مسلمانوں کے تحفظ کیلئے طارق شمیم طرز کی بیداری ضروری

مطیع الرحمن عزیز

بھارت میں آج جمہوریت اور مسلمانوں کی حالت یکساں ہے، ایک طرف جہاں بھارت کی خوبصورتی جمہوریت کی بنیادوں کو کھوکھلا کیا جا چکا ہے، وہیں ملک میں مسلمانوں کے تحفظات اور بقا کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ہے، آتے دنوں کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ بربریت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ملک میں مسلمانوں کے قافیہ حیات کو تنگ کرنے کیلئے شدت پسندوں کی جانب سے ہر وہ سازش عمل میں لائی جا رہی ہے جو ملک کے مسلمانوں کو کمزور اور بے بس کرنے کیلئے مددگار ثابت ہو، ایسے وقت میں ملک کے غیور اور بارسوخ افراد کو اپنے وقت سے چند گھنٹے ہی سہی نکال کر مسلمانوں کے اتحاد اور ان کی سیاسی، سماجی اور تعلیمی بیداری کیلئے کام کرنا ہو گا۔ طارق شمیم جو غالبا اترپردیش کے جونپور یا غازی پور کے غیور اور بیدار مغز باشندے ہیں، انہیں دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنے وقت کا بیشتر حصہ ملک کے مسلمانوں کے لئے مختص کر کے انہیں سیاسی، سماجی اور تعلیمی طور پر بیدار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، آج ہزاروں طارق شمیم کی ملک اور مسلمانوں کو ضرورت ہے، ایسے طارق شمیم جو ملک کے باشندوں کو متحد ہونے کی اہمیت کو بتائیں، اور باشندگان وطن کو بتائیں کہ جذباتیت اور نفرت کی سیاست انہیں کہاں سے کہاں لے جا کر گڈھے میں ڈال دے گی، طارق شمیم کا اقدام اور قربانی قوم تادیر فراموش نہیں کر سکے گی، طارق شمیم کی سوشل میڈیا پر پھرنے والی چند ویڈیو کی مدد سے ہم نے سمجھا کہ نفرتی اور جذباتی بیانوں کا پیش خیمہ کیا ہے، طارق شمیم نے بتایا کہ ملک کی شدت پسند تنظیم اور پارٹی چاہتی ہے کہ لوگ اس کی دوسری شدت پسند بی  ٹیم یعنی اسد اویسی کی طرف مائل ہوجائیں، اور تقسیم ہو کر اپنی اہمیت کھو بیٹھیں، طارق شمیم نے بتایا کہ مختار انصاری کو جیل میں زہر اس لئے دے دیا گیا کیونکہ انہوں نے بی ٹیم کے پلیٹ فارم پر جمع ہونا منظور نہیں کیا تھا، آج اعظم خان جیل کی سلاخوں کے پیچھے اس لئے ہیں کیونکہ انہیں مجبور کیا جارہا ہے کہ شدت پسند پارٹی کی بی ٹیم یعنی ایم آئی ایم یا دوسری غلام بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہو جائیں۔ لیکن ان باکردار اور قدآور لیڈران نے اپنی موت تو تسلیم کرلی لیکن ملک کے مسلمانوں اور جمہوریت کے لئے غداری کو تسلیم نہیں کیا۔

نہیں سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندی مسلمانوں۔ تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔ طارق شمیم کے اقدام ملک کی سالمیت اور ان کے طرز پر اگر کام نہ کیا گیا تو ملک کے کچھ لوگ بہک جائیں گے، مسلمان بکھر جائیں گے، اور ملک میں جو جمہوریت پسند پارٹیاں ہیں وہ بھی مسلمانوں سے بدظن ہوکر شدت پسند پارٹی کی طرح مسلمانوں کے لئے کام کرنا، آواز اٹھانا اور مدد کرنا چھوڑ دیں گی، جس کا نقصان سیدھے طور پر ملک کی مظلوم اقلیت مسلمانوں کو ہوگا، آج جن مظلوموں کے ساتھ ہندو جمہوریت پسند نامور شخصیات کھڑے ہیں وہ بھی ہمیں ہلکے میں لے کر ہمارے لئے کام کرنا رائیگاں سمجھیں گے، اور یہ جذباتی کرنے والے بھڑکاؤ بھاشن دینے والے لوگ اپنے محفوظ قلعوں میں واپس جا چکے ہوں گے یا دوسری ریاستوں میں الیکشن کے لئے ان کے آقا پارٹیوں کی جانب سے بھیج دیا جائے گا، بی ٹیم کی مجبوری ہے کہ وہ مسلمانوں کو ورغلانے اور تقسیم کرنے میں ان کا ساتھ دے، کیونکہ ناجائز قبضہ جات اور دیگر غیرقانونی زمین مافیا کاروبار سود خور سرغنہ کے گلے کا پھانس بنا ہوا ہے، اگر اس نے ملک کے راجاؤں کی باتوں کو نہیں مانا اور ان کے اشاروں پر کام نہیں کیا تو اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جائے گا، اس لئے بی ٹیم کا سود خور مکھیا ہر ناجائز کام میں اپنے آقاؤں کے اشاروں پر ناچے گا، چاہے اس سے قوم کا کتنا ہی بڑا نقصان کیوں نا ہو جائے، سودخور مکھیا محض اپنا تحفظ چاہتا ہے اس کے علاوہ اس کا قوم و ملک کی سالمیت کیلئے کوئی اقدام اور کوئی مقصد نہیں۔ خدانخواستہ اگر یہی شدت پسند پارٹی دوبارہ حکومت میں آگئی تو 75000 اسکوں کے بند ہونے کے بعد ملک اور خاص طور سے ریاست اترپردیش کے مدرسے اور مسجد کی مسماری گلی گلی کوچے کوچے میں منظر عام پر دیکھنے کو ملے گی، اس کے علاوہ عام مسلمانوں اور خاص مسلمانوں کو سماجی اور سیاسی اعتبار سے جو نقصان پہنچایا جائے گا موجودہ دور کو دیکھتے ہوئے ہر ذی فہم و شعور شخص بہتر سمجھ سکتا ہے۔
بھارت جیسے کثیرالثقافتی، کثیرالمذاہب اور جمہوری ملک میں جمہوریت کا مضبوط رہنا صرف سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی فرض ہے۔ جمہوریت کی اصل خوبصورتی اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب ملک کے ہر شہری کو مساوی حقوق، تحفظ، عزت اور ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔ لیکن جب معاشرے میں نفرت، جذباتیت، مذہبی تقسیم اور سیاسی مفادات کو فروغ ملنے لگے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان کمزور اور حاشیے پر موجود طبقات کو اٹھانا پڑتا ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے باشعور اور صاحبِ فکر افراد اپنے معمولات میں سے کچھ وقت نکال کر عوام میں سیاسی، سماجی اور تعلیمی شعور پیدا کرنے کے لیے صرف کریں۔ صرف انتخابات کے وقت سیاسی سرگرمی دکھانا کافی نہیں؛ جمہوری معاشرے کی تعمیر مسلسل عوامی بیداری، آئینی شعور اور ذمہ دارانہ سیاسی رویے سے ہوتی ہے۔اسی تناظر میں طارق شمیم کے نام سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی بعض ویڈیوز اور ان کے پیغامات نے ایک اہم سوال کو جنم دیا ہے: کیا عوام کو جذباتی نعروں کے بجائے اپنے سیاسی مستقبل، تعلیم، روزگار، آئینی حقوق اور سماجی اتحاد کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت نہیں؟ اگر کسی شخص کی کوشش عوام کو جذباتیت سے نکال کر شعور، سوال اور سیاسی سمجھ بوجھ کی طرف لے جانے کی ہو تو اس کوشش پر گفتگو ضرور ہونی چاہیے۔ معاشرے کو ایسے افراد کی ضرورت ہے جو اختلافِ رائے کے باوجود لوگوں کو قانون، آئین، تعلیم اور جمہوری اقدار کی اہمیت سمجھائیں۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی گفتگو اکثر جذباتی نعروں اور فوری ردعمل تک محدود ہو جاتی ہے۔ کسی اشتعال انگیز بیان پر تالیاں بجانا آسان ہے، لیکن اس بیان کے طویل مدتی سیاسی نتائج پر غور کرنا مشکل۔ عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما مستقل نہیں ہوتے؛ مستقل چیز عوام کے مفادات، آئینی حقوق اور جمہوری ادارے ہوتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی جماعت یا رہنما کو اندھی حمایت دینے کے بجائے اس کی کارکردگی، پالیسی اور عوامی مسائل پر اس کے موقف کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ سیاسی تقسیم اگر اصول اور پالیسی کی بنیاد پر ہو تو جمہوریت کا حصہ ہے، لیکن اگر تقسیم صرف مذہبی یا جذباتی بنیادوں پر عوام کو ایک دوسرے سے دور کرنے کے لیے استعمال کی جائے تو اس کے نتائج خطرناک ہوسکتے ہیں۔ مسلمانوں سمیت ملک کے تمام کمزور طبقات کے لیے سب سے مضبوط راستہ تعلیم، معاشی خودکفالت، قانونی آگاہی اور جمہوری شرکت ہے۔ صرف شکایت کرنا کافی نہیں؛ اپنے حقوق کو جاننا، ووٹ کی اہمیت سمجھنا، آئینی اداروں سے رجوع کرنا اور اپنے بچوں کو جدید و دینی تعلیم سے آراستہ کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر کوئی قوم سیاسی طور پر باشعور نہیں ہوگی تو اس کے جذبات کو آسانی سے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسی لیے آج ضرورت ایسے نوجوانوں اور سماجی کارکنوں کی ہے جو لوگوں کو نفرت کے بجائے تعلیم، روزگار، صحت، قانون اور ترقی کی زبان سمجھائیں۔
مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے سیاسی اتحاد کا مطلب یہ نہیں کہ اختلافِ رائے ختم کردیا جائے۔ حقیقی اتحاد اس وقت پیدا ہوتا ہے جب لوگ مشترکہ مسائل پر متحد ہوں اور اختلاف کے باوجود ایک دوسرے کے جمہوری حق کا احترام کریں۔ تعلیم، روزگار، صحت، امن، کاروبار، قانونی تحفظ اور سیاسی نمائندگی ایسے مسائل ہیں جو کسی ایک فرد یا جماعت کے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے مسائل ہیں۔ اگر جمہوریت پسند طبقات ایک دوسرے سے دور ہوتے گئے، اگر اقلیتیں سیاسی طور پر منتشر رہیں اور اگر عوام جذباتی نعروں کو اپنی ترجیحات پر غالب آنے دیں تو اس کا فائدہ عوام کے بجائے وہ قوتیں اٹھائیں گی جو تقسیم کی سیاست سے اپنا سیاسی مفاد حاصل کرتی ہیں۔ طارق شمیم کے طرزِ عمل سے اگر کوئی سبق لیا جاسکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ ایک عام شہری بھی اپنے دائرے میں رہ کر سیاسی اور سماجی شعور پیدا کرنے میں کردار ادا کرسکتا ہے۔ ہر شخص کو لیڈر بننے کی ضرورت نہیں؛ لیکن ہر باشعور شہری اپنے خاندان، محلے، تعلیمی ادارے اور سماجی حلقے میں مثبت گفتگو کا آغاز ضرور کرسکتا ہے۔ ہمیں ایسے ہزاروں افراد کی ضرورت ہے جو نوجوانوں سے کہیں کہ تعلیم حاصل کرو، قانون سمجھو، اپنے ووٹ کی قدر کرو، نفرت سے بچو، سوال پوچھو اور اپنی سیاسی وابستگی کو عقل و دلیل کے تابع رکھو۔ ملک کا مستقبل صرف پارلیمنٹ میں نہیں بنتا؛ وہ اسکول، کالج، بازار، عدالت، میڈیا، سوشل میڈیا اور عام شہری کے شعور میں بھی تشکیل پاتا ہے۔ اگر ہندوستان کو مضبوط جمہوریت بنائے رکھنا ہے تو اکثریت اور اقلیت دونوں کو آئینی اقدار کی حفاظت کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ کسی بھی طبقے کے خلاف ناانصافی بالآخر پورے معاشرے کے جمہوری نظام کو کمزور کرتی ہے۔ اس لیے آج ضرورت نفرت کے جواب میں مزید نفرت کی نہیں، بلکہ شعور، دلیل، قانون اور جمہوری جدوجہد کی ہے۔ سیاسی اختلاف ضرور ہو، لیکن انسانی احترام باقی رہنا چاہیے۔ حکومت سے سوال ضرور کیا جائے، لیکن قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر۔ سیاسی قیادت کی حمایت بھی کی جائے تو اس کی کارکردگی کے احتساب کے ساتھ۔ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں؛ یہ اپنے حقوق کو سمجھنے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے اور ظلم و ناانصافی کے خلاف آئینی و پُرامن طریقے سے آواز بلند کرنے کا نام ہے۔ آج اگر عوام نے اپنے سیاسی اور سماجی شعور کو مضبوط کرلیا تو کوئی بھی طاقت انہیں آسانی سے تقسیم نہیں کرسکے گی۔ یہی جمہوریت کی اصل طاقت ہے اور یہی ایک مضبوط، پرامن اور انصاف پسند ہندوستان کی بنیاد بھی۔

Related Articles