ریاست کی 11,350 گرام پنچایتوں میں ڈیجیٹل لائبریریاں قائم کی جا رہی ہیں: وزیر اعلیٰ
بابائے قوم مہاتما گاندھی کے یومِ پیدائش کے موقع پر وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے کہا کہ ان کی حکومت گاوں کو ترقی کی آخری سیڑھی نہیں، بلکہ نئے بھارت کے خود کفیل اترپردیش کی پہلی اکائی مان کر کام کر رہی ہے۔ بااختیار پنچایت اور خوشحال گاوں ہی گرام سوراج کا سنگ بنیاد ہیں، جس میں کنبہ پرور ماڈل کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل ایکس پر شیئر کردہ ایک پوسٹ میں کہا کہ سال 2017 سے قبل گاوں کو ترقی نہیں، محض وعدے ملے۔ گاوں کے نام پر

سیاست ہوتی رہی، لیکن نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا فقدان رہا۔ آمدنی اور ذات کے سرٹیفکیٹ جیسے معمولی کاموں کے لیے بھی دیہی عوام کو تحصیل، تھانے اور ضلع ہیڈ کوارٹر کے چکر لگانے پڑتے تھے۔ گاوں کو صرف ووٹ بینک کے طور پر دیکھنے والی سیاست کی وجہ سے دیہی علاقوں کی ترقی متاثر ہوئی۔ موجودہ حکومت نے نظام میں تبدیلی لاتے ہوئے گرام پنچایتوں کو سہولیات اور خدمات سے جوڑنے پر کام کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ گزشتہ ساڑھے نو برسوں میں ریاست کے 57,600 گرام سکریٹریٹس کے ذریعے دیہی عوام کو ای-گرام سوراج، ڈیجیٹل ادائیگی اور آن لائن مانیٹرنگ جیسی مختلف سہولیات دستیاب کرانے کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس سے گرام پنچایتوں کے طریقہ کار میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ گرام سکریٹریٹس کے کام کاج سے ہر گاوں میں 5 سے 7 روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاست کی 11,350 گرام پنچایتوں میں ڈیجیٹل لائبریریاں قائم کی جا رہی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کے لیے گرام سوراج کوئی سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ مہاتما گاندھی کے خوابوں کے گاوں اور اس کی خود کفالت کا عزم ہے۔ بااختیار پنچایت اور خوشحال گاوں ہی گرام سوراج اور خود کفیل اتر پردیش کا سنگ بنیاد ہیں۔ گرام سوراج کے اس نظام میں کنبہ پرور ماڈل کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ”بااختیار پنچایت، خوشحال گاوں اور خود کفیل اتر پردیش“ کو گرام سوراج کی سمت میں حکومت کے نقطۂ نظر کے طور پر اجاگر کیا۔




