطہ دہلی میں آلودگی کم کرنے کے مد نظر لگائی گئی پابندیاں اگلے دو دنوں تک جاری رکھنے کا حکم حکومت دہلی کو دیا ہے۔ دہلی حکومت نے عدالت کو بتایا ہے کہ ورک فرام ہوم کی سہولت آئندہ دو دنوں تک بڑھادی گئی ہے۔چیف جسٹس این وی رمنا، جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس سوریہ کانت کی عدالت عظمیٰ کی بینچ اسکولی طالب علم آدتیہ دوبے کے مفاد عامہ کی عرضی پر بدھ کو سماعت کی۔ اس معاملے میں اگلی سماعت پیر کو ہوگی۔عدالتی حکامات کی تعمیل سے متعلق رپورٹ آج ریاستی حکومتوں کی جانب سے پیش کی گئی۔ لیکن مرکزی حکومت نے رپورٹ داخل نہیں کی۔ مرکزی حکومت نے کہا کہ وہ ریاستی حکومتوں سے آلودگی کی صورت حال اور اس سے نمٹنے کی تدابیر کی معلومات حاصل کرنے کے بعد بینچ کے سامنے اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔سماعت کے دوران مرکز اور ریاستی حکومتوں کی جانب سے آلودگی کم کرنے کے لیے کیے گئے فوری اقدامات کی جانکاری دیتے ہوئے کہا گیا کہ آلودگی پہلے کی بہ نسبت کم ہوئی ہے اور آنے والے وقت میں اس کے اور بھی کم ہونے کے امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ان کی اس دلیل پر بینچ نے کہا کہ اس سے ہوا کے سبب آلودگی کی سطح کم ہوسکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ہم اس مسئلہ کا مستقل حل چاہتے ہیں۔بینچ نے دہلی کے علاوہ پنجاب، ہریانہ، اترپردیش کی حکومتوں سے کہا کہ صرف سڑکوں کی صفائی، دھول کم کرنے کے لیے پانی کا چھڑکاؤ اور اینٹی اسموک گن جیسے عارضی اقدامات سے آلودگی کے مسئلہ پر قابو پایا نہیں جاسکتا۔ اس کے لیے سائنسی تجزیہ اور پیشین گوئی کی بنیاد پر وقت رہتے آلودگی کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔سپریم کورٹ نے آلودگی کے مد نظر لگائی جارہی پابندیوں سے متاثر ہونے والے محنت کشوں کی بھی خبر لی۔ بینچ نے حکومت سے کہا کہ متاثرین کو راحت دینے کے لیے محنت کش بہبود فنڈ جاری ہو اور اس سے ضرورت مندوں کی مدد کی جائے۔ آج سماعت کے دوران دہلی حکومت کا موقف رکھ رہے وکیل اے ایم سنگھوی نے عدالت کو بتایا کہ دہلی حکومت نے ورک فرام ہوم کی سہولت 26 نومبر تک بڑھادی ہے۔سپریم کورٹ نے آلودگی پر قابو پانے کے معاملے میں نوکر شاہوں کے رویے پر ایک بار پھر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں زمینی سطح پر ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔ پنجاب میں پرالی کا معاملہ ہو یا دہلی میں آلودگی پھیلانے والی اکائیوں اور گاڑیوں سے جڑا معاملہ، ہر معاملے میں نوکر شاہوں کی سست روی دیکھنے کو ملتی ہے۔

Advertisement

 

Advertisement

Related Articles