مسلم نوجوان کی پراسرار موت کی تحقیقات میں ٹال مٹول کا معاملہ

ممبئ ہائی کورٹ نے اعلی پولیس افسران سے جواب طلب کیا

اورنگ آباد:  جون ۔ مراٹھواڑہ کے ضلع ہنگولی کے ایک 26 سالہ نوجوان کی پراسرار موت کے معاملے میں دائر فوجداری عرضی میں بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ کے جسٹس سارنگ وی کوتوال اور جسٹس بھرت پی دیشپانڈے نے ریاست مہاراشٹرا کے داخلہ سکریٹری، اسپیشل انسپکٹر جنرل آف پولیس، ناندیڑ رینج، سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہنگولی وغیرہ کو درخواست گزار کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا جواب دینے کے لیے نوٹس جاری کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، ہنگولی کے مستان شاہ نگر کے رہنے والے پٹھان اسماعیل خان نے ایڈووکیٹ سعید ایس شیخ کے توسط سے بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ میں داخل درخواست میں کہا ہے کہ درخواست گزار کے شادی شدہ بیٹے عرفان خان کو 30 نومبر 2021 کو اسی علاقے کے رہنے والے بھرت شنکر یادو، روہت راجو یادو، سومناتھ اشوک چندن شیو عرف اکشے اور وٹھل وشنو چندن شیو نے پارٹی کرنے کے لیے ساتھ لیکر گئے تھے جس کے بعد سے عرفان خان واپس گھر نہیں لوٹا، اس سلسلے میں یکم اکتوبر کو گمشدگی کی رپورٹ پولس تھانے میں درج کرائی گئی۔ بعدازاں 2 اکتوبر کو عرفان کی نیم برہنہ اور مختلف زخموں اور جلی ہوئی لاش ہنگولی سے 20 کلومیٹر دور سوڑےگاؤں سالیگاؤں علاقے میں کیادھو ندی میں ملی ۔جس کے بعد سے درخواست گزار نے متعدد بار پولیس کو زبانی اور تحریری شکایتیں دے کر ان افراد کے خلاف کاروائی کرنے اور انکے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کے لیے گزارش کی ، مگر درخواست گزارکے مطابق پولس ان افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے بجائے سیاسی دباؤ کے باعث ان ملزمان کو بچانے کے لیے مقدمہ درج کیے بغیر معاملہ دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔کیس کی سماعت کے بعد بنچ نے مدعا علیہان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ، جواب میں حلف نامہ داخل کرکے درخواست میں لگائے گئے الزامات کی وضاحت طلب کی ہے اور پوچھا ہے کہ آیا پولیس ایف آئی آر درج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے یا وہ دوسری کوئی کارروائی تجویز کرنا چاہتی ہے۔ کورٹ نے سرکاری وکیل کو اس حوالے سے جواب داخل کرنے کی ہدایت کے ساتھ کیس کی آئندہ سماعت 11 جولائی 2022 کو مقرر کی ہے۔اس معاملے میں درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ۔سعید ایس۔ شیخ اور حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ پبلک پراسیکیوٹر ایس۔ ڈی گھائل نے نمائندگی کی۔

Advertisement

Related Articles