یوگی نے کہا، "مافیا اب پستول لہرا کرکے نہیں گھوم سکتا”

بیٹی کی حفاظتمیں سیندھ لگای جہنم میں جاو گے۔ لکھنؤ میں ٹیکسٹائل کانکلیو شروع

لکھنؤ:یوگی نے لکھنؤ میں کہا، "یوپی اب فسادات، کرفیو، مافیا اور تشدد سے آزاد ہے۔ کوئی بھی مافیا کھلی جیپ میں پستوللہرا کر نہیں گھوم سکتا۔ جو بھی بیٹیوں، تاجروں اور سرمایہ کاروں کی حفاظت سے سمجھوتہ کرے گا اسے جیل یا جہنم میں بھیج دیا جائے گا۔ یہ بدلا ہوا یوپی ہے۔”
درحقیقت، 2005 کے ماؤ فسادات سے متعلق مختار انصاری کا ایک ویڈیو منظر عام پر آیا ہے۔ اس میں وہ AK-47 کے ساتھ ایک کھلی جیپ میں گھومتے نظر آئے۔ تاہم یوگی نے کسی کا نام نہیں لیا۔وزیراعلیٰ نے دو روزہ یوپی ٹیکسٹائل کانکلیو-2026 کا افتتاح کیا۔ انہوں نے کہا، "2017 سے پہلے، امن و امان تباہی کا شکار تھا۔ مافیا ہر ضلع میں متوازی حکومت کے ساتھ کام کرتا تھا۔ ‘ایک ضلع، ایک مافیا یوپی کی پہچان بن گیا تھا۔ تاوان اور بھتہ خوری عروج پر تھی، نہ بیٹیاں محفوظ تھیں اور نہ ہی تاجر۔ تاجر باہر سے آتے اور بھتہ دیکر لوٹ جاتے تھے، زمین ان کی ہوجاتی تھی۔
یوگی نے کہا کہ 2017 سے پہلے لوگ یوپی کے نام کی وجہ سے یوپی کے شہریوں کو مکان کرایہ پر لینے یا ہوٹل کے کمرے فراہم کرنے سے بھی گریزاں تھے۔ کوئی تہوار پرامن نہیں تھا۔ تہوار سے پہلے تشدد پھوٹ پڑتےتھے۔ ہر تیسرے دن فسادات پھوٹ پڑتے۔ کرفیو مہینوں تک برقرار ررہتا تھا اور بازار بند رہتے تھے۔2017 سے پہلے سڑکوں، بجلی اور ترقی کی حالت ابتر تھی۔ بجلی صرف ایک سنڈیکیٹ اور ایک خاندان تک محدود تھی۔ سرمایہ کاری کی کوئی پالیسی نہیں تھی۔ کوئی فیکٹری لگانے نہیں آتا تھا۔ اگر افراد خود محفوظ نہ ہوں تو کارخانے کیسے محفوظ ہوں گے؟ سامان کی فروخت پر تاجروں کا نہیں،دلالوںکا غلبہ تھا۔ بنک بنکروں اور چھوٹے ٹیکسٹائل کاروباریوں کو قرض نہیں دیتے تھے۔ ڈی بی ٹی نہ ہونے کی وجہ سے اسکیموں کا فائدہ بھی لوگوں تک نہیں پہنچ پاتا تھا
انہوں نے کہا کہ 2017 کے بعد لوگوں نے بدلا ہوا اتر پردیش دیکھا ہے۔ آج ریاست قانون کے تحت چل رہی ہے۔ جرائم اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی ہے۔ حکومت نے عوام کا اعتماد بحال کیا ہے۔ آج حکومت پر عام شہریوں، تاجروں اور صنعت کاروں کا اعتماد بڑھ گیا ہے۔ نوجوانوں کو یقین ہے کہ ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک نہیں کیا جائے گا۔

 

Related Articles