دہلی سے پنجاب تک بدعنوانی کا نیٹ ورک، کیجریوال پر سواتی مالیوال کے سنگین الزامات
دہلی سے پنجاب تک بدعنوانی کا نیٹ ورک، کیجریوال پر سواتی مالیوال کے سنگین الزامات
نئی دہلی، 19 اگست
۔ راجیہ سبھا رکن سواتی مالیوال نے عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی سے پنجاب تک بدعنوانی کا نیٹ ورک چلایا جا رہا ہے۔
سواتی مالیوال نے بدھ کے روز جاری ایک ویڈیو بیان میں الزام لگایا کہ دہلی میں اروند کیجریوال کی تقریباً 10 سالہ حکومت کے دوران اسکولوں کے کلاس رومز، شراب پالیسی اور دہلی جل بورڈ سمیت کئی شعبوں میں مبینہ بدعنوانی ہوئی۔
انہوں نے دہلی جل بورڈ سے متعلق سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی( معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے عام آدمی پارٹی پر الزام لگایا کہ ان منصوبوں کا مقصد یمنا کی صفائی تھا، لیکن مبینہ بدعنوانی کے باعث اس مقصد کو حاصل نہیں کیا جاسکا۔ مالیوال نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے یمنا کی صفائی کے بجائے رقم پر زیادہ توجہ دی۔
پنجاب کے معاملے پر بھی سوّاتی مالیوال نے کیجریوال کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی میں مبینہ بدعنوانی کے معاملات کے بعد پنجاب میں بھی مبینہ طور پر وصولی کا نیٹ ورک قائم کیا گیا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہلی کے سابق وزیر ستیندر جین کو پنجاب میں پارٹی کے لیے مبینہ طور پر ’’کلیکشن ایجنٹ‘‘ کا کردار سونپا گیا تھا۔
مالیوال نے چنڈی گڑھ کے سیکٹر 39 میں واقع سرکاری بنگلہ نمبر 926 کا بھی ذکر کیا اور الزام لگایا کہ ستیندر جین کو یہ بنگلہ دیا گیا تھا، جہاں سے مبینہ طور پر پنجاب کے بلڈرز اور رئیل اسٹیٹ کمپنیوں سے پارٹی کے لیے رقم جمع کرنے کا کام کیا جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مبینہ بدعنوانی کی مزید پرتیں سامنے آئیں گی۔



