مدھیہ پردیش:کم از کم اجرت کے مطالبے پر عارضی ملازمین کا بی جے پی دفتر کے باہر دھرنا

بھوپال،  مدھیہ پردیش کے دارالحکومت بھوپال میں کم از کم اجرت کے مطالبے کو لے کر عارضی، جز وقتی، چوکیدار اور ٹھیکہ ملازمین نے پیر کو بی جے پی کے ریاستی دفتر کے باہر دھرنا دیا۔ مظاہرین نے پنڈت دین دیال اپادھیائے کے مجسمے کے سامنے نعرے بازی کرتے ہوئے ’کم از کم اجرت دلاؤ، بھوک ہڑتال تحریک‘ شروع کی۔ملازمین نے بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال کو 2003 میں اس وقت کی وزیر اعلیٰ اوما بھارتی کی جانب سے کیے گئے اعلان کی یاد دلائی۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت اور انہیں حقیقت میں ملنے والی رقم میں بڑا فرق ہے۔عارضی و آؤٹ سورس ملازمین مورچہ کے ریاستی صدر واسودیو شرما نے بتایا کہ ریاستی حکومت نے کم از کم اجرت 12,425 سے 16,769 روپے ماہانہ مقرر کر رکھی ہے، لیکن اس کے باوجود کئی سرکاری محکموں میں ملازمین سے صرف 3 سے 5 ہزار روپے ماہانہ پر کام لیا جا رہا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ صنعتی علاقوں میں بھی ٹھیکہ ملازمین کو مکمل کم از کم اجرت نہیں مل رہی۔

شرما نے کہا کہ اس صورتحال سے عارضی اور ٹھیکہ ملازمین میں ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاج کی اطلاع پہلے ہی بی جے پی کے ریاستی صدر ہیمنت کھنڈیلوال کو خط کے ذریعے دے دی گئی تھی۔ان کے مطابق تحریک میں تقریباً 11 مختلف زمروں کے ملازمین شامل ہیں۔ ان میں گرام پنچایتوں کے چوکیدار، پمپ آپریٹر، خادم، صفائی کارکن اور لوکل یوتھ سروےئر شامل ہیں۔ ملازمین کا دعویٰ ہے کہ بعض کارکنوں کو صرف 2 سے 3 ہزار روپے ماہانہ ادا کیے جا رہے ہیں۔اسکولوں اور ہاسٹلوں میں کام کرنے والے جز وقتی و عارضی ملازمین بھی احتجاج میں شامل ہیں۔ شرما کا الزام ہے کہ ان ملازمین سے 4 سے 5 ہزار روپے ماہانہ کے عوض 10 سے 12 گھنٹے تک کام لیا جا رہا ہے۔ملازمین کے مطابق مختلف محکموں اور اسکیموں میں کام کرنے والوں کو ملنے والی ماہانہ رقم میں کافی فرق ہے۔ اسکولوں، ہاسٹلوں اور آیوش محکمے کے جز وقتی ملازمین کو 4 سے 5 ہزار روپے، گرام پنچایتوں کے چوکیدار، پمپ آپریٹر، خادم اور صفائی کارکنوں کو 3 سے 4 ہزار روپے، جبکہ محکمہ صحت کے چوتھی جماعت کے آؤٹ سورس ملازمین کو 7 سے 8 ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں۔
محکمہ محصولات کے لوکل یوتھ سروےئر کو ایک ہزار روپے، قبائلی پنچایتوں کے پیسا موبلائزر کو 4 ہزار روپے، کوٹوار کو 2 سے 5 ہزار روپے اور اسکولوں کے مڈ ڈے میل کارکنوں کو 4 ہزار روپے ماہانہ ملنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ منریگا کے میٹ کارکنوں کو 2 ہزار روپے سے بھی کم اور یوگا معاونین و انسٹرکٹرز کو 4,500 روپے ملنے کی بات کہی گئی ہے۔ سوچھتا گرہیوں کو بغیر اجرت کے کام سے ہٹائے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔

ملازمین نے بی جے پی کے ریاستی صدر کو بھیجے گئے خط میں کہا ہے کہ ریاست کی محنت کش عوام 2003 سے مسلسل بی جے پی کو اقتدار میں لاتی رہی ہے، لیکن گزشتہ 23 برس میں چپراسی تک کی مستقل سرکاری ملازمتیں فراہم نہیں کی گئیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تیسری اور چوتھی جماعت کی سرکاری ملازمتوں کو عارضی اور آؤٹ سورس نظام میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ ملازمتیں غریب، مزدور، دلت، قبائلی، او بی سی اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے نوجوانوں کے لیے روزگار کا اہم ذریعہ تھیں۔ ان کے مطابق عارضی اور آؤٹ سورس ملازمتوں میں نہ روزگار کا تحفظ ہے اور نہ ہی مناسب اجرت۔ملازمین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مقررہ کم از کم اجرت کے مطابق ادائیگی یقینی بنائی جائے اور عارضی و آؤٹ سورس کارکنوں کے لیے روزگار کا تحفظ اور باعزت اجرت فراہم کی جائے۔

Related Articles