ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی اپیل، ملک ’نہ جنگ، نہ امن‘ والی صورت حال سے باہر نکلے

تہران (ایران)، ۔ ایران کے ر ہبر اعلی آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اب ’نہ جنگ، نہ امن‘ کی صورت حال کو ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ رہبر اعلی کی اس اپیل سے ملک کی وزارتی کونسل کو آگاہ کرا دیا گیا ہے۔ حکومت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اس حکم پر پوری سنجیدگی اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ عمل کرے۔
ایرنا کی رپورٹ کے مطابق، خامنہ ای نے بدھ کو یہ اپیل کی۔ صدر نے رہبر اعلی یعنی سپریم لیڈر کی جانب سے اعلی سلامتی قومی کونسل کے سکریٹری کو دی گئی اس ہدایت کو ملک کے مستقبل کے لیے ایک اہم سمت قرار دیا۔بدھ کو وزارتی کونسل کے اجلاس میں صدر نے ملک کے اندرونی حالات اور بین الاقوامی سطح پر پیش آنے والے واقعات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے خامنہ ای کی اپیل کا خیرمقدم کیا اور کسی بھی نئی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے مسلسل تیار رہنے کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے مشورہ دیا کہ تمام وزراء، انتظامی شعبوں کے سربراہان اور ان کے معاونین ضروریات کے مطابق مکمل طور پر تیار رہیں۔ پزشکیان نے کہا کہ دشمنوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ وہ ایران کے عزم کو کمزور کر سکتے ہیں یا ملک کو خودسپردگی پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے حال ہی میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ میں شہید ہونے والے افراد کو خراج عقیدت پیش کیا۔صدر نے کہا کہ ایرانی شہریوں اور بچوں کے قتل کا معاملہ بین الاقوامی فورموں پر اٹھایا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ میں شہید ہونے والوں کو اقوام متحدہ، بین الاقوامی کانفرنسوں، برکس اور شنگھائی تعاون تنظیم کی چوٹی کانفرنسوں، ماحولیاتی اجلاسوں اور مختلف سفارتی ملاقاتوں میں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
پزشکیان نے میناب اور لامرد میں شہریوں، خصوصاً بچوں اور طلبہ پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے ان حملوں کو انسانی اصولوں اور بین الاقوامی انسانی قانون کے ضابطوں کے منافی قرار دیا۔امریکہ اور اس کے مغربی و علاقائی حامیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”ایک طرف دہشت گردی سے لڑنے کی باتیں کی جاتی ہیں اور دوسری طرف اسکولوں، اسپتالوں، کھیلوں کی سہولتوں اور رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ان لوگوں کے دعوو¿ں اور ان کے حقیقی طرز عمل کے درمیان تضاد پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔“اس دوران وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت کئی وزراءنے سفارتی پیش رفت اور علاقائی تبادلہ خیال سے متعلق رپورٹ پیش کی۔ اس میں قطر کے وفد، پاکستان کے فوجی سربراہ کے دوروں اور سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے تین اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ہونے والی بات چیت کی تفصیلات شامل تھیں۔ اس کے علاوہ صدر کے دورہ ماسکو سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ایرنا کی ایک اور رپورٹ کے مطابق، اسلامی انقلاب کے سپریم لیڈر خامنہ ای نے بدھ کو ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے طلبہ کے خطوط کا جواب دیا۔ جوابی خطوط میں انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اسلامی جمہوریہ کو ”ترقی کی چوٹی“ تک پہنچانے کے لیے خود کو علم اور ایمان سے آراستہ کریں۔اس سے پہلے 27 اکتوبر کو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای ”مکمل طور پر صحت مند“ ہیں اور ان کے حوصلے بلند ہیں۔بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں ایرانی صدر اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں نے خامنہ ای سے ملاقاتیں کی ہیں۔ ایرانی سفارت کار عبدالمجید حکیم الٰہی کے مطابق، صدر کے ساتھ ان کی تقریباً سات گھنٹے طویل ملاقات ہو چکی ہے۔دوسری جانب، فروری 2026 میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں، جن میں ان کے والد علی خامنہ ای کی موت ہو گئی تھی، کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای کا کوئی تازہ لائیو ویڈیو یا آڈیو پیغام منظر عام پر نہیں آیا ہے۔ ایرانی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر وہ فی الحال عوامی سطح پر سامنے نہیں آ رہے ہیں اور پس پردہ رہ کر ملک کے امور چلا رہے ہیں۔

Related Articles