21 ویں صدی میں دیہی معیشت میں تبدیلی آئے گی:مودی

ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سے ایگری کلچر انفراسٹرکچر فنڈ کا افتتاح

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو اس امید کا اظہار کیا کہ ایک لاکھ کروڑ روپے کی ایگری کلچر انفراسٹرکچر فنڈ سے گاؤں میں زراعت پر مبنی صنعتوں کا قیام عمل میں آئے گا جس سے چھوٹے کسان معاشی طور سے خودکفیل ہوں گے۔
مسٹر مودی نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ سے ایگری کلچر انفراسٹرکچر فنڈ کی ابتدا کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فنڈ کی مدد سے گاؤں میں فارمرپروڈیوسرآرگنائزیشن اور کسانوں کا گروپ گودام، کولڈ اسٹوریج اور فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری کا قیام عمل میں آئیں گے جس سے لوگوں کو روزگار ملے گا۔ اس سے کسان کاروباری بن سکیں گے۔ ملک میں دس ہزار نئے فارمرپروڈیوسر آرگنائزیشن بنائے جارہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ملک کے ایک حصے سے دوسرے حصے تک تازہ پھل، سبزی، دودھ اور مچھلی پہنچانے کے لئے کسان ریل کی ابتدا کی گئی ہے۔ پوری طرح سے اے سی یہ ریل گاڑی مہاراشٹر سے بہار کے درمیان چل رہی ہے۔ اس سے دونوں ریاستوں کے علاوہ مدھیہ پردیش اور اترپردیش کے کسانوں کو بھی فائدہ ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ کسانوں کے لئے مسائل پیدا کرنے والے قوانین کو ختم کردیا گیا ہے اور زراعت کو صنعت جیسی سہولت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔

Advertisement

وزیر اعظم نے کہا کہ کسانوں کے لئے مشکلات پیدا کرنے والے قوانین کو ختم کردیا گیا ہے اور زراعت کو صنعت جیسی سہولت دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بابوؤں نے ضروری اجناس قانون کا غلط استعمال کیا اور اس سے تاجروں کو ڈرایا گیا، اس وقت جب یہ قانون نافذ کیا گیا تھا ، اس وقت ملک میں اناج کی قلت تھی لیکن آج اناج کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے۔

مسٹر مودی نے کہا کہ منڈی قانون کو ختم کردیا گیا ہے اور کسانوں کو کہیں بھی اناج بیچنے کی اجازت ہے اور کاشتکاروں کو صنعتوں کے ساتھ براہ راست شراکت دار بنانے کے لئے قانون میں تبدیلیاں کی گئیں ہیں۔ انہوں نے آج وزیر اعظم کسان یوجنا کے تحت ساڑھے آٹھ کروڑ کسانوں کے بینک اکاؤنٹ میں 17000 کروڑ روپئے منتقل کئے ۔

مسٹر مودی نے کہا کہ کوویڈ 19 بحران کے دور میں بھی ، کسانوں نے ملک میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت نہیں ہونے دی۔ کسانوں کی محنت کی وجہ سے 80 ملین افراد کو آٹھ ماہ سے مفت راشن فراہم کیا جارہا ہے۔

اس موقع پر وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران زرعی کام کی اجازت دی گئی تھی اور اس عرصے میں فصلوں کی کٹائی اور بوائی کا کام ہوا۔

 

 

 

 

Advertisement

Related Articles