کھلاڑیوں کا حامی ایک وزیراعظم

بقلم :ایلاوینِل وَلارِیوَن
ایشیائی کھیلوں کے اختتام پر بھارت اپنے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر فخر کے ساتھ نظر ڈال سکتا ہے، ساتھ ہی یہ بھی غور کر سکتا ہے کہ ہمیں کن شعبوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ ہم جیسے کھلاڑیوں کے لیے یہی کھیل کا معمول ہے۔ ایسے مواقع ہمیں ان لوگوں کو یاد کرنے اور ان کے تعاون کو تسلیم کرنے کا موقع بھی دیتے ہیں، جن کی مدد سے ہماراسفر ممکن ہوا۔وزیر اعظم نریندر مودی کے، حکمرانی میں 25 سال مکمل ہونے کے موقع پر بھارتی کھیلوں کے لیے ان کی خدمات بھی اسی طرح غور و فکر کی مستحق ہیں۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ اور بھارت کے وزیر اعظم کی حیثیت سے اپنے طویل مدت کار کے دوران انہوں نے کھیلوں کے عزائم کو جس مستقل مزاجی کے ساتھ فروغ دیا ہے، اسے کھلاڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ انہوں نے کھیلوں میں شرکت کی حوصلہ افزائی کی، تیاری کے عمل میں تعاون کیا اور کامیابی و ناکامی دونوں کے مواقع پر کھلاڑیوں کا ساتھ دیا۔ کھیلوں میں ان کی دلچسپی صرف اس لمحے تک محدود نہیں جب کوئی کھلاڑی پوڈیم پر کھڑا ہوتا ہے، بلکہ وہ اس سے پہلے طے کیے جانے والے طویل سفر پر بھی توجہ دیتے ہیں۔مجھے ہمارے وزیر اعظم مودی جی سے پہلی ملاقات آج بھی اچھی طرح یاد ہے۔ یہ ملاقات کھوکرا اسپورٹس کمپلیکس کے افتتاح کے موقع پر ہوئی تھی۔ میں اس وقت ایک کم عمر بچی تھی اور میرے دل میں پہلے ہی ایک کھلاڑی بننے کا خواب تھا۔ آج پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو وہ یاد میرے کھیل سے متعلق ابتدائی خوابوں کو ایک ایسے رہنما کی حوصلہ افزائی سے جوڑتی ہے، جس کی حوصلہ افزائی کا ساتھ کئی برس بعد بھی مجھے ملا، جب میں نے بھارت کی نمائندگی کی۔ٹوکیو اولمپک کھیلوں کے لیے روانہ ہونے سے قبل میری ان سے دوبارہ بات چیت ہوئی۔ انہیں یاد تھا کہ میں مَنی نگر میں رہتی ہوں، جو کبھی ان کا اسمبلی حلقہ تھا، اور انہوں نے وہاں تیار کی گئی کھیلوں کی سہولیات کا بھی ذکر کیا۔ مجھے یہ بات دل سے چھو گئی کہ اپنی مصروف ترین ذمہ داریوں کے باوجود انہیں اس جگہ سے میرا تعلق یاد تھا، جس کی انہوں نے کبھی نمائندگی کی تھی۔ اپنے سابق اسمبلی حلقے کی ایک نوجوان کھلاڑی کو بھارت کی نمائندگی کی تیاری کرتے دیکھ کر ان کا فخر اور خوشی ذاتی اپنائیت کا احساس دلاتی تھی، جبکہ ان کی حوصلہ افزائی نے ملک کے لیے اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کے میرے عزم کو مزید مضبوط کیا۔ٹوکیو کے بعد جب ہماری ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھے مقابلے کے مثبت پہلوؤں پر توجہ دینے اور ملک کے لیے اپنی بہترین کارکردگی کا سلسلہ جاری رکھنے کی ترغیب دی۔ ایک کھلاڑی کے لیے اس طرح کے الفاظ بہت اہمیت رکھتے ہیں۔ جب کسی مقابلے کا نتیجہ ہماری توقعات کے مطابق نہیں آتا تو حوصلہ افزائی ہمیں دوبارہ مثبت انداز میں سوچنے، اپنی توجہ بحال کرنے اور نئے عزم کے ساتھ تربیت کا سلسلہ شروع کرنے میں مدد دیتی ہے۔میرے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ میری زندگی کے مختلف مراحل میں ان کی حوصلہ افزائی کا یہ سلسلہ جاری رہا۔ کھیلوں کا خواب دیکھنے والی وہ بچی ہو یا اولمپکس سے واپس آنے والی کھلاڑی، دونوں کو آگے بڑھتے رہنے کی ترغیب اور حوصلہ ملا۔میں ‘کھیل مہاکمبھ’ کا حصہ رہی ہوں، جسے مودی جی نے گجرات کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کھیلوں کو فروغ دینے اور نچلی سطح پر موجود کھیلوں کی صلاحیتوں کو تلاش کرنے کے لیے بھرپور حمایت دی تھی۔ انہوں نے اس پہل پر ذاتی توجہ دی اور اپنی قیادت کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس میں شرکت کے لیے ترغیب دی۔ ریاست کی عوامی زندگی میں کھیلوں کو نمایاں مقام دے کر انہوں نے مقابلوں کو ایسی سرگرمی بنانے میں مدد کی، جس کے لیے بچے، والدین، اسکول اور پوری برادری مل کر آگے آ سکتے تھے۔کھیل مہاکمبھ کو فروغ دینے کے ان کے اقدام سے ایک واضح پیغام ملا کہ گجرات کے نوجوانوں کو اپنی کھیلوں کی صلاحیتوں کو دریافت کرنے کے مواقع ملنے چاہئیں۔ اس سے بچوں کو کھیل کے میدان میں اترنے اور خاندانوں کو ان کے کھیلوں سے وابستہ عزائم کو سنجیدگی سے لینے کی ترغیب ملی۔ باصلاحیت نوجوانوں کے لیے اس نے ایسا راستہ کھولا جس کے ذریعے کھیلوں سے وابستہ شوق کو کھیل کے میدان میں ایک باقاعدہ کیریئر میں تبدیل کیا جا سکتا تھا۔ہر کھلاڑی کو اپنے سفر کے آغاز میں اس پہلے موقع کی ضرورت ہوتی ہے۔ خصوصی تربیت یا بین الاقوامی مقابلوں سے پہلے کھیلنے کے لیے ایک جگہ اور حوصلہ افزائی کرنے والا کوئی شخص ضرور ہونا چاہیے۔ کھیل مہاکمبھ نے ایسا ماحول پیدا کرنے میں مدد کی، جس سے کھیلوں میں شرکت کا دائرہ وسیع ہوا اور پوری ریاست میں موجود باصلاحیت کھلاڑیوں پر زیادہ توجہ مرکوز ہوئی۔گجرات میں مودی جی کی شطرنج پر توجہ ان کے اس وسیع ویژن کی عکاسی کرتی ہے۔ مختلف بچوں میں مختلف صلاحیتیں ہوتی ہیں اور کھیلوں کے ذریعے انہیں اپنی ان صلاحیتوں کو دریافت کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔ اسی طرح روایتی کھیلوں کی ان کی حوصلہ افزائی نے بھی ہماری برادریوں میں موجود کھیلوں کی صلاحیتوں اور ورثے کو تسلیم کیا۔وقت گزرنے کے ساتھ، کھیل مہاکمبھ کے ذریعے انہوں نے جس خواب کو پروان چڑھایا تھا، اسے ‘کھیلو انڈیا’ کے ذریعے قومی سطح پر مزید وسعت ملی۔سال2018 سے اب تک 63,000 سے زائد کھلاڑی کھیلو انڈیا گیمز میں حصہ لے چکے ہیں، جس سے نوجوان صلاحیتوں کو مقابلہ کرنے اور اپنی صلاحیت منوانے کے مواقع ملے ہیں۔ ایک ہزار سے زائد تربیتی مراکز کے قیام کے ذریعے کھیلو انڈیا نے باصلاحیت کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے لیے درکار کوچنگ، کھیلوں کے سازوسامان اور نگہداشت تک رسائی فراہم کرنے میں مدد کی ہے۔ کھیلو انڈیا کے بہت سے کھلاڑی اب بین الاقوامی سطح پر بھارت کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ کھیلوں کی ایک مضبوط قوم اسی طرح تشکیل پاتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ نوجوان کھلاڑیوں کو چمپئن بننے کے لیے مواقع اور ضروری تعاون فراہم کیا جائے۔کھیل مہاکمبھ اور کھیلو انڈیا، دونوں کے پیچھے بنیادی سوچ یکساں رہی ہے۔ اور وہ یہ کہ کھیلوں کی صلاحیتوں کو ابتدائی مرحلے میں تلاش کیا جائے اور صبر و مستقل مزاجی کے ساتھ پروان چڑھایا جائے۔ نوجوان کھلاڑیوں کو ان برسوں کے دوران باقاعدگی سے مقابلوں، کوچنگ اور تعاون کی ضرورت ہوتی ہے، جب ان کا مستقبل ابھی تشکیل پا رہا ہوتا ہے۔قومی سطح پر ٹارگٹ اولمپک پوڈیم (ٹاپس)اسکیم نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی سہولیات اور بین الاقوامی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے درکار تعاون حاصل ہو۔ ٹاپس نے 233 کھلاڑیوں، جن میں 52 پیرا ایتھلیٹس بھی شامل ہیں، کو ماہرانہ کوچنگ، خصوصی کھیلوں کے سازوسامان، بیرونِ ملک تربیت اور بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کا تجربہ حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے ہیں۔کھلاڑیوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے اس سے عملی طور پر بڑا فرق پڑتا ہے۔ بین الاقوامی کھیلوں کی تیاری کے لیے ایسے وسائل درکار ہوتے ہیں، جن کا انتظام خاندان ہمیشہ اکیلے نہیں کر سکتے۔ اس طرح کی مدد سے مالی بوجھ کم ہوتا ہے اور ہمیں تربیت پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے اور بڑے مقابلوں میں زیادہ اعتماد کے ساتھ شرکت کرنے کا موقع ملتا ہے۔مجھے یہ پڑھ کر خوشی ہوئی کہ مودی جی کے وزیر اعظم بننے کے بعد کھیلوں کی وزارت کے بجٹ میں تقریباً تین گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ بھارتی کھلاڑیوں کو درکار وسائل فراہم کرنے کے لیے وزیر اعظم مودی جی کے مسلسل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سرمایہ کاری کے ثمرات بہتر سہولیات، طبی نگہداشت، غذائی منصوبہ بندی، صحت یابی کے لیے تعاون اور ماہرین تک رسائی کی صورت میں نمایاں ہوئے ہیں۔کھیلو انڈیا مراکز اور جدید سہولیات سے آراستہ قومی سطح کے بہترین مراکز نے اس بنیاد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ قومی کھیل پالیسی اور کھیلوں کے انتظام و حکمرانی میں اصلاحات اس عزم کو آگے بڑھا رہی ہیں، جبکہ بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کے لیے بھارت کے عزائم آنے والی نسل کے لیے مزید وسیع امکانات کا افق پیش کرتے ہیں۔مودی جی کی کھیلوں کے لیے بعض انتہائی اہم خدمات ذاتی نوعیت کی بھی ہیں۔ پیرس اولمپکس کے دوران ہمیں شدید گرمی اور گیمز ولیج میں ایئر کنڈیشننگ کی سہولت نہ ہونے کی مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ ہماری آسائش کو یقینی بنانے اور مناسب آرام و تیاری میں مدد دینے کے لیے فوری طور پر 40 پورٹیبل اے سی کا انتظام کیا گیا۔ ہمیں جس بات نے سب سے زیادہ متاثر کیا، وہ یہ تھی کہ بعد میں جب ہماری مودی جی سے ملاقات ہوئی تو انہیں ہماری پیش آنے والی اس مشکل کا یاد تھا اور انہوں نے اس کے بارے میں ہم سے پوچھا۔ ان کی مصروفیات اور وقت کے بے شمار تقاضوں کے باوجود انہوں نے ایسی بات پر توجہ دی تھی جو براہِ راست ہماری صحت و بہبود سے متعلق تھی۔جب طویل انتظار کے بعد ٹوکیو میں مردوں کی ہاکی ٹیم نے کانسے کا تمغہ جیتا تو انہوں نے ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرنے کے لیے ان سے رابطہ کیا۔ جب خواتین کی ٹیم معمولی فرق سے تمغہ حاصل کرنے سے محروم رہ گئی تو انہوں نے ان سے بھی رابطہ کیا اور یقین دلایا کہ انہوں نے پورے ملک کے دل جیت لیے ہیں۔کھلاڑی اپنے ساتھ اپنی توقعات، اپنے خاندان کی قربانیاں اور ملک کی امیدیں بھی لے کر چلتے ہیں۔ کامیابی حاصل نہ کر پانا تکلیف دہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر جب برسوں کی تیاری کا فیصلہ معمولی سے فرق سے ہو جائے۔ ایسے وقت میں ملنے والی حوصلہ افزائی ہمیں دوبارہ آغاز کرنے کی طاقت فراہم کرتی ہے۔ان کے ذاتی پیغامات، عوامی سطح پر کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی اور ‘من کی بات’ میں کھلاڑیوں کا ذکر ان کھیلوں پر بھی توجہ مرکوز کرنے کا باعث بنا ہے، جنہیں نسبتاً کم کوریج ملتی ہے۔ خواتین کھلاڑی اور پیرا ایتھلیٹس بھی اس رابطے کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ اس سے ملک میں کھیلوں میں بہترین کارکردگی کے بارے میں سمجھ مزید وسیع ہوتی ہے اور بھارت بھر کے گھروں میں نئے رول ماڈل سامنے آتے ہیں۔پچیس برسوں کے دوران مودی جی نے کھیلوں کے خوابوں کو پروان چڑھایا ہے اور کھلاڑیوں کے ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ میں اپنے سفر میں اس تسلسل کو بخوبی محسوس کرتی ہوں، جو کھوکرا اسپورٹس کمپلیکس میں ایک بچی کی حیثیت سے شروع ہوا اور بھارت کے رنگوں میں چیمپئن بننے تک پہنچا۔ ان کی حوصلہ افزائی ہمیں مسلسل بہتری لانے اور ملک کے لیے اپنی بہترین کارکردگی پیش کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔جب بھارت 2036 اولمپکس کی میزبانی اور عالمی کھیلوں کی طاقت بننے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، تو ان کی شخصیت سے جھلکنے والی یہی روح ہم سب کے لیے تحریک کا باعث بننی چاہیے۔اور وہ یہ کہ اپنے کھلاڑیوں پر یقین برقرار رکھیں، ان کے خوابوں کی حمایت جاری رکھیں اور ہمیشہ ٹیم انڈیا کی حوصلہ افزائی کریں۔(ایلاوینِل ولاریون ایک ممتاز کھلاڑی ہیں، جنہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھارت کی نمائندگی کی ہے)

Related Articles