سی ای سی کے استعفے اور ایس آئی آر کے خلاف انڈیا الائنس کا پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک مارچ
نیتی آیوگ کے قریب مارچ کے درمیان کئی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا


نئی دہلی، ‘انڈیا اتحاد نے منگل کو چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانش کمار کے استعفے اور ‘ایس آئی آر کے عمل کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ہیڈ کوارٹر تک مارچ کیا۔ مارچ کے دوران کئی رہنماؤں کو دہلی پولیس نے نیتی آیوگ کے ریب حراست میں لے لیا۔ان میں راہل گاندھی بھی شامل ہیں۔ انہیں آکاشونی بھون میں رکھا گیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر گیٹ سے شروع ہونے والے مارچ کو سیکورٹی فورسز نے نیتی آیوگ کے دفتر کے قریب رکاوٹیں کھڑی کر کے روک دیا جیسے ہی انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی، اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ سڑک پر بیٹھ گئے اور مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازی کی۔ مارچ میں کانگریس، سماج وادی پارٹی، اور بائیں بازو کی جماعتوں کے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے ممبران پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی۔
دہلی میں بی جے پی کے دفاتر پر طنز کرتے ہوئے ایس پی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے میڈیا سے کہا کہ "بی جے پی کو دہلی میں اتنے بڑے دفاتر بنانے کی کیا ضرورت تھی”۔ بہتر ہوتا کہ وہ الیکشن کمیشن کے دفتر میں ایک منزل لے کر وہاں سے کام کرتے۔ ایسا لگتا ہے کہ کمیشن کی نظر میں صرف بی جے پی کارکن ہی ملک کے شہری اور ووٹر ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اتر پردیش کے کندرکی، میراپور، ایودھیا اور امبیڈکر نگر کے ساتھ ساتھ مغربی بنگال میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں مشینری کا غلط استعمال کرکے دھاندلی کی گئی۔
اکھلیش نے الزام لگایا کہ کمیشن نے باضابطہ شکایت کے باوجود متعلقہ حکام پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ نند لال نشاد کے نام پر فارم 7 جعلی بھروانے اور درست ووٹرز کے نام کٹوامے کی شکایت کارروائی نہیں کی گئی۔ ‘ایک ملک، ایک الیکشن’ کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نظام ایک بار میں انتخابات میں ہیرا پھیری کرنے اور بغیر کسی رکاوٹ کے پانچ سال تک اقتدار میں رہنے کی سازش ہے، جسے عوام قبول نہیں کریں گے۔
سی ای سی کے استعفے اور ایس آئی آر کے خلاف انڈیا الائنس کا پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن تک مارچ
نیتی آیوگ کے قریب مارچ کے درمیان کئی رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا
نئی دہلی، ‘انڈیا اتحاد نے منگل کو چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانش کمار کے استعفے اور ‘ایس آئی آر کے عمل کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ہیڈ کوارٹر تک مارچ کیا۔ مارچ کے دوران کئی رہنماؤں کو دہلی پولیس نے نیتی آیوگ کے قریب حراست میں لے لیا۔ان میں راہل گاندھی بھی شامل ہیں۔ انہیں آکاشونی بھون میں رکھا گیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے مکر گیٹ سے شروع ہونے والے مارچ کو سیکورٹی فورسز نے نیتی آیوگ کے دفتر کے قریب رکاوٹیں کھڑی کر کے روک دیا۔ جیسے ہی انہیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی، اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ سڑک پر بیٹھ گئے اور مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن کے خلاف نعرے بازی کی۔ مارچ میں کانگریس، سماج وادی پارٹی، اور بائیں بازو کی جماعتوں کے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ ساتھ بیجو جنتا دل (بی جے ڈی) کے ممبران پارلیمنٹ نے بھی شرکت کی۔
دہلی میں بی جے پی کے دفاتر پر طنز کرتے ہوئے ایس پی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے میڈیا سے کہا کہ "بی جے پی کو دہلی میں اتنے بڑے دفاتر بنانے کی کیا ضرورت تھی”۔ بہتر ہوتا کہ وہ الیکشن کمیشن کے دفتر میں ایک منزل لے کر وہاں سے کام کرتے۔ ایسا لگتا ہے کہ کمیشن کی نظر میں صرف بی جے پی کارکن ہی ملک کے شہری اور ووٹر ہیں۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اتر پردیش کے کندرکی، میراپور، ایودھیا اور امبیڈکر نگر کے ساتھ ساتھ مغربی بنگال میں ہونے والے ضمنی انتخابات میں مشینری کا غلط استعمال کرکے دھاندلی کی گئی۔
اکھلیش نے الزام لگایا کہ کمیشن نے باضابطہ شکایت کے باوجود متعلقہ حکام پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ نند لال نشاد کے نام پر فارم 7 جعلی بھروانے اور درست ووٹرز کے نام کٹوامے کی شکایت کارروائی نہیں کی گئی۔ ‘ایک ملک، ایک الیکشن’ کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ نظام ایک بار میں انتخابات میں ہیرا پھیری کرنے اور بغیر کسی رکاوٹ کے پانچ سال تک اقتدار میں رہنے کی سازش ہے، جسے عوام قبول نہیں کریں گے۔



