دروپدی مرمو کو صدارتی امیدوار بنانا تاریخی قدم: شرما

بھوپال، جون۔مدھیہ پردیش بھارتیہ جنتا (بی جے پی) کے صدر وشنودت شرما نے اڑیسہ کی دروپدی مرمو کو امیدوار بنانے کے این ڈی اے کے فیصلے کو تاریخی قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلی بار کسی قبائلی خاتون کو صدر کے عہدہ کا امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو صرف بی جے پی میں ہی ممکن ہے۔مسٹر شرما نے آج یہاں میڈیا سے بات چیت کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے قبائلی معاشرے کے مفاد میں اس فیصلے کے خواتین کے مفاد میں دوررس نتائج ہوں گے۔ اس فیصلے سے ملک اور ریاست کے قبائلی سماج میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، بی جے پی صدر جے پی نڈا اور این ڈی اے قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ریاستی صدر نے کہا کہ سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس آنجہانی اٹل بہاری واجپائی کی حکومت اور اس سے پہلے بھی یہ بی جے پی کا بنیادی منتر رہا ہے۔ شمال مشرق سے تعلق رکھنے والے قبائلی رہنما پی اے سنگما کو صدارتی امیدوار بنایا گیا، لیکن کانگریس نے انہیں صدر نہیں بننے دیا۔ اس کے علاوہ این ڈی اے حکومت نے اے پی جے عبدالکلام کو اپنا امیدوار بنایا اور وہ ملک کے صدر رہے۔ اس کے بعد قبائلی سماج کی دروپدی مرمو کو صدارتی امیدوار بنا کر وزیر اعظم مودی اور بی جے پی قیادت نے اس منتر کو 100 فیصد زمین پر اتارنے کا کام کیا ہے۔مسٹر شرما نے کہا کہ اڑیسہ کے قبائلی علاقے کے ایک عام کارکن کو کونسلر کے عہدے سے صدارتی انتخاب میں پارٹی کا امیدوار اعلان کیا جاتا ہے، یہ صرف بی جے پی میں ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ دروپدی مرمو کا سیاسی کیریئر 1997 سے شروع ہوا تھا۔ ایک عام خاندان سے تعلق رکھنے والی دروپدی مرمو پارٹی کی کونسلر رہیں۔ اس کے علاوہ وہ پارٹی کی اڑیسہ یونٹ میں قبائلی محاذ کی نائب صدر رہیں۔ وہ رائرنگ پور سیٹ سے دو بار بی جے پی ایم ایل اے رہ چکی ہیں۔ اس دوران انہیں بہترین ایم ایل اے کا نیل کنٹھ ایوارڈ بھی ملا۔ وہ مارچ 2000 سے مئی 2004 تک اڑیسہ کی حکومت میں وزیر مملکت اور جھارکھنڈ کی پہلی خاتون گورنر رہی ہیں۔

Advertisement

Related Articles