جنتر منتر پر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر اپوزیشن جماعتوں کا احتجاج
ئی دہلی، دہلی میں واقع جنتر منتر پر جمعہ کے روز چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفے اور خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر) کے عمل کو روکنے کے مطالبے کے پیش نظر احتجاجی مظاہرہ جاری ہے۔ اس مظاہرے میں بائیں بازو کی جماعتوں، کانگریس، عام آدمی پارٹی سم

یت متعدد تنظیموں کے افراد دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ پولیس نے کئی افراد کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں عام آدمی پارٹی کے کئی رہنما شامل ہیں۔
طلبہ تنظیموں نے آج (2 اکتوبر) گاندھی جینتی کے موقع پر دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرے کا اعلان کیا تھا۔ یہ مطالبہ الیکشن کمیشن کے طریقہ کار اور ووٹر لسٹ سے متعلق معاملات کو نمٹانے کے انداز کے پیشِ نظر کیا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اس کے باوجود سماجی کارکنان اور طلبہ تنظ

یموں آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئیسا)، اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی)، این ایس یو آئی اور ڈیموکریٹک یوتھ فیڈریشن آف انڈیا (ڈی وائی ایف آئی) نے اس مظاہرے کی کال دی ہے۔ لہٰذا اس علاقے میں امتناعی احکامات نافذ ہونے کے سبب بغیر اجازت بھیڑ جمع ہونے سے روکنے کے لیے یہ کارروائی کی گئی۔
مظاہرے کی کال کے پیشِ نظر جنتر منتر اور گرد و نواح کے علاقوں میں اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔ آج صبح سے ہی دہلی بھر میں تقریباً 11 میٹرو اسٹیشنوں کو بند کر دیا گیا ہے۔ یہ وہ میٹرو اسٹیشن ہیں جہاں سے جنتر منتر تک رسائی آسان ہوتی ہے۔ وہیں کئی مقامات پر پولیس نے بیریکیڈز بھی لگا رکھے ہیں تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے کو روکا جا سکے۔ اس مظاہرے کے پیشِ نظر علاقے میں انٹرنیٹ بھی بند رکھا گیا ہے۔
مظاہرے کے دوران عام آدمی پارٹی کی رہنما آتشی، سوربھ بھاردواج، سنجے سنگھ سمیت 1100 سے زائد مظاہرین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی قومی صدر نیہا بورا کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، یوگیندر یادو، آر جے ڈی رہنما منوج جھا کو بھی پولیس نے پکڑ لیا ہے۔ وہیں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا ممبر سنجے سنگھ کو نارتھ ایونیو کے قریب روک دیا گیا۔ وہ مظاہرے کے مقام کی طرف جانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن پولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔
قابلِ ذکر ہے کہ ووٹر لسٹ کے ایس آئی آر میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام ہٹائے جانے کو لے کر گیانیش کمار پر عائد الزامات کے بعد مظاہرین نے یہ مجوزہ احتجاج کیا اور ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔




