جنگِ آزادی میں خواتین کا ولولہ انگیز کردار

ہندوستان کی آزادی، مختلف مذہبوں،قوموں، نسلوں اور علاقوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے ، اِس میں مردوں کے شانہ بشانہ خواتین بھی جوش وخروش کے ساتھ حصّہ لے کر آنچل کو پرچم نہ بنالیتیں تو ملک کی آزادی کا خواب اِتنی جلد شرمندۂ تعبیر نہ ہوتا۔ ایک صدی تک جاری رہنے والی اِس تحریکِ آزادی میں جہاں راجا و پرجا، امیر وغریب، ہندو ومسلمان اور پارسی و سکھوں نے دادِ شجاعت دے کر قومی اتحاد کی تاریخ لکھی، وہیں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی قربانی کی شاندار روایات قائم کی ہیں، اِن خواتین میں ہندو اورمسلم دونوں شامل تھیں، خاص طور پر مسلم عورتوں نے ۱۷۹۸ء میں سری رنگا پٹنم سے ۱۸۵۷ء تک دلّی ، لکھنؤ اور کانپور میں شجاعت کے وہ جوہر دکھائے کہ ایک ولولہ انگیز تاریخ رقم ہوگئی، اِس کا عنوانِ جلی حضرت محل بنیں، جو اودھ کے نواب واجد علی شاہ کی بیگم اور برجیس قدر کی ماں تھیں۔ اِس جانباز خاتون نے اپنے خاوند کی معزولی وگرفتاری پر سوگ نہیں منایا بلکہ محل کا آرام و آسائش قربان کرکے انگریزوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کردیا، بیٹے کو اودھ کا بادشاہ بنایا اور صرف گیارہ دن میں لکھنؤ سے انگریزوں کو نکال کر انقلابیوں کی قیادت خود سنبھال لی، ملکہ وکٹوریہ کے اعلان کے جواب میں اپنا اعلامیہ جاری کرکے ایسٹ انڈیا کمپنی سے ہندوستان کی انتظامیہ چھین لینے کا اعلان کردیا، لکھنؤ پر انگریزوں کے دوبارہ قابض ہونے پر فیض آباد اور بونڈی کے محاذوں پر انگریز فوج کا مقابلہ کرتے ہوئے، سرحد پار نیپال چلی گئیں، نیپال کے ہی کسی گوشے میں حضرت محل کی زندگی کا چراغ گل ہوا، لیکن انگریزوں کے ہاتھ نہ آنے کا عہد پورا کرکے وہ ہندوستانی خواتین کے لیے مثال بن گئیں۔
دوسرا اہم نام جھانسی کی رانی لکشمی بائی کا ہے، جو اُترپردیش کے وارانسی علاقے میں پیدا ہوئیں، اصلی نام مُنّی کرنیکا ہے۔ جھانسی کے راجہ گنگا دھر راؤ سے شادی ہوئی، شوہر کی وفات کے بعد جھانسی ریاست کی ناظم مقرر ہوئیں، انگریزوں نے اُن کے لے پالک لڑکے دامودر راؤ کو وارث ماننے سے اِنکار کرکے ریاست سے بے دخل کردیا اور اُس پر قابض ہوگئے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کا معرکہ گرم ہوا تو انگریزوں کی بدمعاملگی سے ناراض لکشمی بائی نے اُن کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا، اُنھیں نہ صرف جھانسی سے نکالا بلکہ آگے بڑھ کر مورانی پور اور بروا ساگر کے مقام پر شکستِ فاش بھی دی اور اِس طرح یہ بہادر خاتون ۱۸۵۷ء کی سب سے طاقتور قائد بن کر اُبھریں، اُن کی فوجی طاقت میں اُس وقت اور بھی اضافہ ہوا جب پانپور اور شاہ گڑھ کے حاکم اُن سے آکر مل گئے، سرہف روز کی قیادت میں انگریزوں نے زبردست حملہ کیا، دو ہفتہ تک رانی بے جگری سے مقابلہ کرتی رہیں آخر کالپی میں پناہ لی، وہاں راؤ صاحب اور تاتیاٹوپے اپنی افواج کے ساتھ آملے، کونچ اور کالپی میں دوبارہ انگریزوں سے مقابلہ ہوا، ناسازگار صورتِ حال میں گوالیار میں پناہ لی اور پیشوا کی حکومت وہاں قائم کی اور انگریزوں سے فیصلہ کن جنگ کے لیے عورتوں کا لباس اُتارکر مردوں کا لباس پہنا، فوجیوں کی کمان اپنے ہاتھ میں لی، فتح قریب تھی کہ غدار دیوان دِنکر راؤ انگریزوں سے مل گیا، نتیجہ میں جنگ کا نقشہ پلٹنے میں دیر نہیں لگی، جواں مردی کے ساتھ لڑتے ہوئے شیردل لکشمی بائی نے دم توڑ دیا لیکن انگریزوں کے آگے سر نہ جھکایا۔
۱۸۵۷ء کے انقلاب کی ایک اور نقیب رائے گڑھ موجودہ مدھیہ پردیش کے آدیباسی ضلع منڈلا کی حکمراں اونتی بائی ہیں، جن کے آنجہانی شوہر وکرماجیت کے دو بیٹے ہونے کے باوجود ۱۸۵۱ء میں رائے گڑھ پر انگریزوں نے قبضہ کرلیا۔ اونتی بائی اِس ناانصافی کو برداشت نہیں کرسکیں، جیسے ہی ۱۸۵۷ء کے انقلاب کی گھن گرج شروع ہوئی، اُنھوں نے آس پاس کے راجاؤں، ٹھاکروں اور جاگیرداروں کو ساتھ لے کر شنکرشاہ کی قیادت میں عین دسہرہ کے دن انگریزوں کے خلاف اعلانِ جنگ کردیا، شنکرشاہ اور اُس کے بیٹے انگریزوں کے عتاب کا شکار ہوئے، جنھیں پکڑکر توپ سے اُڑادیا گیا لیکن اِس کا ردّعمل یہ ہوا کہ انگریز اِنفنٹری میں بغاوت ہوگئی، انگریز کمانڈر مقابلہ کرتے ہوئے زخمی ہوکر بھاگ گیا، رانی اونتی بائی کافی دن گڑھ منڈلا پر حکومت کرتی رہیں لیکن دوسرے محاذوں کی طرح یہاں بھی انگریز سازش کامیاب ہوئی اور آزادی کی متوالی اونتی بائی کو خودکشی پر مجبور ہونا پڑا لیکن مؤرّخ سندرلال کے بقول رانی کی جنگی صلاحیت اور بہادری تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب بن گئی ۔
اِس جنگِ آزادی میں نواب زادیوں اور مہارانیوں نے ہی حصّہ نہیں لیا، عام شہریوں کی بیویاں ، بہنیں اور وہ مائیں بھی شریک رہیں، جنھوں نے کبھی گھر کی چہاردیواری سے باہر قدم نہیں رکھا تھا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے شعلے بلند ہوئے تو ہر طرف انگریزوں کے خلاف بغاوت اُٹھ کھڑی ہوئی، انگریزوں نے بندوق کی نال پر اِسے دبانے کی کوشش کی، دہلی کے قریب مظفرنگر میں مردوں کے ساتھ عورتیں بھی اپنے گھروں سے نکل آئیں، کافی گرفتاریاں ہوئیں، گیارہ عورتوں کو پھانسی پر چڑھایا گیا، آج کوئی تصور نہیں کرسکتا کہ کانپور کی ایک طوائف عزیزن بانو بھی جنگی سورما کا لباس پہنے، بہادرشاہ ظفرؔ کا جھنڈا لہراتی میدان میں نکل آئے گی اور اودھ کی بیگمات کے ساتھ ساتھ جھانسی، ساگر، تلسی پور، منڈلا کی رانیاں اور کتنی ہی دوسری پردہ نشین عورتیں اپنے شانوں سے روایت کا بوجھ اُتارکر اپنے خون کی سرخی سے سرفروشی کی تاریخ رقم کریں گی۔ شیردل خواتین کی یہ انفرادی و اجتماعی شجاعت بیرونی دباؤ کا نتیجہ نہیں تھی، اُن کا سوچا سمجھا اپنا فیصلہ تھا، جس پر انھوں نے خود عمل کیا اور اپنے شوہروں، باپوں اور بھائیوں کو طعنے دیئے اور اُن کی غیرت کو جگایا۔ تحریک آزادی کی ایک اور جیالی خاتون میڈم کاما ہیں، جنہوں نے ۱۹۰۷ء میں پہلی بار ورلڈ سوشلٹ کانفرنس جرمنی میں ہندوستان کا قومی پرچم لہرایا اور نامور انقلابی مولانا برکت اللہ بھوپالی، شیام جی کرشن ورما اور لالہ ہردیال کی طرح ہندوستان کے باہر تحریکِ آزادی کے لیے دنیا کے انصاف پسند عوام کی حمایت حاصل کی۔
وقت کے دھارے کے ساتھآزادی کی یہ تحریک آگے بڑھتی رہی، مردوں کے دوش بدوش خواتین اِس میں حصّہ لیتی رہیں، یہاں تک کہ ۲۰ویں صدی آگئی اور آزادی کی جدوجہد نے عوامی شکل اختیار کرلی، اُس وقت مہاتما گاندھی نے بھی اپنے اخبار ’’ینگ انڈیا‘‘ (۱۰؍اپریل ۱۹۳۰ء) کے ذریعہ عورتوں کو ستیہ گرہ میں حصّہ لینے اور چرخہ کاتنے کی ترغیب دی، جس پر ہزاروں کی تعداد میں اعلیٰ خاندان کی عورتیں اپنے گھروں سے باہر نکل آئیں اور مختلف محاذوں پر کام کرنے لگیں، گاندھی جی کی آواز پر صرف دہلی میں سولہا سو عورتوں نے ستیہ گرہ میں حصّہ لے کر خود کو گرفتاری کے لیے پیش کیا، اس سے قبل ۱۹۱۸ء کی تحریک خلافت اور بعد کی تحریک ترکِ موالات کی وجہ سے آزادی کی لڑائی میں جو شدت آئی اُس میں بھی چند خواتین کا بہت اہم حصّہ رہا، اِن خواتین میں سرِفہرست بی اماں والدہ مولانا محمد علی شوکت علی کا نام ہے جو اَن پڑھ ہونے کے باوجود سلیقہ مند اور بہادرخاتون تھیں۔ کچھ لکھنے پڑھنے کے بعد جب بی اماں تحریکِ آزادی میں شامل ہوئیں تو اُن کا شمار اچھے مقرروں میں کیا جانے لگا، عملی طور پر اُن کی سیاسی زندگی کا آغاز پہلی جنگِ عظیم سے ہوا، بعد میں خلافت تحریک کی وہ فعال کارکن بنیں، ملک کے مختلف حصوں میں جاکر نوجوان مردوں اور عورتوں میں آزادی کا جذبہ اُبھارتی رہیں، خواتین کانفرنس کی صدرت کی اور اپنے زمانہ کی دوسری سرگرم خواتین کستوربا گاندھی، سروجنی نائیڈو، اینی بسینٹ، انوسوئیابائی، سرلادیوی، اپنی بہو امجدی بیگم، نشاط النساء بیگم، بیگم سیف الدین کچلو وغیرہ کو اپنی شخصیت سے متاثر کیا، ساتھ ہی ان کے عزم و ارادہ سے مردوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی۔ ۱۹۲۴ء میں آزادی کے لیے کام کرتے ہوئے وہ اِس دنیا سے رخصت ہوگئیں۔
امجدی بیگم اہلیہ محمد علی جوہرؔ آزادی کے اُس متوالے مجاہد کی رفیقۂ حیات ہیں جس نے کہا تھا ’’جب وطن کا معاملہ ہے تو میں اوّل ہندوستانی ہوں بعد میں مسلمان ہوں اور اسلام کا معاملہ ہے تو میں پہلے مسلمان اور بعد میں ہندوستانی ہوں‘‘۔
امجدی بیگم مولانا محمد علی جوہرؔ کے ساتھ اُن کی سیاسی زندگی میں شریک رہیں، اُنھوں نے ستیہ گرہ اور خلافت تحریک کے لیے بی اماں کے ساتھ کروڑوں روپے کا چندہ جمع کیا اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کی ممبر بھی بنیں، امجدی بیگم کی اِن تمام خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ۲۹؍نومبر ۱۹۲۱ء کے ’’ینگ انڈیا‘‘ میں گاندھی جی نے ان پر ’’ایک بہادر خاتون‘‘ کے عنوان سے خصوصی مضمون لکھا ۔
امجدی بیگم کی طرح تین خواتین اور ہیں جن کا آزادی کی جدوجہد میں قابلِ ذکر حصّہ رہا اور جو مجاہدینِ آزادی کی شریکِ حیات تھیں، اِن کے بارے میں مولانا حسرتؔ موہانی نے کہا تھا:
’’اگر بیگم حسرتؔ، بیگم آزاد اور کملا نہرو نہ ہوتیں تو حسرتؔ کسی اخبار کے ایڈیٹر ہوتے، مولانا ابوالکلام آزادؔ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘ نکالتے رہتے اور جواہرلال نہرو زیادہ سے زیادہ ایک کامیاب بیرسٹر ہوتے، یہ عورتیں وفاپرست اور ایثارِ مجسم تھیں، اُنھوں نے جان دے دی مگر ہم سے یہ نہ پوچھا کی لیلائے سیاست کے پرستارو! تم جیل جارہے ہو ہمارا کیا ہوگا‘‘۔
بیگم حسرتؔ موہانی کا نام نشاط النساء بیگم ہے، اُنھوں نے ۲۰ویں صدی کے اوائل میں اپنے شوہر کے ساتھ تحریکِ آزادی میں حصّہ لینا شروع کیا اور اپنی پوری زندگی ملک و ملت کی بہبود کے لیے جھونک دی، شادی کے صرف پانچ برس بعد حسرتؔ موہانی کی پہلی گرفتاری، ’اردوئے معلیٰ‘ میں ایک مضمون کی اشاعت پر ہوئی اور جب اُن کی دوسری گرفتاری عمل میں آئی تو نشاط النساء کی سیاسی زندگی کا آغاز ہوگیا، یہ وہ زمانہ ہے جب انھوں نے سماج کی پرواہ نہ کرتے ہوئے پردہ ترک کرایا، قیدوبند کے درمیان وہ حسرتؔ کو اخبارات و مکاتیب پہنچاکر حالاتِ حاضرہ سے باخبر رکھنے کی کوشش کرتی رہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے وقت وزیر لارڈ مانٹیگو نے سیاسی جماعتوں کے نمائندہ کے علاوہ ہندوستانی خواتین سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو دوسری خواتین کے علاوہ بیگم حسرتؔ موہانی بھی اُن سے ملیں اور وزیرِ ہند کے سامنے آزادی کا پیغام اِن الفاظ میں رکھا ’’جب کہ باغیانِ آئرلینڈ کو رہا کردیا گیا ہے تو نظربندانِ ہند کو بھی آزاد فرما دیجئے‘‘۔
حسرتؔ موہانی کی مصائب سے بھری زندگی میں جس طرح بیگم حسرتؔ نے حق رفاقت ادا کیا، خواجہ حسن نظامی نے اس کا اعتراف کرتے ہوئے اُن کا شمار ’’مشاہیرِ ہند‘‘ میں کیا ہے ، جب کہ چکبستؔ نے ’’صبح امید‘‘ میں انھیں گرانقدر الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے، بیگم نشاط کی زندگی پر طائرانہ نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کم وبیش بیس سال کا عرصہ اُنھوں نے سودیشی تحریک، کل ہند کانفرنس اور دیگر اجلاسوں میں شرکت، ہم خیال سیاسی رہنماؤں سے خط وکتابت، حسرتؔ کے مقدمہ میں پیروی اور قومی اخبارات سے وابستگی میں گزارکر جذبۂ رفاقت اور جذبۂ حب الوطنی دونوں کا حق ادا کردیا اور ۱۹۳۷ء میں دنیا سے رختِ سفر باندھا۔
اِس میں ذرا بھی شبہ نہیں کہ تحریک آزادی میں سردھڑ کی بازی لگانے والے مجاہدین کی خواتین نے اگر اپنے شوہروں کی گھریلو زندگی میں ایثار وقربانی سے کام نہ لیا ہوتا تو وہ ہرگز انگریزوں کے خلاف استقامت کا مظاہرہ نہیں کرپاتے اور جنگ آزادی میں یہی اُن کے قومی رول کا شاہد ہے، زلیخا بیگم زوجہ مولانا ابوالکلام آزاد بھی ایسی ہی مسلم خاتون ہیں، جنھوں نے بی اماں، امجدی بیگم اور نشاط النساء کی طرح مردوں کے دوش بدوش کھڑے ہوکر یا سیاسی جلسوں کے اسٹیج پر آکر آزادی کی جنگ میں براہِ راست حصّہ تو نہیں لیا لیکن ہر طرح کی معاشی سختیوں، ذہنی الجھنوں اور دوسری پریشانیوں کے باوجود اپنے شوہر کی حوصلہ افزائی کی۔ اُن کے بارے میں عام لوگوں کی معلومات بہت محدود ہیں، وہ نہ کبھی اسٹیج پر آئیں، نہ پردہ سے باہر قدم رکھا اور نہ ہی اخبارات کی سرخیوں میں انھیں جگہ ملی لیکن حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے درپردہ اپنے محبوب شوہر کی خدمت کرکے اُن کے علمی و عملی کارناموں میں سکون و اطمینان کی جو فضا قائم کی اُسی کا نتیجہ تھا کہ مولانا آزادؔ کا ہر ساتواں دن جیل میں اور باقی ایام پوری یکسوئی کے ساتھ سیاسی دوڑ دھوپ میں صرف ہوتے رہے۔
زلیخا بیگم عزم و استقلال کی کیسی جیتی جاگتی مثال تھیں اِس کا ثبوت اُس خط سے ملتا ہے جو اُنھوں نے ۱۹۲۲ء میں مہاتما گاندھی کے نام مولانا آزادؔ کو بغاوت کے ایک مقدمہ میں ایک سال کی سزا سنائے جانے پر لکھا تھا، مولانا آزادؔ نے اِس مقدمہ میں جو دفاعی بیان دیا وہ ’’قولِ فیصل‘‘ کے عنوان سے قانون، انصاف، آزادی اور ادب کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ بیگم آزادؔ نے لکھا تھا :
’’ میرے شوہر مولانا ابوالکلام آزادؔ کے مقدمہ کا آج فیصلہ سنا دیا گیا، اُنھیں صرف ایک سال کی سزا دی گئی ہے، یہ نہایت تعجب انگیز طور پر اُس سے بدرجہا کم ہے جس کے سننے کے لیے ہم تیار تھے، اگر سزا اور قید قومی خدمت کا معاوضہ ہے تو آپ تسلیم کریں گے کہ اِس معاملہ میں بھی اُن کے ساتھ سخت ناانصافی برتی گئی ہے، یہ تو کم سے کم بھی نہیں ہے جس کے وہ مستحق تھے‘‘۔
مولانا آزادؔ کے قیدوبند اور سیاسی دوروں کی وجہ سے باربار جدائی نیز تنگ دستی کو زلیخا بیگم کہاں تک برداشت کرتیں آخرکار انھیں دق ہوگئی اور ۱۹۴۲ء کو وہ اِس دنیا سے ہمیشہ کے لیے رُخصت ہوگئیں، اُس وقت مولانا آزاد قلعہ احمد نگر میں بند تھے، وہاں اُنھیں اطلاع ملی کہ آج ۲۶؍برس کی اُن کی ازدواجی زندگی کا خاتمہ ہوگیا ہے۔
زلیخا بیگم اور پنڈت جواہرلال نہرو کی اہلیہ کملا نہرو کے حالات تقریباً یکساں ہیں، کملا نہرو بھی ایک باہمت خاتون تھیں، پنڈت جی کے زمانۂ اسیری میں جس صبروبرداشت کا اُنھوں نے ثبوت دیا وہ مشرقی خواتین کا طرۂ امتیاز ہے، نہرو کو اپنی سیاسی مصروفیات اور تحریکِ آزادی کی قیادت کی وجہ سے گھر پر رہنے کا بہت کم موقع ملا، کملا نہرو ایثار وقربانی کا مظاہرہ کرتی رہیں یہاں تک کہ جدائی کے غم میں گھلتے گھلتے انھیں تپ دق ہوگئی، نہرو جی کو اُن کی تیمارداری کا موقع صرف چند دن کے لیے ملا جب وہ علاج کے لیے اُنھیں سوئزرلینڈ لے گئے اور رفیقِ حیات کملا کی راکھ لے کر ہندوستان لوٹے۔
اِسی طرح دوسرے مجاہدین کی بیگمات کی بھی قربانیاں ہیں جنھیں نظرنداز نہیں کیا جاسکتا۔ اُنھوں نے پردہ کے اندر اور پردہ کے باہر رہ کر جنگِ آزادی میں حصّہ لیا، مثلاً سیف الدین کچلو کی شریکِ حیات سعادت بانو کچلو، حیدرآباد کے معزز گھرانے سے تعلق رکھنے والی اور بیرسٹر خواجہ عبدالحمید کی اہلیہ بیگم خورشید خواجہ، بی بی امت الاسلام پٹیالہ کے ایک رئیس اور محب وطن راجپوت خاندان سے تعلق رکھتی تھیں، اُن کے والد کرنل عبدالحمید خاں ریاست پٹیالہ میں وزیرِ مالیات تھے۔ امت الاسلام نے ۳۱۔۱۹۳۰ کے ستیہ گرہ کے دوران ۳۵ سال کی عمر میں سابرمتی آشرم میں قدم رکھا اور گاندھی جی کی رہبری میں کام کرتی رہیں، اِن کے علاوہ خدیجہ بیگم، زبیدہ بیگم داؤدی (بیگم شفیع داؤدی)، کنیزہ سیّدہ بیگم (کانگریس رہنما سیّد صلاح الدین کی چھوٹی بہن)، منیرہ بیگم (بدرالدین طیب جی کی بھتیجی) وہ خواتین ہیں جو سودیشی تحریک میں شامل رہیں اور کانگریس کے جلسوں میں حصّہ لے کر تحریکِ آزادی کو آگے بڑھاتی رہیں، اِسی سلسلہ کی ایک کڑی بیگم شیخ عبداللہ اکبری بیگم بھی ہیں، جنھوں نے اپنے خاوند کی گرفتاری کے بعد گھر کی چہاردیواری کو خیرباد کہہ کر ریاست کشمیر کی آزادی اور اپنے شوہر شیخ عبداللہ کے نظریات کی اشاعت کے لیے خود کو وقف کردیا۔
ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کی جدوجہد کا بڑا حصّہ عدم تشدد یعنی اہنسا پر مبنی تھا، مہاتما گاندھی نے اِس میں تشدد کو داخل نہیں ہونے دیا، پھر بھی جہاں اِس میں تشدد شامل ہوا تو ہندوستانی خواتین بھی پیچھے نہیں رہیں، اِسی سلسلہ میں بنگال کی کماری پریتی لتادادیکر کا نام قابلِ ذکر ہے، جس نے تیسری دہائی میں سرجیہ سین کی قیادت میں چاٹگام پر انگریزوں کے خلاف جنگ میں حصّہ لیا اور آخر میں گرفتاری کے بجائے خودکشی کو ترجیح دی، اِسی طرح ماتنگی ہاجرا نے ’’عدم تعاون کی تحریک‘‘ سے ہندوستان چھوڑو موومینٹ‘‘ تک انگریزوں کا مقابلہ کیا، تاملوک میں گورنر کے ایک دربار میں ’’واپس جاؤ‘‘ کا نعرہ لگانے کی ہمت بھی دکھائی۔
۱۹۴۲ء کی ہندوستان چھوڑو تحریک میں تو خواتین کی تعداد اِتنی زیادہ تھی کہ اُن کے ناموں کی صرف فہرست بھی یہاں نہیں دی جاسکتی، ان خواتین میں سروجنی نائیڈو اور ارونا آصف علی کے نام سرِفہرست ہیں، جنھوں نے برسرِ عام اور زیرِ زمین تحریکات میں حصّہ لے کر انگریز حکومت اور انتظامیہ کا ناطقہ بند کردیا، اروناجی کی زندہ یا مردہ گرفتاری پر ایک بڑا انعام بھی رکھا گیا تھا۔ مردولاسارا بھائی بھی وہ جیالی خاتون ہیں جنھوں نے انگریزوں کے زمانے اور آزادی کے بعد ہندوستانی سماج خاص طور پر عورتوں میں بیداری لانے اور ان کے حقوق کے لیے اہم کام کیا۔ ان ہی کے ساتھ کستوربا گاندھی، راج کمار سورج کلا سہائے اور کماری امرت کور کے نام بھی آتیء ہیں، علاوہ ازیں سیکڑوں ایسی بہادر خواتین ہیں جن کی قربانیاں تاریخ کا حصّہ نہیں بن سکیں لیکن آزادی کے خواب کے شرمندۂ تعبیر ہونے میں اِن باہمت خواتین کا نہایت ولولہ انگیز کردار ہے۔ (راجستھان اردو اکادمی کے سیمینار میں پیش کیا گیا)

Advertisement

Related Articles