نوراتری سے دیوالی تک ملک میں 7 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کے تہواری کاروبار کا امکان: کیٹ

نئی دہلی، ۔ کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرز (کیٹ) نے بدھ کو کہا کہ اس سال نوراتری سے دیوالی تک ملک بھر میں 7 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا تہواری کاروبار ہونے کا امکان ہے۔ یہ گزشتہ سال کے ریکارڈ کاروبار کے مقابلے میں تقریباً 15 سے 18 فیصد زیادہ ہو سکتا ہے۔نوراتری اور درگا پوجا کے بعد دشہرہ، کروَا چوتھ، دھن تیرس، دیوالی، گووردھن پوجا، بھائی دوج، چھٹھ پوجا، گرو نانک جینتی اور تلسی ویواہ جیسے تہوار ملک بھر میں بڑے پیمانے پر منائے جاتے ہیں، جن کے دوران بازاروں میں زبردست خرید و فروخت ہونے کی توقع ہے۔کیٹ کے قومی جنرل سیکریٹری اور چاندنی چوک سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمان پروین کھنڈیلوال نے بتایا کہ یہ ابتدائی اندازہ ملک کی مختلف ریاستوں کے اہم تجارتی اداروں اور بازاروں سے حاصل معلومات، صارفین کی مانگ، تہواروں کی خریداری کے رجحانات، دیہی اور نیم شہری بازاروں کی سرگرمی، مقامی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ اور مختلف شعبوں میں ہونے والی معاشی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دیوالی کے موقع پر ملک بھر میں تقریباً 6.05 لاکھ کروڑ روپے کا ریکارڈ کاروبار ہوا تھا، جس میں تقریباً 5.40 لاکھ کروڑ روپے کا اشیائی کاروبار اور 65 ہزار کروڑ روپے کا خدماتی شعبہ شامل تھا۔ اس سال تہواروں کی سرگرمیوں میں مزید اضافے کے پیش نظر کاروبار کے 7 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کرنے کی توقع ہے۔کیٹ کے اندازے کے مطابق نوراتری سے دیوالی تک ہونے والے ممکنہ تہواری کاروبار میں مختلف شعبوں کا حصہ تقریباً اس طرح رہ سکتا ہے:
کریانہ اور ایف ایم سی جی: 12 فیصد
سونا، چاندی اور زیورات: 10 فیصد
الیکٹرانکس اور الیکٹریکلز: 8 فیصد
صارفین کی پائیدار اشیا: 7 فیصد
ریڈی میڈ ملبوسات: 7 فیصد
تحفے کی اشیا: 7 فیصد
گھریلو آرائش: 5 فیصد
فرنیچر اور فرنشنگ: 5 فیصد
مٹھائیاں اور نمکین: 5 فیصد
ٹیکسٹائل اور کپڑے: 4 فیصد
پوجا کا سامان: 3 فیصد
پھل اور خشک میوہ جات: 3 فیصد
بیکری اور کنفیکشنری: 3 فیصد
جوتے: 2 فیصد
دیگر اشیا اور متعلقہ کاروبار: 19 فیصد
پروین کھنڈیلوال نے کہا کہ اس سال تہواروں کی معیشت میں خدماتی شعبے کا کردار مزید اہم ہوگا۔ نوراتری سے دیوالی کے دوران نقل و حمل، لاجسٹکس، ای کامرس ڈلیوری، پیکیجنگ، گودام، ہوٹل، ریستوران، سیاحت، کیٹرنگ، ٹینٹ اور ڈیکوریشن، لائٹنگ، ایونٹ مینجمنٹ، ٹیکسی اور مقامی ٹرانسپورٹ سمیت متعدد شعبوں میں زبردست مانگ رہنے کا امکان ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال خدماتی شعبے میں تقریباً 65 ہزار کروڑ روپے کا کاروبار ہوا تھا، جبکہ اس سال اس شعبے میں 20 سے 25 فیصد اضافے کا ابتدائی اندازہ ہے۔ اس حساب سے تہواروں کے دوران خدماتی شعبے کا کاروبار تقریباً 80 ہزار کروڑ سے ایک لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔کھنڈیلوال نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی تہواروں کے موسم میں ملک بھر میں مذہبی، ثقافتی، سماجی اور کاروباری تقریبات کا انعقاد ہوگا۔ ان میں مارکیٹ فیسٹیول، رام لیلا، درگا پوجا پنڈال، گربا اور ڈانڈیا پروگرام، دیوالی ملن، میلے، نمائشیں، مقامی بازاروں کے پروگرام، رہائشی سوسائٹیوں کے اجتماعات، کارپوریٹ تقریبات اور خاندانی پروگرام شامل ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ تہواروں کے کاروبار میں یہ اضافہ صرف صارفین کی مانگ کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ یہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ووکل فار لوکل‘، ’میک اِن انڈیا‘ اور ’آتم نربھر بھارت‘ کے وژن کو ملک کے بازاروں اور صارفین کی جانب سے ملنے والی وسیع قبولیت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج بھارتی صارفین مقامی کاریگروں، ایم ایس ایم ای، خواتین کاروباریوں، اسٹارٹ اپس، دستکاری، بھارتی برانڈز اور ملک میں تیار کردہ مصنوعات کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس سے چھوٹے تاجروں اور مقامی مصنوعات بنانے والوں کو براہ راست بازار مل رہا ہے اور تہواروں کی مانگ کا فائدہ ملک کے مختلف حصوں تک پہنچ رہا ہے۔پروین کھنڈیلوال نے کہا کہ نوراتری سے دیوالی تک 7 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا ممکنہ کاروبار محض ایک تجارتی اعداد و شمار نہیں بلکہ بھارت کی بڑھتی ہوئی صارف قوت، مقامی بازاروں کی مضبوطی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے ’ووکل فار لوکل‘ وژن کے عوامی تحریک میں تبدیل ہونے کا ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ تہواروں کے اس موسم میں "مقامی سے قومی اور قومی سے عالمی” کے جذبے کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارتی مصنوعات کی خریداری سے تاجروں، کاریگروں، ایم ایس ایم ای، خواتین کاروباریوں، اسٹارٹ اپس اور مقامی خدمات فراہم کرنے والوں کو فائدہ پہنچے گا۔

بی جے پی رکن پارلیمان پروین کھنڈیلوال نے کہا:
"اس دیوالی کا پیغام واضح ہے: مقامی خریدیں، بھارتی خریدیں، مقامی کاروبار کو مضبوط کریں اور وکست بھارت کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں۔”انہوں نے امید ظاہر کی کہ نوراتری سے دیوالی 2026 تک کا تہوار سیزن ملک کے کاروبار، خدماتی شعبے اور مقامی معیشت کے لیے ایک نئے سنگ میل کی حیثیت اختیار کرے گا۔

Related Articles