ہنگامہ آرائی کے باعث لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

نئی دہلی، مارچ ۔ بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے پہلے دن پیر کو لوک سبھا میں حکمراں پارٹی اور اپوزیشن کے ارکان نے ہنگامہ کیا، جس کی وجہ سے پارلیمنٹ میں کوئی کام نہیں ہوا۔ اور ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کرنی پڑی۔ایک بار ملتوی ہونے کے بعد جیسے ہی لوک سبھا کی کارروائی دوپہر 2 بجے شروع ہوئی، اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے کرسی کے سامنے ہنگامہ کرنا شروع کر دیا۔ جب کانگریس ارکان نے ہمیں انصاف چاہیے کے نعرے لگانے شروع کیے تو حکمراں پارٹی کی جانب سے راہل گاندھی معافی مانگو کے نعرے گونجنے لگے۔ہنگامہ آرائی کے درمیان جب پریذائیڈنگ آفیسر راجندر اگروال نے ضروری کاغذات ایوان کے میز پر رکھ کر ایوان کی کارروائی شروع کی تو دونوں طرف سے ہنگامہ آرائی تیز ہوگئی جس کی وجہ سے ایوان میں کچھ سنائی نہیں دیا۔مسٹر اگروال نے ارکان پر زور دیا کہ وہ اپنی نشستیں سنبھال لیں اور ان تمام مسائل پر بحث کی جائے گی جن پر اپوزیشن کے ارکان بحث کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ اور بنچ کا احترام سب پر لازم ہے اور کسی بھی رکن کو اس کی توہین کی اجازت نہیں دی جا سکتی اس لیے اراکین اپنی نشستوں پر جا کر ایوان کی کارروائی چلنے دیں لیکن کسی نے ان کی بات نہیں سنی اور ہنگامہ آرائی بڑھ گئی جس کے باعث انہوں نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کردی۔قبل ازیں بی جے پی ارکان نے لندن میں دیئے گئے بیان پر کانگریس لیڈر راہل گاندھی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جبکہ کانگریس ارکان نے مختلف مسائل پر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے ہنگامہ کیا۔ شدید ہنگامہ آرائی کے باعث ایوان کی کارروائی دوپہر دو بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔

Related Articles