جموں و کشمیر: منوج سنہا نے لیفٹیننٹ گورنر کے عہدے کا حلف اٹھایا

سری نگر: بھارتیہ جنتا پارٹی کے سابق رہنما منوج سنہا نے جمعے کے روز یہاں راج بھون میں جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کے دوسرے لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔
انہیں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کی خاتون چیف جسٹس جسٹس گیتا متل نے حلف دلایا۔ مسٹر سنہا نے انگریزی زبان میں حلف لیا۔ موصوف سیاسی پس منظر رکھنے والے اس یونین ٹریٹری کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر ہیں۔
راج بھون سری نگر کے خوبصورت لانز میں منعقد ہونے والی تقریب حلف برداری میں سول، پولیس اور فوج کے سینئر عہدیداروں کے علاوہ بی جے پی اور جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے کچھ سینئر رہنمائوں نے شرکت کی۔ نیزبی جے پی رکن پارلیمان جگل کشور شرما اور پی ڈی پی سے وابستہ راجیہ سبھا رکن نذیر احمد لاوے بھی اس تقریب میں شریک ہوئے۔
اگرچہ تقریب حلف برداری میں شرکت کے لئے سابق وزرائے اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور عمر عبداللہ کو بھی مدعا کیا گیا تھا تاہم ان میں سے کسی نے بھی شرکت نہیں کی۔
کورونا وائرس کے پھیلائو کے پیش نظر حلف برداری کی یہ تقریب سادگی سے ہی منعقد کی گئی۔ اس میں بعض چنندہ میڈیا اداروں سے وابستہ صحافیوں کو ہی مدعو کیا گیا تھا۔
اس موقع پر راج بھون کے اندر و باہر اور اس کی طرف جانے والی سڑکوں پر سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے گئے تھے۔
واضح رہے کہ صدر جمہوریہ رام ناتھ کوند نے اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے بی جے پی رہنما و سابق مرکزی وزیر منوج سنہا کو جمرات کے روز اس یونین ٹریٹری کا نیا سربراہ مقرر کیا۔
قبل ازیں صدر جمہوریہ نے جموں و کشمیر یونین ٹریٹری کے پہلے لیفٹیننٹ گورنر گریش چندرا مرمو کا استعفیٰ منظور کیا جس کے بعد انہیں کامپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) تعینات کیا گیا۔
منوج سنہا کی لیفٹیننٹ گورنر کی حیثیت سے تقرری کے بعد انہوں نے بی جے پی کی بنیادی رکنیت سے استعفی دیا جس کی تصدیق پارٹی کے قومی صدر جگت پرکاش نڈا نے کی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ملک کی واحد مسلم اکثریتی ریاست (جموں وکشمیر) 31 اکتوبر 2019 کو جموں وکشمیر تنظیم نو قانون 2019 کے تحت دو حصوں میں منقسم ہوکر ‘یونین ٹریٹری آف جموں وکشمیر’ اور ‘یونین ٹریٹری آف لداخ’ میں تبدیل ہوگئی۔
بی جے پی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر منوج سنہا کی جموں وکشمیر یونین ٹریٹری کے دوسرے لیفٹیننٹ کی حیثیت سے تقرری کو یہاں زائد از ایک سال سے منجمد و مفلوج سیاسی سرگرمیوں کو سر نو بحال کرنے کی پہل سے تعبیر کیا جارہا ہے۔
ملک کی آبادی کے لحاظ سے سب بڑی ریاست اتر پردیش کے ضلع غازی پور سے تعلق رکھنے والے منوج سنہا جموں وکشمیر میں بی جے پی کی طرف سے چنے جانے والے دوسرے سیاسی شخصیت کے حامل گورنر ہیں۔
منوج سنہا کے پیش رو گریش چندرا مرمو ایک بیوروکریٹ ہیں، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی نو مہینوں کی عہد گورنری کے دوران یہاں سیاسی سرگرمیاں بحال نہ کرسکے۔
اکسٹھ سالہ سنہا نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سال 1982 میں بنارس ہندو یونیورسٹی طلبا یونین کے صدر منتخب ہونے سے کیا ہے۔
بعد ازاں انہیں سال 1996 میں لوک سبھا کے لئے پہلی بار منتخب کیا گیا اور سال 1999 میں وہ دوبارہ لوک سبھا کے لئے منتخب ہوئے۔ انہیں سال 2014 میں تیسری بار لوک سبھا کے لئے منتخب کیا گیا جب بی جے پی نے پارلیمانی انتخابات میں بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی تھی اور نریندر مودی ملک کے وزیر اعظم مقرر ہوئے تھے۔
منوج سنہا سال 1989 سے 1996 تک بی جے پی کے قومی کونسل کے بھی رکن رہے ہیں۔
لوک سبھا میں اپنے ہی آبائی وطن غازی پور کی نمائندگی کرنے والے سنہا کو مئی 2014 میں تشکیل پانے والی نریندر مودی سرکار میں مرکزی وزیر مملکت برائے ریلویز کا عہدہ تفویض کیا گیا تھا اور بعد میں جولائی 2016 میں کابینہ کے دوسرے رد وبدل کے دوران انہیں مرکزی وزیر مملکت برائے اطلاعات کے عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔
اترپردیش میں سال 2017 میں منعقدہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی شاندار فتح کے بعد منوج سنہا کو ریاست کے وزیر اعلیٰ کا مضبوط دعویدار سمجھا جاتا تھا تاہم بعد میں اس عہدے سے یوگی آدتیہ ناتھ کو سرفراز کیا گیا جو پانچ بار رکن پارلیمان رہنے کا اعزاز رکھتے تھے۔
منوج سنہا کو سال 2019 میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے امیدوار افضل انصاری نے شکست سے دوچار کردیا۔
تعلیمی لحاظ سے ایک سول انجینئر سنہا سیاسی میدان میں قدم رکھنے سے قبل سکول آف پلاننگ کے جنرل کونسل کے سال 1999 سے 2000 تک ایک فعال رکن کی حیثیت سے اپنی خدمات اںجام دے چکے ہیں۔
حال ہی میں ایک میگزین میں انہیں ملک کے سات ایماندار ارکان پارلیمان کی فہرست میں شمار کیا گیا ہے۔ منوج سنہا ایک بہترین منتظم ہونے کے علاوہ عوام کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ جڑ جانے والے لیڈر کے طور پر بھی معروف ہیں۔

Advertisement

Related Articles