کٹرہ-بانہال ریلوے سیکشن پر ٹرینوں کی رفتار 100 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوئی

نئی دہلی، 2 اکتوبرجموں و کشمیر میں ادھم پور-سری نگر-بارہمولہ ریل لنک (یو ایس بی آر ایل) منصوبے کے تحت ماتا ویشنو دیوی کٹرہ-بانہال کے 111 کلومیٹر طویل ریلوے سیکشن پر ٹرینوں کی زیادہ سے زیادہ مجاز رفتار 75 سے بڑھا کر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کر دی گئی ہے۔ رفتار میں اضافے کا کامیاب تجربہ جمعہ کو کیا گیا۔ اس دوران وندے بھارت ایکسپریس (ٹرین نمبر 26401/26404) نے دنیا کے سب سے اونچے ریلوے پل چناب برج اور ہندوستان کے پہلے کیبل اسٹیڈ ریلوے پل انجئی برج کو 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے عبور کیا۔
مرکزی وزیر ریلوے اشونی ویشنو نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ رفتار میں اضافے سے یو ایس بی آر ایل منصوبے کے اس اہم سیکشن پر ٹرینوں کی آمد و رفت زیادہ ہموار ہوگی اور مسافروں کے سفر کے وقت میں کمی آئے گی۔ اس سے مسافروں کو تیز رفتار، محفوظ اور زیادہ آرام دہ ریل سفر فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔
کٹرہ-بانہال ریلوے سیکشن پر زیادہ سے زیادہ مجاز رفتار بڑھانے کے لیے ضروری تجربات اور تکنیکی جائزے کے بعد یہ تبدیلی کی گئی ہے۔ بڑھائی گئی رفتار کا تجربہ وندے بھارت ایکسپریس کے ذریعے کیا گیا، جس نے چناب اور انجئی پلوں کو 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے کامیابی کے ساتھ عبور کیا۔چناب برج دریائے چناب پر تعمیر کیا گیا دنیا کا سب سے اونچا ریلوے آرچ برج ہے۔ وہیں انجئی برج ہندوستان کا پہلا کیبل اسٹیڈ ریلوے پل ہے۔ دونوں پل یو ایس بی آر ایل منصوبے کے اہم انجینئرنگ ڈھانچوں میں شامل ہیں اور اس ریلوے سیکشن پر ٹرینوں کی آمد و رفت کے لیے انتہائی اہم ہیں۔رفتار 75 سے بڑھا کر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کیے جانے سے کٹرہ اور بانہال کے درمیان ریل آپریشن کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ اس سے ٹرینوں کی آمد و رفت زیادہ ہموار ہونے کے ساتھ مسافروں کو سفر کے وقت میں بچت کا فائدہ بھی ملے گا۔




