ڈھاکہ میں بنگلہ دیش کمیونسٹ پارٹی کے دفتر پر حملہ
ڈھاکہ (بنگلہ دیش)، : پیر کی رات تقریبا 10 بجے کچھ لوگوں نے دارالحکومت ڈھاکہ کے پلٹن علاقے میں کمیونسٹ پارٹی آف بنگلہ دیش (سی پی بی)
کے دفتر ‘مکتی بھون’ پر حملہ کیا۔ سی پی بی نے اس واقعے کا الزام بی این پی اور جماعت اسلامی کے کارکنوں پر عائد کیا ہے۔ بی این پی نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ڈھاکہ ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق سی پی بی کی مرکزی کمیٹی کے چیئرمین سجاد ظاہر چندن نے کہا کہ نوجوانوں کے ایک گروہ نے اچانک ان کے دفتر پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے اس کے لیے بی این پی اور جماعت کے کارکنوں کو مورد الزام ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ شام کو بنگلہ دیش اسٹوڈنٹس یونین کے سابق صدر دیپک شیل کی حراست اور اس کے بعد ان کی رہائی کی وجہ سے یہ صورتحال پیدا ہوئی۔
چندن کے مطابق حملہ آوروں نے سی پی بی کے کارکنوں پر "جوئے بنگلہ” کا نعرہ لگانے کا الزام لگایا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ پارٹی آفس سے ایسا کوئی نعرہ نہیں لگایا گیا۔ پٹن پولیس اسٹیشن کے انچارج عارف الاسلام نے بتایا کہ دیپک شیل کے حامیوں نے اس کی رہائی کے بعد جشن میں جوئے بنگلہ کے نعرے لگائے۔انہوں نے کہا کہ نعروں سے ناراض ہو کر کچھ لوگوں نے سی پی بی کے دفتر پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے اور دونوں گروپوں کے دفاتر میں اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔




