نفرت کی سیاست سے اتحاد و انصاف کی نئی صبح
بدلتے ہندوستان میں فرقہ واریت کے مقابل جمہوری شعور اور مشترکہ مستقبل تلاش
محمد لقمان ندویؔ، ممبئی
پردہ آنکھوں سے ہٹانے میں بہت دیر لگی
ہمیں دنیا نظر آنے میں بہت دیر لگی
نظر آتا ہے جو ویسا نہیں ہوتا کوئی
خود کو یہ بات بتانے میں بہت دیر لگی
سیاست میں کبھی کبھی حقیقت ہمارے سامنے موجود ہوتی ہے، مگر ہم اسے دیکھنے سے انکار کرتے رہتے ہیں۔ نعروں کی چکاچوند، شخصیت پرستی، مذہبی جذبات اور سیاسی وابستگیوں کی عینک آنکھوں پر ایسی چڑھ جاتی ہے کہ سامنے کا منظر بھی دھندلا دکھائی دینے لگتا ہے، لیکن تاریخ کا اصول ہے کہ حقیقت کو زیادہ دیر تک پردے میں نہیں رکھا جاسکتا۔
آج ہندوستان کا سماجی اور سیاسی منظرنامہ ایک نئی کروٹ لے رہا ہے۔ نئی نسل، نوجوان، طلبہ، کسان، مزدور، متوسط طبقہ، بزرگ شہری اور عام لوگ اب فرقہ وارانہ کشمکش، نفرت کی سیاست اور مسلسل تصادم سے تھکن محسوس کر رہے ہیں۔ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ نفرت کی سیاست سے ملا کیا؟ روزگار کہاں ہے؟ تعلیم، صحت، تجارت، صنعت، کسان کی آمدنی، نوجوانوں کا مستقبل اور سب سے بڑھ کر انصاف کہاں ہے؟ یہ سوال کسی ایک مذہب کے نہیں بلکہ پورے ہندوستان کے سوال ہیں۔
ملک کا ایک بڑا طبقہ اب یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ ہندوستان کی تقدیر ہندو اور مسلمان کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کرنے سے نہیں بلکہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے سے بدلے گی۔ آج کا نوجوان مذہبی نعروں سے زیادہ اپنے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہے۔ وہ روزگار، تعلیم اور بہتر زندگی کے مواقع چاہتا ہے۔ یہ تبدیلی معمولی نہیں بلکہ ہندوستانی سماج میں پیدا ہونے والی ایک نئی سیاسی بیداری ہے، جہاں فرقہ وارانہ سیاست اپنی کشش کھوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
یہ بات پوری دیانت داری سے کہنی ہوگی کہ فرقہ پرستی اگر کسی بھی جماعت، نظریے یا سیاسی رہنما کی طرف سے آئے تو اس کا نتیجہ نقصان دہ ہی ہوتا ہے۔ فرقہ وارانہ سیاست نفرت بڑھاتی ہے، تشدد کو جنم دیتی ہے، سماج کو تقسیم کرتی ہے اور انصاف کو کمزور کرتی ہے۔اگر اکثریتی فرقہ واریت ہندوستان کے لیے نقصان دہ ہے تو ایسی سیاست بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی جو کسی مذہبی گروہ کو باقی ہندوستان سے سیاسی طور پر الگ کرنے کا راستہ اختیار کرے۔ ہمیں اصول ایک رکھنا ہوگا کہ جو چیز ہمارے مخالف کے لیے غلط ہے، وہ ہمارے لیے بھی غلط ہونی چاہیے۔ اگر اکثریتی فرقہ پرستی کی مخالفت ضروری ہے تو اقلیتی فرقہ پرستی کی مخالفت بھی اسی اخلاقی اصول کا تقاضا ہے۔
دنیا کی کوئی قوم نفرت کے ذریعے ترقی نہیں کرسکتی۔ فرقہ وارانہ سیاست نہ اسپتال بناتی ہے، نہ اسکول، نہ روزگار فراہم کرتی ہے۔ یہ صرف غصہ، خوف اور تقسیم کو بڑھاتی ہے۔ جب معاشرہ انتقام کے جذبے میں مبتلا ہوجاتا ہے تو سب سے پہلے سماجی بھائی چارہ اور عدل متاثر ہوتے ہیں۔اگر کسی طاقتور اور دولت مند شخص کے لیے انصاف کے دروازے آسانی سے کھل جائیں اور کسی غریب، بے بس یا عام شہری کے لیے عدالت بھی دور محسوس ہو تو سوال صرف عدالتی نظام کا نہیں رہتا بلکہ ریاست کے اخلاقی کردار کا بن جاتا ہے۔ ہمیں صرف مذہبی آزادی نہیں بلکہ انصاف کی آزادی بھی چاہیے۔ صرف عبادت گاہوں کا تحفظ نہیں بلکہ ہر انسان کی عزت اور حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔
ہندوستان کی اصل لڑائی ہندو بمقابلہ مسلمان نہیں، بلکہ نفرت بمقابلہ محبت، ظلم بمقابلہ انصاف، غربت بمقابلہ مواقع، جہالت بمقابلہ تعلیم اور آمریت کے رجحان کے مقابل جمہوری شعور کی لڑائی ہے۔اس لڑائی میں ہندو بھی متاثر ہوسکتا ہے اور مسلمان بھی، دلت بھی اور آدیواسی بھی، کسان بھی اور مزدور بھی۔ ایک مظلوم مسلمان کو دوسرے مظلوم ہندو سے لڑانے کی سیاست دراصل دونوں کو اصل مسائل سے دور کردیتی ہے اور ترقی کے مواقع چھین لیتی ہے۔ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ ملک کی تعمیر اتحاد سے ہوتی ہے۔ آزادی کی تحریک میں مختلف مذاہب، زبانوں، علاقوں اور طبقات کے لوگ شریک تھے۔ اختلافات کے باوجود ایک بڑا مقصد سب کو جوڑتا تھا۔
آج بھی ہمیں اسی اتحاد کی ضرورت ہے۔ موجودہ جدوجہد کسی غیر ملکی حکومت کے خلاف نہیں بلکہ غربت، ناانصافی، نفرت، بدعنوانی، سماجی عدم مساوات اور جمہوری اقدار کے کمزور ہونے کے خلاف ہے۔محب وطن ہونے کا معیار صرف کسی جماعت یا نظریے سے وابستگی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ کون آئین کے ساتھ کھڑا ہے، انصاف کا احترام کرتا ہے، کمزوروں کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے اور اختلاف رائے کو جمہوریت کا حصہ سمجھتا ہے۔ملک کسی جماعت کی جاگیر نہیں، کسی حکومت کی ملکیت نہیں اور کسی مذہب کی میراث نہیں۔ ملک اس کے کروڑوں شہریوں کا ہے۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں، لیکن آئین اور عوام باقی رہتے ہیں۔
مسلمانوں کو بھی اپنی سیاسی حکمت عملی پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ انہیں ایسی قیادت کی ضرورت نہیں جو انہیں خوف، غصے اور تنہائی میں رکھے، بلکہ ایسی سیاست چاہیے جو انہیں ہندوستان کے وسیع تر جمہوری معاشرے سے جوڑے۔ایسی قیادت جو غیر مسلموں میں دشمن نہیں بلکہ اتحادی تلاش کرے، دلتوں میں صرف ووٹر نہیں بلکہ رفیق دیکھے، طلبہ میں صرف ہجوم نہیں بلکہ مستقبل کی قیادت تلاش کرے اور نوجوانوں میں ملک کی تعمیر کی صلاحیت پہچانے۔مسلمان کو صرف مذہبی شناخت کے ذریعے نہیں بلکہ ایک مکمل ہندوستانی شہری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس سیاست کو کامیاب سمجھتے ہیں۔ وہ سیاست جو ہمیں مسلسل دوسروں سے لڑاتی رہے یا وہ سیاست جو ہمارے بچوں کے لیے بہتر اسکول، اسپتال، روزگار اور انصاف فراہم کرے؟ وہ سیاست جو دشمنوں کی فہرست بنائے یا وہ سیاست جو مسائل کے حل کی فہرست تیار کرے؟
آج ملک کو ایک نئی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ یہ جدوجہد کسی مذہب یا جماعت کے خلاف نہیں بلکہ نفرت کے خلاف محبت، ظلم کے خلاف انصاف، فرقہ پرستی کے خلاف اتحاد، غربت کے خلاف معاشی انصاف، جہالت کے خلاف تعلیم اور خوف کے خلاف جمہوری عزم کی جدوجہد ہے۔اس جدوجہد میں ہندو بھی شامل ہوگا، مسلمان بھی، دلت بھی، آدیواسی بھی، کسان بھی، مزدور بھی، طالب علم بھی اور استاد بھی۔کیونکہ ہندوستان کو بچانے کی ذمہ داری صرف کسی ایک طبقے کی نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کی ہے۔آج وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے سیاسی خیموں سے باہر نکل کر خود سے سوال کریں کہ ہمیں لڑنا کس سے ہے؟ ایک دوسرے سے یا اس ناانصافی سے جو مذہب، ذات، دولت اور طاقت کے نام پر انسان کو انسان سے دور کرتی ہے؟اگر جواب انصاف ہے تو راستہ اتحاد ہے، اگر منزل جمہوریت ہے تو راستہ آئین ہے، اور اگر مقصد ایک مضبوط ہندوستان ہے تو راستہ ہندو مسلم بھائی چارہ ہے۔اب ملک کو نفرت نہیں، محبت چاہیے؛ تخریب نہیں، تعمیر چاہیے؛ خوف اور جبر کی سیاست نہیں، آزادی، اتحاد اور انصاف چاہیے۔




