سیلف ہیلپ گروپ نہیں رہ جاتے ایسے گروپ ، بن جاتے ہیں ’نیشنل ہیلپ گروپس‘ : مودی
کراہل (شیوپور)، ستمبر۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج قوم کی تعمیر میں ملک کے لاکھوں سیلف ہیلپ گروپس کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ شروع ات میں بھلے ہی ایسے گروپ سیلف ہیلپ گروپ کہلاتے ہوں ، لیکن بعد میں اپنے کام کی وجہ سے وہ ’نیشنل ہیلپ گروپس‘ بن جاتے ہیں۔مسٹر مودی نے آج یہاں خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کی ایک کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ جب 10-12 خواتین اپنا کام شروع کرتی ہیں تو انہیں سیلف ہیلپ گروپ کہا جاتا ہے لیکن جب وہ اپنے عزم کی وجہ سے کام کو آگے بڑھاتی ہیں تو ایسے گروپس نیشنل ہیلپ گروپ بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے تجربے سے کہہ سکتے ہیں کہ جب خواتین کی نمائندگی بڑھ جاتی ہے تو کامیابی خود بخود یقینی ہو جاتی ہے۔ اپنی بات کی تائید میں انہوں نے سووچھ بھارت ابھیان اور جل جیون مشن کی مثال بھی دی۔اپنے خطاب کے دوران مسٹر مودی نے کہا کہ آج ملک بھر میں 8 کروڑ سے زیادہ بہنیں سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ ہیں۔ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ہر گاؤں سے کم از کم ایک خاتون سیلف ہیلپ گروپ کو جوڑا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں پچھلی اور موجودہ صدی میں بڑا فرق آ گیا ہے۔ اب خواتین کی طاقت سیاسی اور سماجی نمائندگی کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ پنچایت بھون سے راشٹرپتی بھون تک خواتین اپنا پرچم بلند کر رہی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ کووڈ کے وقت خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں نے ہر چیلنج پر قابو پا کر کام کیا۔ اسی طرح ان گروپوں نے ’ہر گھر ترنگا‘ مہم جیسے قومی فخر کے لمحات میں اہم کردار ادا کیا۔خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں کو بااختیار بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ایک ضلع ایک پروڈکٹ اسکیم کے تحت مقامی مصنوعات بڑے بازار تک پہنچ رہی ہیں۔ اس سے سیلف ہیلپ گروپس کو کافی فائدہ ہو رہا ہے۔ اس دوران قبائلی خواتین کو آن لائن شاپنگ کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین اپنی مصنوعات کو براہ راست جیم (گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس) پر رجسٹر کرا کے سرکاری محکموں کو فروخت کر سکتی ہیں۔مسٹر مودی نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ اگر کسی غیر ملکی مہمان کو کھانا پیش کیا جائے تو اس پلیٹ میں کچھ موٹے اناج ضرور شامل کئے جائیں۔ سیلف ہیلپ گروپس کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موٹے اناج کے میدان میں بھی ایسے گروپس کے لیے کئی مواقع موجود ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ سال 2014 سے ملک خواتین کے وقار میں اضافے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کاموں میں مصروف ہے۔ حکومت نے پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت خواتین کو گھر کی مالک بنایا ہے۔ آج ملک میں دو کروڑ سے زیادہ خواتین گھر کی مالک ہیں۔ پہلے جائیداد کا کنٹرول مردوں کے ہاتھ میں تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری انہیں معاشرے میں بھی بااختیار بناتی ہے، اس لیے حکومت نے خواتین کے لیے تمام دروازے کھول دیے ہیں۔ اب بیٹیاں سینک اسکول اور آرمی میں بھی جا رہی ہیں۔ گزشتہ آٹھ برسوں میں پولیس فورس میں خواتین کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔کانفرنس سے خطاب کے بعد وزیراعظم نے اسٹیج کے قریب خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کا معائنہ بھی کیا۔ اس دوران انہوں نے کئی خواتین سے ان کی مصنوعات کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں۔اس پروگرام میں گورنر منگو بھائی پٹیل، وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان، مرکزی وزراء نریندر سنگھ تومر اور جیوترادتیہ سندھیا کے ساتھ ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی یونٹ کے صدر وشنودت شرما بھی موجود تھے۔سیلف ہیلپ گروپ نہیں رہ جاتے ایسے گروپ ، بن جاتے ہیں ’نیشنل ہیلپ گروپس‘ : مودی
کراہل (شیوپور)، ستمبر۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج قوم کی تعمیر میں ملک کے لاکھوں سیلف ہیلپ گروپس کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ شروع ات میں بھلے ہی ایسے گروپ سیلف ہیلپ گروپ کہلاتے ہوں ، لیکن بعد میں اپنے کام کی وجہ سے وہ ’نیشنل ہیلپ گروپس‘ بن جاتے ہیں۔مسٹر مودی نے آج یہاں خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس کی ایک کانفرنس سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ جب 10-12 خواتین اپنا کام شروع کرتی ہیں تو انہیں سیلف ہیلپ گروپ کہا جاتا ہے لیکن جب وہ اپنے عزم کی وجہ سے کام کو آگے بڑھاتی ہیں تو ایسے گروپس نیشنل ہیلپ گروپ بن جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے تجربے سے کہہ سکتے ہیں کہ جب خواتین کی نمائندگی بڑھ جاتی ہے تو کامیابی خود بخود یقینی ہو جاتی ہے۔ اپنی بات کی تائید میں انہوں نے سووچھ بھارت ابھیان اور جل جیون مشن کی مثال بھی دی۔اپنے خطاب کے دوران مسٹر مودی نے کہا کہ آج ملک بھر میں 8 کروڑ سے زیادہ بہنیں سیلف ہیلپ گروپس سے وابستہ ہیں۔ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ ہر گاؤں سے کم از کم ایک خاتون سیلف ہیلپ گروپ کو جوڑا جائے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں پچھلی اور موجودہ صدی میں بڑا فرق آ گیا ہے۔ اب خواتین کی طاقت سیاسی اور سماجی نمائندگی کی صورت میں سامنے آرہی ہے۔ پنچایت بھون سے راشٹرپتی بھون تک خواتین اپنا پرچم بلند کر رہی ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ کووڈ کے وقت خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں نے ہر چیلنج پر قابو پا کر کام کیا۔ اسی طرح ان گروپوں نے ’ہر گھر ترنگا‘ مہم جیسے قومی فخر کے لمحات میں اہم کردار ادا کیا۔خواتین کے سیلف ہیلپ گروپوں کو بااختیار بنانے کے لیے حکومت کی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر مودی نے کہا کہ ایک ضلع ایک پروڈکٹ اسکیم کے تحت مقامی مصنوعات بڑے بازار تک پہنچ رہی ہیں۔ اس سے سیلف ہیلپ گروپس کو کافی فائدہ ہو رہا ہے۔ اس دوران قبائلی خواتین کو آن لائن شاپنگ کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیلف ہیلپ گروپس کی خواتین اپنی مصنوعات کو براہ راست جیم (گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس) پر رجسٹر کرا کے سرکاری محکموں کو فروخت کر سکتی ہیں۔مسٹر مودی نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ اگر کسی غیر ملکی مہمان کو کھانا پیش کیا جائے تو اس پلیٹ میں کچھ موٹے اناج ضرور شامل کئے جائیں۔ سیلف ہیلپ گروپس کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موٹے اناج کے میدان میں بھی ایسے گروپس کے لیے کئی مواقع موجود ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ سال 2014 سے ملک خواتین کے وقار میں اضافے اور ان کے مسائل کے حل کے لیے کاموں میں مصروف ہے۔ حکومت نے پردھان منتری آواس یوجنا کے تحت خواتین کو گھر کی مالک بنایا ہے۔ آج ملک میں دو کروڑ سے زیادہ خواتین گھر کی مالک ہیں۔ پہلے جائیداد کا کنٹرول مردوں کے ہاتھ میں تھا لیکن اب ایسا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری انہیں معاشرے میں بھی بااختیار بناتی ہے، اس لیے حکومت نے خواتین کے لیے تمام دروازے کھول دیے ہیں۔ اب بیٹیاں سینک اسکول اور آرمی میں بھی جا رہی ہیں۔ گزشتہ آٹھ برسوں میں پولیس فورس میں خواتین کی تعداد دوگنی ہو گئی ہے۔کانفرنس سے خطاب کے بعد وزیراعظم نے اسٹیج کے قریب خواتین کی تیار کردہ مصنوعات کا معائنہ بھی کیا۔ اس دوران انہوں نے کئی خواتین سے ان کی مصنوعات کے بارے میں معلومات بھی حاصل کیں۔اس پروگرام میں گورنر منگو بھائی پٹیل، وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان، مرکزی وزراء نریندر سنگھ تومر اور جیوترادتیہ سندھیا کے ساتھ ساتھ بھارتیہ جنتا پارٹی کی ریاستی یونٹ کے صدر وشنودت شرما بھی موجود تھے۔