جسٹس بنرجی میگھالیہ ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس

شیلانگ، نومبر۔ جسٹس سنجیو بنرجی نے بدھ کو یہاں میگھالیہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ سرکاری ذرائع نے یہ اطلاع دی۔گورنر ستیہ پال ملک نے راج بھون میں جسٹس بنرجی کو عہدے اور رازداری کا حلف دلایا اور اس دوران سماجی دوری اور کورونا سے متعلق پروٹوکول پر سختی سے عمل کیا گیا۔جسٹس بنرجی نے چیف جسٹس رنجیت وسنت راؤ کی جگہ سنبھالی جو اس سال 3 نومبر کو رٹائر ہوئے تھے۔حلف برداری کی تقریب میں میگھالیہ کے وزیر قانون جیمز سنگما، اسمبلی کے اسپیکر میت باہ لنگدوہ، جسٹس ہمرسن سنگھ تھانگ کھیو، جسٹس وانلورا ڈنگڈوہ موجود تھے۔جسٹس بنرجی 2 نومبر 1961 کو پیدا ہوئے اور انہوں نے سینٹ زیویئر کالج کلکتہ اور سینٹ پال اسکول دارجلنگ میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے سال 1983 میں اکنامکس (آنرز) میں گریجویشن کیا اور 1986-87 میں کولکتہ یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا۔جسٹس بنرجی نے 21 نومبر 1990 کو ایک وکیل کے طور پر اپنے کریئر کا آغاز کیا اور بنیادی طور پر کلکتہ ہائی کورٹ کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ، دیگر ہائی کورٹس اور ٹربیونلز میں بنیادی طور پر سول، کمپنی، ثالثی اور آئینی قانون میں خدمات انجام دیں۔جسٹس بنرجی کو کارپوریٹ اور انٹلیکچوئل پراپرٹی قوانین میں مہارت حاصل ہے۔ انہیں 22 جون 2006 کو کلکتہ ہائی کورٹ کے ایک ڈویژن بنچ میں مستقل جج کے طور پر ترقی دی گئی۔ جسٹس بنرجی نے مفاد عامہ کی اہم عرضیوں سمیت تقریباً تمام معاملات میں فیصلے سنائے ہیں۔ جسٹس بنرجی کا میگھالیہ ہائی کورٹ میں اچانک تبادلہ کے سبب مدراس ہائی کورٹ میں وکلاء کے بڑے پیمانے پر احتجاج کا باعث بنے۔مدراس ہائی کورٹ کے ان وکلاء نے جسٹس بنرجی کے تبادلے کی مخالفت کی تھی کیونکہ تبادلے سے قبل انہوں نے ہائی کورٹ میں صرف 10 ماہ کام کیا تھا اور کہا تھا کہ جسٹس بنرجی کو یہاں کم از کم دو سال تک رہنا چاہیے۔مدراس ہائی کورٹ میں پریکٹس کرنے والے 237 وکلاء کے ایک گروپ نے بھی جسٹس بنرجی کے تبادلے پر سپریم کورٹ کالجیم کو ایک میمورنڈم پیش کیا تھا جس میں اس سے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے اور ٹرانسفر پر روک لگانے کی اپیل کی گئی تھی۔ تاہم سپریم کورٹ نے کالجیم کے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

Advertisement
Advertisement

Related Articles