پولیس فیڈریشن نے آفیسرز کی تنخواہوں میں 17فیصد اضافے کا مطالبہ کر دیا
لندن ،مارچ۔ پولیس فیڈریشن آف انگلینڈ اینڈ ویلز (پی ایف ای ڈبلیو) نے آفیسرز کی تنخواہوں میں 17 فیصد اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئیکہا ہے کہ ان کے ہڑتال کے حق پر پابندیوں کی وجہ سے تنخواہیں منفی طور پر متاثر ہوتی ہیں۔ بدھ کے روز تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس فیڈریشن نے، جو 139000 سے زیادہ آفیسرز کی نمائندگی کرنے والی ایک قانونی سٹاف ایسوسی ایشن ہے، سوشل مارکیٹ فاؤنڈیشن (ایس ایم ایف) کی انڈی ٹپینڈنٹ ریسرچ کا حوالہ دیا اور اسے پالیسی سازوں کیلئے ویک اپ کال قرار دیا ہے۔ پولیس فیڈریشن آف انگلینڈ اینڈ ویلز نے کہا کہ حکومت کو ایک جانب بیٹھے نہیں رہنا چاہئے اور ہمارے ارکان کی بنیادی ضروریات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ فیڈریشن کے مطابق ایس ایم ایف کی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ 2000 سے لے کر اب تک پولیس کی تنخواہ افراط زر سے تقریباً 20 فیصد پیچھے رہ گئی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کانسٹیبل کی ابتدائی تنخواہیں پوری معیشت میں مجموعی طور پر کمائی سے پیچھے رہ گئی ہیں۔ ریسر چ میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسی عرصے کے دوران ایم پیز کی تنخواہوں میں مجموعی طور پر 4 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فیڈریشن نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ دیگر تمام ایمرجنسی ورکرز کے مقابلے اپنے حق اور مطالبات کیلئے ہڑتال کا صنعتی اقدام کرنے میں ناکامی نے اس پروفیشن کو مختلف نقصان میں ڈال دیا ہے۔ پی ایف ای ڈبلیو نے استدلال کیا ہے کہ پولیس کی انوکھی ذمہ داریاں ہیں اور ان کے جسمانی اور نفسیاتی نقصان کے خطرے کو ان کے معاوضے میں ظاہر کیا جانا چاہئے۔ پولیس فیڈریشن آف انگلینڈ اینڈ ویلز چیئر سٹیو ہارٹس شورن نے اس ریسرچ کو برطانوی پالیسی میکرز کیلئے ویک اپ کال قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک طویل عرصے سے پولیس فیڈریشن آف انگلینڈ اینڈ ویلز ہمارے ارکان کی بہتر تنخواہ اور اچھے حالات کار کیلئے کام کر رہی ہے۔ پولیس آفیسرز اپنی کمیونٹیز کی خدمت اور حفاظت کیلئے ہر روز اپنی جانیں دائو پر لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری نیشنل کونسل نے اپنے آفیسرزکی تنخواہوں میں کم از کم 17 فیصد اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نیکہا کہ حکومت اس صورت حال میں خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتی اور وہ ہمارے ارکان کی بنیادی ضروریات کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ اسے اس انڈی پینڈنٹ ریسرچ کے نتائج کو تسلیم کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے افراط زر اور مصارف زندگی کے تناظر میں حکومت کو پولیس ریٹینشن کرائسس ‘ آفیسرز کا فوڈ بنکس کا رخ کرنے پر مجبور ہونے کی اطلاعات کو مدنظر رکھتے ہوئے تنخواہوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد اب پولیس کی تنخواہوں کے مسئلے پر توجہ دی جانی چاہئے۔ پولیس آفیسرز عزت اور وقار پر مبنی برتاؤ کے مستحق ہیں اور اس کا آغاز بہتر تنخواہ سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ ایسی ہونی چاہئے جو مصارف زندگی کے بحران کی عکاسی کرے، جس کا ہم میں سے بہت سے لوگوں کو سامنا ہے۔ حکومت 2000 کے بعد سے تنخواہ میں ہونے والی 17 فیصد کمی کو درست کرے اور تنخواہ میں اضافہ کر کے اس کی تلافی کرے اور آفیسرز کے ان خطرات کی تلافی کرے، جس کا سامنا وہ اپنی ملازمت کے حصے کے طور کرتے ہیں۔ پولیس فیڈریشن نے کہا کہ انڈسٹریل رائٹس تک رسائی نہ ہونے پر انہیں ایسا اہم اورمنفرد کام کرنے کا مناسب معاوضہ دیا جانا چاہئے۔ پولیس فیڈریشن نے آفیسرز کی تنخواہوں میں 17فیصد اضافے کا مطالبہ کر دیا
لندن ،مارچ۔ پولیس فیڈریشن آف انگلینڈ اینڈ ویلز (پی ایف ای ڈبلیو) نے آفیسرز کی تنخواہوں میں 17 فیصد اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئیکہا ہے کہ ان کے ہڑتال کے حق پر پابندیوں کی وجہ سے تنخواہیں منفی طور پر متاثر ہوتی ہیں۔ بدھ کے روز تنخواہوں میں اضافے کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس فیڈریشن نے، جو 139000 سے زیادہ آفیسرز کی نمائندگی کرنے والی ایک قانونی سٹاف ایسوسی ایشن ہے، سوشل مارکیٹ فاؤنڈیشن (ایس ایم ایف) کی انڈی ٹپینڈنٹ ریسرچ کا حوالہ دیا اور اسے پالیسی سازوں کیلئے ویک اپ کال قرار دیا ہے۔ پولیس فیڈریشن آف انگلینڈ اینڈ ویلز نے کہا کہ حکومت کو ایک جانب بیٹھے نہیں رہنا چاہئے اور ہمارے ارکان کی بنیادی ضروریات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔ فیڈریشن کے مطابق ایس ایم ایف کی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ 2000 سے لے کر اب تک پولیس کی تنخواہ افراط زر سے تقریباً 20 فیصد پیچھے رہ گئی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کانسٹیبل کی ابتدائی تنخواہیں پوری معیشت میں مجموعی طور پر کمائی سے پیچھے رہ گئی ہیں۔ ریسر چ میں یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسی عرصے کے دوران ایم پیز کی تنخواہوں میں مجموعی طور پر 4 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ فیڈریشن نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ دیگر تمام ایمرجنسی ورکرز کے مقابلے اپنے حق اور مطالبات کیلئے ہڑتال کا صنعتی اقدام کرنے میں ناکامی نے اس پروفیشن کو مختلف نقصان میں ڈال دیا ہے۔ پی ایف ای ڈبلیو نے استدلال کیا ہے کہ پولیس کی انوکھی ذمہ داریاں ہیں اور ان کے جسمانی اور نفسیاتی نقصان کے خطرے کو ان کے معاوضے میں ظاہر کیا جانا چاہئے۔ پولیس فیڈریشن آف انگلینڈ اینڈ ویلز چیئر سٹیو ہارٹس شورن نے اس ریسرچ کو برطانوی پالیسی میکرز کیلئے ویک اپ کال قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک طویل عرصے سے پولیس فیڈریشن آف انگلینڈ اینڈ ویلز ہمارے ارکان کی بہتر تنخواہ اور اچھے حالات کار کیلئے کام کر رہی ہے۔ پولیس آفیسرز اپنی کمیونٹیز کی خدمت اور حفاظت کیلئے ہر روز اپنی جانیں دائو پر لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ آج ہماری نیشنل کونسل نے اپنے آفیسرزکی تنخواہوں میں کم از کم 17 فیصد اضافہ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نیکہا کہ حکومت اس صورت حال میں خاموش تماشائی بن کر نہیں بیٹھ سکتی اور وہ ہمارے ارکان کی بنیادی ضروریات کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ اسے اس انڈی پینڈنٹ ریسرچ کے نتائج کو تسلیم کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ بڑھتے ہوئے افراط زر اور مصارف زندگی کے تناظر میں حکومت کو پولیس ریٹینشن کرائسس ‘ آفیسرز کا فوڈ بنکس کا رخ کرنے پر مجبور ہونے کی اطلاعات کو مدنظر رکھتے ہوئے تنخواہوں میں اضافہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد اب پولیس کی تنخواہوں کے مسئلے پر توجہ دی جانی چاہئے۔ پولیس آفیسرز عزت اور وقار پر مبنی برتاؤ کے مستحق ہیں اور اس کا آغاز بہتر تنخواہ سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنخواہ ایسی ہونی چاہئے جو مصارف زندگی کے بحران کی عکاسی کرے، جس کا ہم میں سے بہت سے لوگوں کو سامنا ہے۔ حکومت 2000 کے بعد سے تنخواہ میں ہونے والی 17 فیصد کمی کو درست کرے اور تنخواہ میں اضافہ کر کے اس کی تلافی کرے اور آفیسرز کے ان خطرات کی تلافی کرے، جس کا سامنا وہ اپنی ملازمت کے حصے کے طور کرتے ہیں۔ پولیس فیڈریشن نے کہا کہ انڈسٹریل رائٹس تک رسائی نہ ہونے پر انہیں ایسا اہم اورمنفرد کام کرنے کا مناسب معاوضہ دیا جانا چاہئے۔