ریاست کی ترقی اور خوش حالی میں خواتین طاقت فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے: وزیر اعلیٰ یوگی
ساڑھے نو برسوں میں ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار، فی کس آمدنی، بجٹ اور خواتین کی افرادی قوت میں تین گنا اضافہ
لکھنؤ، ۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے شاردیہ نوراتری کی نویں تاریخ پیر کے روز یعنی مہانومی کے موقع پر ریاست کے عوام کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے انہوں نے ’عزم سے حصولِ کامیابی تک‘ کے سفر کے ذریعے ’نئے بھارت کے نئے اتر پردیش‘ کی ترقی کی تصویر بھی پیش کی۔وزیر اعلیٰ یوگی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ تمام سِدھیوں، سکھ، خوش حالی اور من کی مرادیں پوری کرنے والی ماں سدھی داتری کے آشیرواد سے اتر پرد
یش کی خواتین اپنی صلاحیت، عزم اور خود اعتمادی کے بل پر ریاست کی ترقی اور خوش حالی میں فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے خواتین طاقت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا، ’’یَتْر ناریَسْتُ پُوجْیَنْتے رَمَنْتے تَتْر دَیْوَتَا:‘‘ یعنی جہاں عورتوں کی عزت و تکریم کی جاتی ہے، وہاں دیوتاؤں کا بسیرا ہوتا ہے اور خوش حالی، آسودگی اور فلاح و بہبود آتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے سابقہ حکومتوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ 2017 سے پہلے ریاست کا شورش زدہ ماحول ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ بدامنی اپنے عروج پر تھی اور غنڈے، مافیا اور شرپسند عناصر متوازی حکومت چلا رہے تھے۔ ریاست فسادات کی آگ میں جھلس رہی تھی اور تہواروں سے پہلے ہی ہنگامے شروع ہو جاتے تھے۔ والدین اپنی بیٹیوں کے محفوظ مستقبل کی خاطر انہیں دوسری ریاستوں میں بھیجنے پر مجبور تھے۔یوگی آدتیہ ناتھ نے 2017 کے بعد ریاست میں ہونے والی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی میں ریاستی ڈبل انجن حکومت نے جرائم اور مجرموں کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی۔ قانون کی بالادستی قائم کرتے ہوئے ریاست کو بدامنی کے ماحول سے نکال کر تہواروں اور تقریبات کی خوشیوں سے معمور ریاست کے طور پر شناخت دلائی گئی۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے نو برسوں میں خواتین کی حفاظت، عزت و وقار اور خود انحصاری کے لیے ڈبل انجن حکومت کی جانب سے کیے گئے اقدامات نے اتر پردیش کو پسماندہ ریاست کی شبیہ سے نکال کر ملک کی معیشت کا ترقیاتی انجن بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ گزشتہ ساڑھے نو برسوں میں ریاست کی مجموعی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی)، فی کس آمدنی، بجٹ اور خواتین کی افرادی قوت میں شرکت تین گنا ہو گئی ہے۔ ریاست مسلسل حاصل ہونے والی محصول کے اعتبار سے فاضل آمدنی والی ریاست بنی ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کو 50 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی تجاویز موصول ہوئی ہیں۔ بڑے کارخانوں کی تعداد ڈھائی گنا بڑھ کر 14 ہزار سے 35 ہزار ہو گئی ہے۔ سرمایہ کاری کے ذریعے 65 لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو روزگار ملا ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق، دفاعی صنعتی راہداری کے ذریعے بھارت کو دفاعی پیداوار کے شعبے میں خود کفیل بنانے میں بھی اتر پردیش اہم کردار ادا کر رہا ہے۔وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ ملک کے مجموعی ایکسپریس وے نیٹ ورک کا 60 فیصد حصہ اب اتر پردیش میں ہے۔ ریاست کی زرعی ترقی کی شرح 8 فیصد سے بڑھ کر 18 فیصد ہو گئی ہے۔ بھرتی کے منصفانہ اور شفاف عمل کے ذریعے نوجوانوں کو ساڑھے نو لاکھ سرکاری نوکریاں فراہم کی گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ریاست میں اسٹارٹ اپس کی تعداد 120 سے بڑھ کر 24 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔ طویل عرصے سے زوال کا شکار چھوٹی، بہت چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کے شعبے کو دوبارہ فعال کرکے تین کروڑ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں۔وزیر اعلیٰ نے حکومت کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’بااختیار خواتین، خوش حال اتر پردیش‘ کے پختہ عزم کے ساتھ ریاستی ڈبل انجن حکومت ’وکست بھارت، وکست اتر پردیش‘ کے ہدف کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔



