سپریم کورٹ کی مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے پر مہر، وانیار کے لیے 10.5 فیصد ریزرویشن غیر آئینی

نئی دہلی، مارچ ۔سپریم کورٹ نے جمعرات کو مدراس ہائی کورٹ کے اس نئے قانون کو منسوخ کرنے کے فیصلے کو برقرار رکھا جس میں وانیار برادری کو سرکاری تعلیمی اداروں اور تمل ناڈو میں ملازمتوں میں 10 فیصد ریزرویشن فراہم کیا گیا تھا۔تمل ناڈو حکومت نے گزشتہ سال ریاست میں سب سے پسماندہ ذاتوں کے لیے مقرر کردہ 20 فیصد ریزرویشن میں سے وانیار برادری کے لیے علیحدہ 10.5 فیصد ریزرویشن دینے کا انتظام کیا تھا۔ اس فیصلے کو دیگر پسماندہ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں نے مفاد عامہ کی عرضی کے ذریعے چیلنج کرتے ہوئے اسے منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ ہائی کورٹ نے ریزرویشن سے متعلق ریاستی حکومت کے نئے قانون کو ایک رد کردیا تھا۔ ریاستی حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔جسٹس ایل۔ این راؤ اور جسٹس بی۔ آر۔ گاوائی کی بنچ نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد تمل ناڈو ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا جس میں 10.5 فیصد ریزرویشن کو غیر آئینی قرار دیا گیا تھا۔عدالت عظمیٰ کی دو رکنی بنچ نے کہا کہ ریاستی حکومت کا 2021 کا قانون وانیار کو دیگر انتہائی پسماندہ ذاتوں کے لیے مقرر کردہ ریزرویشن کے علاوہ ریزرویشن دینے والا آئین کے آرٹیکل 14 اور 16 کے خلاف ہے۔بنچ نے کہاکہ ہمارا خیال ہے کہ وانیار کو دوسروں سے الگ گروپ کے طور پر برتاؤ کرنے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ مدراس ہائی کورٹ نے یکم نومبر 2021 کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ریاستی حکومت نے آبادی، سماجی-تعلیمی حیثیت، خدمات میں پسماندہ طبقات کی نمائندگی کے اعداد و شمار کے بغیر ریزرویشن ایکٹ پاس کیا ہے۔ ایسا کرنا آئین کی نظر میں غیر قانونی ہے۔

 

Related Articles