آگرہ میں 27 اور 28 اکتوبر کو قومی تعلیمی پالیسی پر غور و خوض، 300 اساتذہ اور ماہرینِ تعلیم ہوں گے شریک

قومی کونسل برائے اساتذہ تعلیم کے زیرِ اہتمام دو روزہ قومی کانفرنس کا انعقاد، گورنر آنندی بین پٹیل بھی کریں گی شرکت؛ اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور قومی مینٹرنگ مشن پر ہوگی بحث
آگرہ، قومی تعلیمی پالیسی کے مطابق اساتذہ کے پیشہ ورانہ معیار، تدریسی صلاحیت اور اسکولی نظامِ تعلیم کو بہتر بنانے کے مقصد سے آگرہ میں 27 اور 28 اکتوبر کو دو روزہ قومی کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ قومی کونسل برائے اساتذہ تعلیم (این سی ٹی ای) کے زیرِ اہتمام ہونے والی اس کانفرنس میں مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں سے تقریباً 300 اساتذہ، پرنسپل اور شعبۂ تعلیم سے وابستہ نمائندے شرکت کریں گے۔کانفرنس کے کنوینر پروفیسر منو پرتاپ سنگھ نے اتوار کو بتایا کہ پروگرام کا انعقاد آگرہ یونیورسٹی کے کھنداری کیمپس میں واقع شیواجی منڈپم میں کیا جائے گا۔ اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل بھی اس کانفرنس میں خصوصی طور پر شرکت کریں گی۔انہوں نے بتایا کہ کانفرنس کا بنیادی مقصد قومی تعلیمی پالیسی کی سفارشات کے مطابق اساتذہ کی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانا، ان کی پیشہ ورانہ ترقی کو فروغ دینا اور اسکولوں میں مؤثر تدریسی نظام قائم کرنے کے مختلف پہلوؤں پر تبادلۂ خیال کرنا ہے۔پروفیسر سنگھ کے مطابق، کانفرنس کے پہلے دن، 27 اکتوبر کو این سی ٹی ای کے صدر پروفیسر پنکج اروڑہ شرکا سے تبادلۂ خیال کریں گے۔ اس دوران چار تکنیکی اجلاس منعقد ہوں گے، جن میں ماہرین اساتذہ کی تعلیم سے متعلق مختلف موضوعات پر اپنے خیالات پیش کریں گے۔ان اجلاسوں میں تعلیم سے متعلق ڈیجیٹل پورٹل اور کتابچے بھی پیش کیے جائیں گے۔ اس کے ذریعے شرکا کو تدریسی نظام میں بہتری لانے اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔
کانفرنس کے دوسرے دن، 28 اکتوبر کو قومی مینٹرنگ مشن (این ایم ایم) پر خصوصی اجلاس منعقد ہوگا۔ اس میں اساتذہ کی رہنمائی، پیشہ ورانہ ترقی اور تدریسی صلاحیت بڑھانے میں اس مشن کے کردار پر تفصیلی بحث کی جائے گی۔اس موقع پر این ایم ایم پورٹل بھی پیش کیا جائے گا۔ شرکا کو پورٹل کے کام کرنے کے طریقۂ کار اور اس کے ذریعے اساتذہ کو فراہم کی جانے والی رہنمائی کی سہولتوں کے بارے میں بتایا جائے گا۔کانفرنس میں چنڈی گڑھ، دہلی، ہریانہ، ہماچل پردیش، پنجاب، اتر پردیش، اتراکھنڈ، جموں و کشمیر اور لداخ سے تقریباً 300 نمائندوں کی شرکت متوقع ہے۔ ان میں اساتذہ، پرنسپل اور شعبۂ تعلیم سے وابستہ دیگر افراد شامل ہوں گے۔مختلف ریاستوں سے آنے والے شرکا قومی تعلیمی پالیسی کے نفاذ، اساتذہ کی تربیت، اسکولی تعلیم کے معیار اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے سے متعلق اپنے تجربات اور تجاویز پیش کریں گے۔ اس مقصد کے لیے گروپ مباحثے بھی منعقد کیے جائیں گے۔پروفیسر منو پرتاپ سنگھ نے بتایا کہ کانفرنس کی اہم خصوصیت اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور تدریسی صلاحیت سے متعلق معیار پر غور و خوض کرنا ہے۔ اس کے علاوہ قومی مینٹرنگ مشن کے ذریعے اساتذہ کو مؤثر رہنمائی فراہم کرنے کے نظام پر بھی تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔

Related Articles