رواں سال پہلی سہ ماہی کے دوران نئے گھروں کی رجسٹریشن میں 40 فیصد کمی

لندن ،مئی۔ 2023کی پہلی سہ ماہی میں نئے گھروں کی رجسٹریشن میں 40فیصد کمی آگئی۔ ایک انڈسٹری باڈی کے مطابق اس سال کی پہلی سہ ماہی میں تعمیر کئے جانے والے نئے گھروں کی تعداد میں ایک سال قبل اسی عرصے کے مقابلےمیں 40فیصد کمی ہوئی ہے۔ نیشنل ہاؤس بلڈنگ کونسل نے کہا ہے کہ2023 کی پہلی سہ ماہی میں تعمیرکئے جانے والے27673 نئے گھروں کی رجسٹریشن عمل میں آئی ہے۔ کونسل یوکے وارنٹی مارکیٹ کے 70سے 80فیصد تک کے حصے کی حامل ہے۔ کونسل کے چیف ایگزیکٹو سٹیووڈ نے کہا ہے 2022کے اقتصادی جھٹکوں اورریگولیٹری ماحول کی گرفت کے باعث اعدادوشمارنشاندہی کر تے ہیں کہ ہاؤس بلڈرز احتیاط سے منصوبہ بند ی کررہے ہیں اور اسے متوقع طلب کے مطابق ڈھال رہے ہیں جب کہ پیداوار سست ہو سکتی ہے زیادہ کنٹرولڈ کی شرح سے تعمیر معیار لانے میں مدد کرتی ہے جس سیصارف کو بہترنتیجہ ملتا ہے۔ گھرخریدناہم میں سیبہت سارے افراد کیلئے سب سے بڑا مالی عہد ہوگا اور اس لئے یہ حیرت کی بات نہیں کہ متوقع خریدار اس بات کا انتظار کررہیہیں کہ آیا خریداری کے فیصلیسے قبل آنے والے مہینوں میں سود کی شرح کم ہوگی۔ کونسل نے یہ بھی بتایا ہے کہ 2023کی پہلی 2022کی پہلی سہ ماہی کے مقابلے میں2023 کی پہلی سہ ماہی میں بنائے جانے والے ڈی ٹیچڈ مکانات کی تعداد نصف ہے یہ 16089کے مقابلے میں 8041ہے۔سٹیووڈ نے بتایا کہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کچھ بلڈرز مارکیٹ کے قابل استطاعت پر توجہ دے رہے ہیں۔ وبا سے نکل آنے کے بعد ہمنے ڈی ٹیچڈ مکانات کی رجسٹریشن کے لئے ریکارڈ تعداددیکھی تاہم اب خاندانی مالیات پر دباؤ کے باعث یہ بات حیرت انگیز نہیں کہ موجودہ توجہ پرائیوٹ اور رینٹل سیکٹرز میں قابل استطاعت گھروں پر ہوئی ہے۔ کونسل نے پہلے کہا تھا کہ2007کے بعد گزشتہ سال نئے گھروں کی رجسٹریشن کیلئے مضبوط ترین تھا۔ 2022میں کونسل نے برطانیہ بھر میں 191801نئے رجسٹریشنزریکارڈ کئے جو2001میں198467کے بعد سب سے زیادہ سالانہ مجموعی تعداد ہے۔

 

Related Articles