ریاستی حکومت جوابدہ، شفاف اور حساس پولیس انتظامیہ فراہم کرنے کے لیے پرعزم : گہلوت
جے پور، مارچ ۔راجستھان کے وزیر اعلی اشوک گہلوت نے ریاستی حکومت کو جوابدہ، شفاف اور حساس پولیس انتظامیہ فراہم کرنے کے لیے پرعزم بتاتے ہوئے کہا کہ پولیس انتظامیہ معاشرے میں امن و امان برقرار رکھنے اور جرائم پر قابو پانے ، معاشرے کے لیے تحفظ فراہم کرنے کی ذمہ داری عزم کے ساتھ ادا کررہی ہے۔ مسٹر گہلوت بدھ کو راجستھان پولیس اکیڈمی میں ٹرینی آر پی ایس کے 53ویں بیچ کے کانووکیشن پریڈ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ سطح کی تربیت فرائض اور حقوق میں توازن قائم کرنا سکھاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کا عام آدمی کے تئیں حساس رویہ برابری کے حق کے آئین کی بنیادی روح کو تقویت دیتا ہے اور پولیس کے تئیں عوام کا اعتماد مضبوط ہوتا ہے۔انہوں نے ٹرینی پولیس افسران کی بطور مہمان خصوصی سلامی لی اور پریڈ کا معائنہ کیا۔ وزیراعلیٰ نے نئے ٹرینیز کو مبارکباد دیتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ اکیڈمی میں حاصل ہونے والی تربیت انہیں اپنے فرائض کی انجام دہی اور معاشرے کو انصاف فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ مہاتما گاندھی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے ملک دنیا میں ایک مضبوط جمہوریت کے طور پر قائم ہوا ہے۔ یہاں کے تنوع کے باوجود ہم نے ملک کو آئینی اصولوں کے بل بوتے پر متحد رکھا ہے۔ انہوں نے ٹرینی افسران سے کہا کہ وہ گاندھی جی کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں اور ریاست میں امن اور ہم آہنگی کی روایت کو مضبوط رکھنے میں اپنا حصہ ادا کریں۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ اس وقت پولیسنگ کے کام میں نئے چیلنجز سامنے آرہے ہیں اس لئے افسران کو تحقیق میں نئے سائنسی طریقوں اور جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہوگا۔ ریاستی حکومت پولیس فورس کی تکنیکی کارکردگی کو بڑھانے کے لیے مختلف پروگرام چلا رہی ہے۔ اس سلسلے میں 2000 سے زائد پولیس اہلکاروں کو خصوصی تربیت دی گئی ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے خواتین پولیس اہلکاروں کا ایک سنٹرل بینڈ قائم کرنے اور ریاست کی بہترین پولیس ٹریننگ اکیڈمی اور بہترین ٹرینر سے نوازنے کا اعلان کیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ 2019 کے مقابلے میں ریاست میں جرائم میں پانچ فیصد کمی آئی ہے جبکہ 17 ریاستوں میں جرائم کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ گجرات میں 69 فیصد، ہریانہ میں 24 فیصد اور مدھیہ پردیش میں 20 فیصد اضافہ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام ریاستی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ریاست میں عصمت دری کے جرائم کی تفتیش کا وقت 2018 میں 274 دن سے کم ہو کر 68 دن رہ گیا ہے، جب کہ پوکسو کے لیے تفتیش کا وقت 232 سے کم ہو کر 66 دن رہ گیا ہے۔ آبروریزی کے مقدمات میں 12 مجرموں کو سزائے موت، 466 کو عمر قید اور 750 کو 20 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ خواتین کو فوری انصاف فراہم کرنے کے لیے ضلعی سطح پر خواتین کے خلاف جرائم کے لیے خصوصی تحقیقاتی یونٹ قائم کیا گیا ہے۔ پولیس میں انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے پولیس اہلکاروں کے لیے ہفتہ وار چھٹی کا نظام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ راجستھان پولیس کے شاندار کام کی وجہ سے ریاست میں امن و امان قابو میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر کے لازمی اندراج نے فوجداری مقدمات کے اندراج کے عمل کو آسان بنا دیا ہے۔ سائبر کرائم، منشیات، غیر قانونی اسلحہ اور لینڈ مافیا سے متعلق جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے پولیس فورس میں سنگین جرائم کے یونٹس، موبائل یونٹس وغیرہ بھی چلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین، بچوں، کمزور طبقوں کے تحفظ اور ان کے مسائل کے جلد ازالے کے لیے تھانوں میں استقبالیہ کمرے قائم کیے گئے ہیں اور عوامی سماعتوں کے لیے وقت مقرر کیا گیا ہے اور ہر شعبے میں خواتین کی مناسب نمائندگی کو یقینی بنایا گیا ہے، ریاست حکومت عزم کے ساتھ کام کر رہی ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ آج راجستھان پولیس میں خواتین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ آج پاس آؤٹ ہونے والے 35 ٹرینیز میں 13 خواتین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔