سندھ طاس معاہدے پر پاکستان کے بیان پرہندوستان کا منہ توڑ جواب
کہا جھوٹ پھیلانا پاکستان کی پرانی عادت
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے منگل کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں اس بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے کے لیے حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنا اور جھوٹ پھیلانا پاکستان کی عادت ہے۔
ترجمان نے کہا، "پاکستان کو اپنے بدنیتی پر مبنی پروپیگنڈے
کے لیے حقائق کو غلط طریقے سے پیش کرنے اور جھوٹی باتیں پھیلانے کی عادت ہے۔ سب سے پہلے، جسے پاکستان کے وزیر بڑھا چڑھا کر مستقل ثالثی عدالت کا فیصلہ بتا رہے ہیں، وہ واقعی اس عدالت کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ غیر قانونی طریقے سے قائم کردہ عدالت کا ہے۔”
انہوں نے کہا کہ ہندوستان اسے حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی پاکستان کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھتا ہے۔
انہوں نے کہا، "اس مسئلے پر ہمارا موقف بالکل واضح ہے اور ہم اسے کئی بار دہرا چکے ہیں۔”
قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان نے اس نام نہاد عدالت کے فیصلے کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو خط لکھ کر اطلاع دی ہے۔ ہندوستان اس عدالت کے قیام کو غیر قانونی بتاتے ہوئے اس کے فیصلے کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ معطل ہے۔
پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دہشت گردی سے نمٹنے سے متعلق بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر مسٹر جیسوال نے کہا کہ پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی پر صرف باتوں کے بجائے ٹھوس کارروائی بھی کرنی چاہیے۔
افغانستان کے کنار اور پکتیکا صوبوں میں پاکستان کے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ان حملوں میں کئی بے قصور شہری مارے گئے ہیں۔ ایک خودمختار پڑوسی ملک کے خلاف اس طرح کی کارروائی علاقائی امن اور سکیورٹی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان افغانستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے تئیں یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔




