شندے – فڑنویس حکومت کے سامنے مراٹھا ریزرویشن کا مسئلہ ایک بڑا چیلنج
حکومت ریزرویشن کے تعلق سے سابقہ تاریخ سے نافذالعمل کوئی بھی حکم جاری نہیں کر سکتی: ممبئی ہائی کورٹ
اورنگ آباد : اگست ۔سماجی اور معاشی طور پر پسماندہ طبقات کے لیے مختص (EWS) کوٹے میں مراٹھا طبقے کو استفادہ حاصل کرنے کی سہولت دینے والے ریاستی حکومت کے، سابقہ تاریخ سے نافذالعمل فیصلے کو بمبئی ہائی کورٹ کی جانب سے "غیر قانونی، من مانی اور غیر دستوری ” کہہ کر کالعدم قرار دیے جانے کے بعد مہاراشٹرا میں ‘ مراٹھا ریزرویشن’ کو لیکر ساسی ماحول ایک بار پھر گرم ہو گیاہے۔ او بی سی ریزرویشن اور مراٹھا ریزرویشن کو لے کر ریاست میں پہلے ہی تناو کی کیفیت ہے، اس کی وجہ سے ریاستی حکومت کی مشکلات میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔ ای ڈبلیو ایس ریزرویشن کی منسوخی کے بعد اس بات کا امکان ہے کہ مراٹھا برادری دوبارہ جارحانہ ہو جائے گی اور سڑکوں پر اترے گی۔نئی شندے-فڑنویس حکومت کے سامنے مراٹھا ریزرویشن کے مسئلے کو حل کرنا ایک بڑا چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔واضح رہے کہ ، بمبئی ہائی کورٹ نے جمعہ کو مہاراشٹر اسٹیٹ الیکٹرسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ (MSEDCL)کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا ہے۔ مہاراشٹرا کی سابقہ مہا وکاس اگھاڑی حکومت کی طرف سے جاری کردہ حکومتی قراردادوں (جی آر ) کی بنیاد پر، جس میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ مراٹھا برادری کے اہل امیدوار، اقتصادی طور پر کمزور طبقات (EWS) کوٹہ کے تحت سول ملازمتوں کے لیے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔ چیف جسٹس دیپانکر دتا کی قیادت میں ایک ڈویژن بنچ نے جمعہ کو مختلف دائر کردہ پٹیشنس کے ایک گروپ میں یہ فیصلہ سنایا، جس میں اورنگ آباد کے ایڈوکٹ سید توسیف یاسین کے توسط سے ای ڈبلیو ایس زمرہ کے کئی امیدواروں کی طرف سے دائر کی گئی درخواستیں بھی شامل ہیں جس میں ،سابقہ تاریخوں سے نافذالعمل ان حکومتی قراردادوں (جی آر )کو چیلنج کیا تھا۔ واضح رہے کہ جیسے ہی اس عدالتی فیصلے کی خبر مختلف اخبارات اور نیوز چینلوں پر نشر ہوئی اس کے بعد عوام میں ایک غلط فہمی پیدا ہوئی کہ ای ڈبلیو ایس کوٹے کا فائیدہ مراٹھا سماج کو نہیں دیا جاسکتا۔ اس ضمن میں عدالتی فیصلے کی وضاحت کرتے ہوئے ایڈوکٹ سید توسیف نے یو این آئی کو بتایا کہ اس فیصلے میں عدالت نے صرف اس پر روک لگائی ہے کہ ، ملازمتوں میں اتخاب عمل کے دوران اور اس کے لیے کاروائئی شروع ہوجانے کے بعد اس دوران میں، اصول و ضوابط کو بدلا نہیں جاسکتا۔ اور ملازمتوں کے انتخاب کے لیے ایک بار کاروائی شروع ہونے کے بعد حکومت ریزرویشن کے تعلق سے سابقہ تاریخ سے نافذالعمل کوئی بھی حکم جاری نہیں کر سکتی۔عیاں رہے کہ، سپریم کورٹ کی جانب سے مراٹھا ریزرویشن کو رد کیے جانے کے بعد، مہاراشٹرا حکومت نے 23 دسمبر، 2020 اور 31 مئی 2021 کے جی آر کے ذریعے مراٹھا سماج کو ای ڈبلیو ایس کوٹے کے تحت فائدہ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اور اس فیصلے کو ریاست کے مختلف محکموں میں ملازمت کےلیے جاری کاروائیوں کے لیے سابقہ تاریخوں سے نافذالعمل قرار دیا گیاتھا۔