حرمین شریفین کی سلامتی امت مسلمہ کے ضمیر کا امتحان
مقدس شہروں کی سلامتی کیلئے مسلم دنیا کا مؤقف اور سفارتی اقدام ناگزیر

ع
بداللطیف ندویؔ
د
ارالعلوم نظامیہ ،فرنگی محل،لکھنؤ
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ امت مسلمہ کی مشترکہ دینی اور تہذیبی شناخت کے عظیم مراکز ہیں۔ مکہ مکرمہ میں خانۂ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ ہے، جبکہ مدینہ منورہ رسول اکرم ؐؐکی ہجرت، قیام اور روضۂ اقدس کی نسبت سے غیرمعمولی مقام رکھتا ہے۔ ان مقدس شہروں کی سلامتی کا مسئلہ پوری امت مسلمہ کی
دینی اور ملی ذمہ داری ہے۔ ایسے میں سعودی عرب پر میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کی اطلاعات نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ حرمین شریفین اور سعودی عرب کی سلامتی کیلئے مسلم دنیا کیا عملی کردار ادا کرے گی۔اکتوبر 2026 کے دوران سعودی عرب میں حملوں، اہم تنصیبات کو نقصان اور فضائی سفر میں خلل کی اطلاعات نے صورت حال کی سنگینی واضح کردی ہے۔ 25 اکتوبر کو سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق سعودی فضائی دفاع نے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو روکا، جبکہ مکہ ریجن کے مختلف علاقوں میں دو میزائلوں کا ملبہ گرنے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ دوسری جانب حوثی قیادت نے مقدس شہروں کو نشانہ بنانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔ ان اطلاعات کی تصدیق ضروری ہے، لیکن سعودی عرب پر حملوں اور شہریوں کو لاحق خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ سعودی عرب کی خودمختاری، شہریوں اور حرمین شریفین کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
حوثی تحریک اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کوئی نیا معاملہ نہیں۔ یمن کا تنازعہ برسوں سے سیاسی اقتدار، علاقائی اثرورسوخ اور بیرونی مداخلت کے باعث جاری ہے۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی کوششوں سے قائم ہونے والی جنگ بندی نے سرحد پار حملوں میں بڑی حد تک کمی کی تھی، لیکن حالیہ کشیدگی نے امن کی امیدوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے اس کی قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہیں اور پورے خطے کے امن، تجارت، تیل کی ترسیل اور فضائی رابطوں کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ کسی سیاسی یا عسکری مقصد کے لیے شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا ناقابلِ قبول ہے۔ سعودی عرب کو اپنے دفاع اور شہریوں کی حفاظت کا مکمل حق حاصل ہے۔اسلامی تعلیمات میں حرمین شریفین کی حرمت ایک بنیادی دینی حقیقت ہے۔ قرآن مجید میں مسجد حرام کے خصوصی مقام اور احترام کو نمایاں کیا گیا ہے۔ ان مقدس مقامات کی سلامتی کو کسی سیاسی تنازع یا علاقائی رقابت کے تابع نہیں کیا جاسکتا۔ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے امت مسلمہ کو محض جذباتی نعروں کے بجائے عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ سعودی عرب کے ساتھ واضح یکجہتی، مؤثر سفارت کاری اور مقدس مقامات کو لاحق خطرات کی روک تھام ضروری ہے۔ غیرمصدقہ اطلاعات پھیلانے اور فرقہ وارانہ نفرت کو ہوا دینے سے گریز بھی ضروری ہے، تاکہ مسلم اتحاد کمزور نہ ہو۔
سعودی عرب کو اپنی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت مسلح حملے کی صورت میں ریاستوں کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ تاہم دفاعی اقدامات میں ضرورت، تناسب اور شہریوں کے تحفظ کے اصولوں کی پابندی بھی ضروری ہے۔ حوثی قیادت اور کسی بھی دوسرے حملہ آور فریق پر لازم ہے کہ وہ سعودی عرب کے شہری علاقوں، ہوائی اڈوں، بنیادی تنصیبات اور مقدس مقامات کو خطرے میں ڈالنے والی کارروائیوں سے باز رہے۔ کسی کو بھی مذہبی تقدس اور انسانی جانوں کو اپنے سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔مسلم دنیا کو اب مذمتی بیانات سے آگے بڑھ کر سعودی عرب کی سلامتی کے لیے مشترکہ سفارتی لائحۂعمل اختیار کرنا چاہیے۔ اسلامی تعاون تنظیم، پاکستان، ترکی، مصر اور دیگر بااثر مسلم ریاستوں کو سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا واضح اظہار کرتے ہوئے حملوں کی روک تھام کے لیے مؤثر کوششیں کرنی چاہییں۔ حوثی قیادت اور دیگر متعلقہ فریقوں پر دباؤ ڈالا جائے کہ وہ سعودی عرب کے خلاف حملے بند کریں۔ اقوام متحدہ کی سرپرستی میں جنگ بندی، حملوں کی نگرانی اور خلاف ورزیوں کی غیرجانب دارانہ تحقیقات کا مؤثر طریقۂ کار تشکیل دینا بھی ضروری ہے۔
یمن کے عوام کی مشکلات کو نظرانداز کیے بغیر سعودی عرب کی سلامتی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔ یمن کے عوام برسوں سے جنگ، غربت اور بے گھری کا سامنا کررہے ہیں، لیکن ان مشکلات کو سعودی عرب پر حملوں کا جواز نہیں بنایا جاسکتا۔ انسانی بحران کا خاتمہ اور سعودی عرب کا تحفظ ایک دوسرے کے مخالف نہیں۔ حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو تجارت، توانائی کی عالمی منڈیوں، فضائی سفر اور عام شہریوں کی زندگیوں پر مزید منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لیے حملہ آوروں کو روکنا، سعودی عرب کی سلامتی یقینی بنانا اور سیاسی تنازع کا پْرامن حل تلاش کرنا خطے کے مفاد میں ہے۔عالمی برادری کی ذمہ داری بھی محض تشویش کے اظہار سے پوری نہیں ہوتی۔ بڑی طاقتوں کو اپنے علاقائی مفادات سے بالاتر ہوکر سعودی عرب کے خلاف حملوں کی روک تھام اور خطے میں امن کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ بین الاقوامی قانون کا اطلاق سیاسی مفادات کے مطابق مختلف نہیں ہونا چاہیے۔ حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ ذمہ داری کا تعین شواہد کی بنیاد پر ہو، شہریوں کی سلامتی کو اولین ترجیح دی جائے اور کسی بھی فریق کو مقدس مقامات کی حرمت پامال کرنے کی اجازت نہ ملے۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی انتخابات سے قبل بنیامین نیتن یاہو کی حمایت اور اسرائیلی ووٹروں سے انہیں ووٹ دینے کی اپیل بھی عالمی سیاست میں طاقت اور سیاسی مفادات کے اثرات کی مثال ہے۔ 26 اکتوبر کی اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے نیتن یاہو کی حمایت کا اعادہ کیا اور ایران کے خلاف محاذ آرائی کو اس اپیل کا حصہ بنایا۔ یہ معاملہ سعودی عرب پر حملوں سے الگ ہے، تاہم اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں فیصلے عوام کی سلامتی اور دیرپا استحکام کی بنیاد پر ہوں گے یا طاقت ور قیادتوں کے سیاسی مفادات غالب رہیں گے۔ خطے کو جنگ کے بجائے مذاکرات، امن اور ریاستوں کی خودمختاری کے احترام کی ضرورت ہے۔حرمین شریفین کی سلامتی امت مسلمہ کے ایمان، اتحاد اور اجتماعی ضمیر کا امتحان ہے۔ سعودی عرب پر حملوں کے معاملے میں مسلم دنیا کو واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس کی سلامتی کے دفاع میں عملی کردار ادا کرنا چاہیے۔ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کو مؤثر سفارتی اقدامات میں تبدیل کریں۔ حرمین شریفین کا تحفظ پوری امت مسلمہ کی مشترکہ دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم دنیا متحد ہوکر واضح پیغام دے کہ سعودی عرب کی خودمختاری، شہریوں کی سلامتی اور مقدس مقامات کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔




