آندھرا پردیش کے ساحل پر سمندری طوفان ’ارنَب‘ کے پیشِ نظر ریلوے کی تیاریاں تیز
، 600 کلومیٹر ریلوے ٹریک پر نگرانی
نئی دہلی، آندھرا پردیش کے یانم کے قریب 28 اکتوبر کو سمندری طوفان ’ارنَب‘ کے ممکنہ طور پر ٹکرانے کے پیشِ نظر بھارتی ریلوے نے حفاظتی
اقدامات سمیت دیگر تمام تیاریاں تیز کر دی ہیں۔ ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے منگل کو کہا کہ وجے واڑہ اور وشاکھاپٹنم ڈویژنوں میں حفاظتی پروٹوکول نافذ کر دیے گئے ہیں اور مسافروں کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔
ویشنو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ سمندری طوفان سے نمٹنے کے لیے ریلوے کے علاقائی، ڈویژنل اور ریلوے بورڈ کی سطح پر کنٹرول روم فعال کر دیے گئے ہیں۔ طوفان سے متاثر ہونے والے ممکنہ علاقوں میں تقریباً 600 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پر چوبیس گھنٹے نگرانی کی جا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہنگامی مرمت اور بحالی کے لیے ضروری سامان سے لدی خصوصی امدادی ٹرینیں کرشنا کینال، بٹراگونٹا، مامیدی پوڑی، وشاکھاپٹنم، پلاسا اور پونڈورو میں تعینات کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ اہم ریلوے جنکشنوں پر ڈیزل انجن، بجلی کی فراہمی کے یونٹ اور ایمبولینس بھی تیار رکھی گئی ہیں۔
ریلوے کے وزیر کے مطابق، ممکنہ نقصانات سے نمٹنے اور ٹرین خدمات کو جلد از جلد بحال کرنے کے لیے ارتھ موور مشینیں، درخت کاٹنے والی مشینیں اور دیگر ضروری آلات بھی مناسب فاصلے پر تعینات کیے گئے ہیں۔ ہوا کی رفتار اور پانی کی سطح کی ہر گھنٹے جانچ کی جا رہی ہے اور سینئر افسران موقع پر موجود ہیں۔ویشنو نے کہا کہ قومی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کے ساتھ تال میل قائم کیا جا رہا ہے۔ ریلوے نے سمندری طوفان کے اثرات کے دوران مسافروں کی حفاظت یقینی بنانے اور ضرورت پڑنے پر فوری کارروائی کے لیے انتظامات کیے ہیں۔




