احتجاج میں شرکت کیلئے دہلی جارہے ٹکیٹ کے لیڈران کارکنان نظر بند
دہلی کے جنتر منتر پر ہفتہ کے روز مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے جا رہے بھارتیہ کسان یونین (ٹکیت) کے لیڈران اور کارکنوں کو پولیس کے ذریعہ روکنے اور گھر میں نظر بند کرنے کی کوشش کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کسان لیڈران نے پولیس کی اس کارروائی کو حکومت کی آمریت قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔ کسان لیڈران کا کہنا ہے کہ کسانوں کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن یونین اپنے حقوق کی لڑائی سے
پیچھے نہیں ہٹے گی۔ بھارتیہ کسان یونین کے قومی جنرل سکریٹری اور ریاستی ترجمان پون کھٹانا کو بھی پولیس نے گھر میں نظر بند کیا ہے۔
پون کھٹانا نے کہا کہ بھارتیہ کسان یونین کی قومی قیادت کی اپیل پر کسان کارکن دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاجی مظاہرے میں شرکت کے لیے جا رہے تھے۔ اسی دوران پولیس نے کسانوں کو ان کے گھروں میں ہی روکنے کی کارروائی کی۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائی سے کسانوں کی تحریک رکنے والی نہیں ہے۔ پون کھٹانا نے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 10 اکتوبر کو یمنا ایکسپریس وے کے قریب چپر گڑھ میں واقع کیمپ دفتر میں جمع ہوں اور وہاں سے آئندہ کی حکمت عملی کے مطابق آگے بڑھیں۔ انہوں نے کہا کہ کسان اپنے حقوق اور عزت کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور اپنی آواز حکومت تک پہنچانے کے لیے پرعزم ہیں۔دوسری جانب بھارتیہ کسان یونین (ٹکیت) کے ضلع صدر منوج ماوی کی قیادت میں گاؤں بیرونڈی میں واقع یونین کے دفتر میں کسانوں کی میٹنگ منعقد ہوئی۔ اس میں یونین کے عہدیداروں کے علاوہ آس پاس کے گاؤں سے آئے سیکڑوں کسانوں نے شرکت کی۔ میٹنگ میں دہلی پہچنے کی تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے ساتھ ہی تحریک کی آئندہ حکمت عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے ضلع صدر منوج ماوی نے کہا کہ ملک میں کسانوں کی آواز دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن بھارتیہ کسان یونین (ٹکیت) کسانوں کے حقوق اور عزت کے لیے ہر صورتحال میں جدوجہد کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کوچ کا بنیادی مقصد کسانوں کے جائز مطالبات کو مرکزی حکومت کے سامنے رکھنا اور ان کے مفاد میں ٹھوس فیصلے کرنے کا مطالبہ اٹھانا ہے۔
منوج ماوی نے واضح کیا کہ یونین کی جدوجہد کسی سیاسی جماعت کی مخالفت میں نہیں، بلکہ کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہے۔ کسانوں کے مسائل حل کرانا اور ان کے مطالبات حکومت تک پہنچانا تنظیم کی ترجیحات میں شامل ہے۔ کسان لیڈران کے مطابق ضلع انتظامیہ اور پولیس نے کسانوں کو دہلی جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ ضلع صدر منوج ماوی سمیت یونین کے دیگر عہدیداروں کو بھی گھر میں نظر بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس پر کسانوں میں ناراضگی دیکھی گئی۔کسانوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں اپنے مطالبات حکومت کے سامنے رکھنا ہر شہری کا حق ہے۔ یونین کے عہدیداروں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ کسانوں کے آئینی اور جمہوری حقوق کا احترام کیا جائے اور انہیں پُرامن طریقے سے احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرنے کی اجازت دی جائے۔ کسان لیڈران کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کے لیے تحریک جاری رکھیں گے۔ دہلی کوچ کی تیاریوں اور پولیس کی جانب سے روکنے کی کارروائی کے درمیان علاقے میں کسان تنظیموں کی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔




