نیتن یاہوکی خوف کی سیاست، انتخابی مہم کے دوران تل ابیب پر جوہری حملے کی اے آئی تصویر شیئر کردی، اپوزیشن کی شدید تنقید
تل ابیب، اسرائیل میں انتخابات سے دو روز قبل وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پر مصنوعی ذہانت(اے آئی) سے تیار کردہ ایسی تصویر شیئر کی ہے، جس میں تل ابیب پر جوہری حملے کے نتیجے میں ہونے والی تباہی کا منظر دکھایا گیا ہے۔ اس پوسٹ میں ایران کے جوہری خطرے کو نمایاں کیا گیا، تاہم نیتن یاہو کے اس اقدام پر اسرائیلی اپوزیشن رہنماؤں نے شدید اعتراضات اٹھائے ہیں۔نیتن یاہو نے اتوار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر یہ پوسٹ شیئر کی، جس میں دائیں بازو کے سیاسی مبصر یووال بلومبرگ کے بیانات بھی شامل تھے۔ ان بیانات میں ایران کی جانب سے اسرائیل کو لاحق ممکنہ خطرے سے خبردار کیا گیا تھا۔
نیتن یاہو نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل کو حقیقی اور سنگین خطرے کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق، اگر ایران نے جوہری ہتھیار حاصل کرلیے تو حالات پہلے جیسے نہیں رہیں گے۔اسرائیلی وزیرِاعظم نے حکومت کے گرد جاری تنازعات کو ایک بڑے دھویں کے پردے سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ذریعے اس خطرے سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے، جس کی اہمیت دوسرے تمام معاملات سے کہیں زیادہ ہے۔ پوسٹ میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اگر اسرائیل کے وسطی علاقے پر دو ایٹم بم گرا دیے جائیں تو پھر دیگر سیاسی تنازعات کی کیا اہمیت رہ جائے گی؟
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودہ صدارتی مدت کے مزید دو سال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے پاس ایران کے خلاف کارروائی مکمل کرنے کے لیے وقت موجود ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اسرائیل نے اس تاریخی موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا تو آنے والی نسلیں موجودہ قیادت کو معاف نہیں کریں گی۔نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ اس مشن کو وہ وزیرِاعظم مکمل نہیں کر سکتا جو امریکی صدر ٹرمپ سے براہِ راست اور مسلسل رابطہ رکھنے کی صلاحیت نہ رکھتا ہو یا ٹیلی ویژن انٹرویوز کے دباؤ کا سامنا نہ کر سکے۔نیتن یاہو کی پوسٹ سامنے آنے کے بعد اسرائیلی اپوزیشن کے رہنماؤں نے ان پر سخت تنقید کی۔ یَشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزن کوٹ نے ایکس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وزیرِاعظم انتخابی مہم میں جھوٹ اور خوف پھیلانے کی پرانی حکمتِ عملی اپنا رہے ہیں۔آئزن کوٹ نے کہا کہ اس مرتبہ اسرائیلی شہریوں کو بڑے پیمانے پر تباہی کے خطرات سے ڈرایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق، یہ صورتِ حال ایران کے خلاف جنگ کے مقاصد حاصل کرنے میں نیتن یاہو کی ناکامی کے بعد سامنے آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکمل فتح کے وعدوں سے شروع ہونے والی مہم اب اس مؤقف تک پہنچ گئی ہے کہ اسرائیل ہتھیار نہیں ڈالے گا۔ آئزن کوٹ نے نیتن یاہو کو ناکام قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انتخابات میں عوام انہیں اقتدار سے باہر کردیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت اگلی حکومت تشکیل دینے اور اسرائیل کو سلامتی اور خوش حالی کی راہ پر لے جانے کی کوشش کرے گی۔ڈیموکریٹس پارٹی کے سربراہ یائیر گولان نے بھی نیتن یاہو کی پوسٹ پر تنقید کی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ نیتن یاہو کو سوشل میڈیا سے دور رکھا جانا چاہیے۔گولان نے دعویٰ کیا کہ وزیرِاعظم اور ان کے قریبی ساتھی بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث اپنا توازن کھو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منگل کو ہونے والے انتخابات میں خوف و ہراس پھیلانے والوں کو اقتدار سے ہٹا کر اسرائیل میں سلامتی، عقل اور اعتدال کو بحال کیا جائے گا۔
اسرائیل میں انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام اور ممکنہ حملے کے خطرے کو نمایاں کرنے پر سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے۔ وزیرِاعظم نے اپنے بیان میں ایران کو اسرائیل کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے ان کے مؤقف کو انتخابی حکمتِ عملی قرار دیتے ہوئے تنقید کی ہے۔اس طرح انتخابی مہم میں ایران کے خلاف کارروائی، قومی سلامتی اور نیتن یاہو کی قیادت کا معاملہ اہم سیاسی موضوع بن گیا ہے۔ تاہم، اے آئی سے تیار کردہ تصویر کو حقیقی جوہری حملے کی تصویر نہیں سمجھنا چاہیے؛ یہ ایک تصوراتی منظر کشی ہے۔




