اتراکھنڈ میں سرکاری زمین اور تاریخی ورثے کو نجی ہاتھوں میں سونپنے کا کانگریس کا الزام

نئی دہلی، کانگریس نے اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی پر ریاست کی سرکاری زمین اور تاریخی ورثے کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ریاست کے 13 میں سے 12 اضلاع میں 40 سرکاری اراضی اور تاریخی املاک کو نجی ہاتھوں میں سونپنے کا عمل جاری ہے، جن کی بازار قیمت کم از کم ایک لاکھ کروڑ روپے ہے۔ اس کے خلاف کانگریس نے بدھ کے روز ریاست بھر میں ’زمین بچاؤ، دھامی ہٹاؤ‘ مہم شروع کی ہے۔کانگریس کی جنرل سکریٹری اور اتراکھنڈ کی انچارج کماری شیلجا نے بدھ کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ دھامی نے سرکاری زمین اور املاک کو نجی ہاتھوں میں سونپنے کا آخری اختیار اپنے پاس محفوظ کرلیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ جنوری 2025 اور نومبر 2025 میں وزیر اعلیٰ کی منظوری سے سرکاری محکموں کی تقریباً 1080 ایکڑ زمین ہوٹل اور سرمایہ کاری کے نام پر نجی استعمال کے لیے دینے کا راستہ ہموار کیا گیا۔
شیلجا نے نینی تال کے پٹواڈانگر کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ 108 ایکڑ زمین کی ملکیت کے حوالے سے سرکاری ریکارڈ میں صورت حال واضح نہیں تھی۔ اس کے باوجود زمین کے 13.64 ایکڑ حصے کو 90 سال کے لیے دینے کی ٹینڈر جاری کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس زمین کی محفوظ قیمت 37.80 کروڑ روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ سالانہ کرایہ پانچ روپے فی مربع میٹر رکھا گیا ہے۔کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ہریدوار کے الکنندا ہوٹل اور رشی کیش کے انسپکشن بھون سمیت برطانوی دور کے 24 دیگر انسپکشن بھون بھی نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔
کماری شیلجا نے الزام لگایا کہ دسمبر 2022 میں ریاستی کابینہ نے سرکاری زمین پر آخری اختیار وزیر اعلیٰ کو دینے اور املاک کے مالیاتی استعمال کے لیے اتراکھنڈ انویسٹمنٹ اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یو آئی آئی ڈی بی قانون کے تحت املاک کو مالیاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے معاملے میں ریاستی حکومت اور متعلقہ محکمہ کی منظوری ضروری ہے، لیکن متعلقہ محکموں کے وزرائ کی رضامندی کے بغیر فیصلے کیے گئے۔کانگریس لیڈر نے مسوری کے جارج ایورسٹ اسٹیٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 142 ایکڑ زمین اور تاریخی ورثے سے متعلق املاک کو 15 سال کے لیے ایک نجی کمپنی کے حوالے کیا گیا ہے، جس کا سالانہ کرایہ تقریباً ایک کروڑ روپے ہے۔انہوں نے کہا کہ کانگریس پہلے بھی اس معاملے کو اٹھا چکی ہے اور ریاست کی زمین اور شناخت کو بچانے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔کماری شیلجا نے کہا کہ کانگریس کے سینئر لیڈر گورنر سے ملاقات کرکے وزیر اعلیٰ کے فیصلوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ اس کے علاوہ غیرسین میں مشعل جلوس نکالا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر کانگریس کے مطالبات تسلیم نہیں کیے گئے تو پارٹی ہائی کورٹ سے رجوع کرے گی۔کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ریاست کی سرکاری زمین اور تاریخی ورثے کو نجی کمپنیوں کے حوالے کرنے کی کوشش اتراکھنڈ کی شناخت اور عوامی مفادات کے خلاف ہے۔ پارٹی نے اس معاملے پر ریاست بھر میں احتجاج تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Related Articles

Check Also

Close