ذاتی حملے اور زہریلی سیاست ملک کے مفاد میں نہیں: مایاوتی

لکھنؤ، کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے والد کے بارے میں کیے گئے تبصرے کو لے کر سیاسی حلقوں میں ہنگامہ جاری ہے۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی قومی صدر مایاوتی نے کانگریس کے کسی بڑے رہنما کا نام لیے بغیر اس طرح کی بیان بازی کو ملک کے وقار اور عزت و احترام کے لیے بھی انتہائی تشویش ناک قرار دیا ہے۔
بی ایس پی سربراہ نے منگل کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ بھارتی سیاست میں باہمی عدم اعتماد، نفرت، تلخی اور الزامات و جوابی الزامات کی سطح گرتے گرتے اب ذاتی حملوں تک بھی بے قابو ہو گئی ہے۔ اس کا غیر پارلیمانی، غیر مہذب، توہین آمیز، تنگ نظری اور ذات پات کے تعصب سے متاثر ہوتے ہوئے پُرتشدد بیان بازی تک پہنچ جانا افسوس ناک ہے۔ یہ ملک کے وقار اور عزت و احترام کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگوں کے درمیان اگر ایک دوسرے کے لیے مناسب احترام نہیں ہے، تو کم از کم قابلِ اعتراض اور زہریلی سیاست کو کسی بھی صورت میں فروغ نہیں دیا جانا چاہیے۔ خاص طور پر تنگ نظری اور غریب مخالف خود غرضانہ سیاست کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے لوگوں کا یہاں کے سیاسی نظام پر اعتماد کمزور ہونا کسی بھی صورت میں ملک اور عوام کے مفاد میں نہیں ہوگا۔مایاوتی نے مزید کہا کہ سرکاری سطح پر بڑے پیمانے پر بدعنوانی اور انتخابی عمل پر بھی انگلیاں اٹھنے کی وجہ سے عوام پہلے ہی کافی بے چینی کا شکار ہیں۔ ایسے میں رہنماؤں کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی لڑائی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے، جبکہ عوام چاہتے ہیں کہ سبھی لوگ ملک میں بڑھتی ہوئی غربت، بے روزگاری اور مہنگائی جیسی سنگین پریشانیوں کے حل پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں خاص طور پر تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کے درمیان ناشائستہ تبصروں اور بیان بازی کی بڑھتی ہوئی مسابقت سیاسی ماحول کو مزید تلخ اور زہریلا بنا دے گی، جو مناسب نہیں ہے۔

Related Articles