نوگچھیا میں گنگا کا قہر، کٹاؤ سے پکے مکان زمین بوس، 30 گھروں پر تباہی کا خطرہ

نوگچھیا میں گنگا کا قہر، کٹاؤ سے پکے مکان زمین بوس، 30 گھروں پر تباہی کا خطرہدو دنوں میں کئی خاندان بے گھر، ریلوے بند اور مذہبی مقامات بھی کٹاؤ کی زد میں، متاثرین کو انتظامیہ سے راحت کی امیدبھاگلپور، 12 اکتوبر (ہ س)۔ بہار کے بھاگلپور ضلع کے نوگچھیا علاقے میں گنگا ندی کا کٹاؤ خطرناک صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ کھیریک بلاک کی راگھوپور پنچایت میں ندی کے تیز بہاؤ اور خطرناک بھنور کے باعث پکے مکانات بھی تیزی سے منہدم ہو رہے ہیں۔ جمعہ کی دیر شام سے شروع ہونے والا کٹاؤ اتوار کی دیر رات تک جاری رہا، جس میں چھوٹی الال پور کے رہنے والے اویناش کمار منڈل اور بال مکند منڈل کے پکے مکانات گنگا میں بہہ گئے۔ اس تباہ کن صورت حال کے باعث راگھوپور، شنکرپور الال پور اور چھوٹی الال پور کے تقریباً 30 مکانات پر خطرہ منڈلا رہا ہے۔ علاقے کے باشندوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے اور لوگ اپنے گھروں اور اہل خانہ کی سلامتی کو لے کر فکرمند ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق گنگا کے کٹاؤ نے گزشتہ چند دنوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ اس سے قبل ریلوے بندھ، برہم بابا استھان اور بجرنگ بلی استھان بھی کٹاؤ کی زد میں آچکے ہیں۔

مقامی باشندوں رنجیت منڈل، تریلوکی ناتھ دیواکر اور اویناش کمار منڈل نے بتایا کہ گنگا کے پانی میں بننے والا بھنور کنارے کی مٹی کو اندر ہی اندر کاٹ دیتا ہے۔ ابتدا میں مکان کی بنیاد کے نیچے کی زمین کھوکھلی ہو جاتی ہے اور جب بنیاد کا سہارا ختم ہو جاتا ہے تو مضبوط آر سی سی سے بنے پکے مکانات بھی اچانک منہدم ہو کر ندی میں سما جاتے ہیں۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کٹاؤ کی رفتار اتنی تیز ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو اپنا سامان محفوظ نکالنے تک کا مناسب موقع نہیں مل رہا ہے۔ جن مکانات پر خطرہ منڈلا رہا ہے، وہاں کے رہائشی خطرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اب سب کی نظریں انتظامیہ اور حکومت پر لگی ہیں۔ متاثرہ لوگوں کو امید ہے کہ کٹاؤ کو روکنے، خطرے کی زد میں موجود مکانات کو محفوظ بنانے اور بے گھر خاندانوں کو راحت پہنچانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی مستقبل میں اس طرح کی تباہی سے بچنے کے لیے گنگا کے کناروں کو محفوظ بنانے کا مستقل انتظام کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔فی الحال سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ گنگا کے بے قابو کٹاؤ سے متاثرہ خاندانوں کو کب راحت ملے گی اور ان کے گھروں کو بچانے کے لیے کیا ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔؟

Related Articles