امریکہ: خواتین فٹ بال کھلاڑیوں کو ملی بڑی جیت

نیویارک،فروری۔امریکی فٹ بال کی خواتین کھلاڑی، یو ایس ساکر فیڈریشن کے ساتھ مساوی تنخواہوں اور مراعات کی چھ سال کی طویل قانونی جنگ کو ختم کرنے کے لیے ایک تاریخی معاہدے پر رضامند ہو گئی ہیں جس کے تحت انہیں دو کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے علاوہ مردوں کے مساوی بونس دینے کابھی وعدہ کیا گیا ہے۔یوایس ساکر فیڈریشن اور خواتین کھلاڑیوں نے منگل کو معاہدے کا اعلان کیا جس کے تحت کھلاڑیوں میں دو کروڑ 20 لاکھ ڈالر تقسیم کیے جائیں گے۔یہ رقم خواتین کھلاڑیوں کے طلب کردہ ہرجانے کا ایک تہائی ہے۔ اس کے علاوہ ساکر فیڈریشن نے 20 لاکھ ڈالر کے ساتھ ایک فنڈ قائم کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے جو کھیل سے ریٹائرمنٹ کے بعد خواتین کھلاڑیوں اور خواتین کے کھیلوں کے ترقی کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔یوایس ساکر فیڈریشن نے خواتین اور مردوں کی قومی ٹیموں کی نمائندہ یونین سے اجتماعی سودے بازی کے معاہدوں کی بنیاد پر تنخواہ کی یکساں شرح اور یکساں ورلڈ کپ بونس مقرر کرنے کا وعدہ کیا ہے۔یہ تصفیہ ان کھلاڑیوں کے لیے ایک فتح ہے جنہوں نے 2019 میں فرانس میں دوسری بار لگاتار ٹائٹل جیتنے کے بعد مرد کھلاڑیوں کے مساوی تنخواہ کے نعرے پر شائقین کو اپنا ہمنوا بنالیا تھا۔خبروں کے مطابق36 سالہ مڈ فیلڈر میگن ریپنو نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ” آنے والی نسل کے لیے وہ اس کھیل کو اس سے کہیں بہتر مقام پر چھوڑ کر جارہی ہیں جہاں انھوں نے اسے پایا تھا۔ "امریکی ساکر کے مرد کھلاڑیوں کے برابر تنخواہ حاصل کرنے کی مہم میں یہ جیت یو ایس ایس ایف کی صدر سنڈی پارلوکون کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی ہے جو خود بھی ایک سابق کھلاڑی ہیں اور مارچ 2020 میں فیڈریشن کی سربراہ بنی تھیں۔انھوں نے کارلوس کورڈیرو کی جگہ لی تھی جنھوں نے فیڈریشن کی جانب سے ایک قانونی دعوی دائر کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ خواتین کی جسمانی صلاحیت مردوں سے کم ہے اور وہ کم ذمہ دار ہیں۔اس کے بعد کارلوس نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔سنڈی کون نے کہا کہ ” میرے خیال میں یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہے اور میں مستقبل میں ان کے ساتھ مل کر کام کرنے میں پرجوش ہوں۔” انھوں نے کہا کہ ، سب سے اہم بات یہ کہ کھیل کو ہر سطح پر بڑھایا جا سکے گا اور لڑکیوں او ر خواتین کے لیے مواقعوں کو وسیع کیا جاسکے گا۔1985 کے بعد سے، جب امریکہ میں خواتین کی نیشنل ساکر ٹیم بنی تھی ، امریکی خواتین نے چار ورلڈ کپ جیتے ہیں۔جب کہ مردوں کی ٹیم 1930 سے اب تک کسی بھی سیمی فائل تک نہیں پہنچ سکی ہے۔ایلیکس مورگن اور میگن ریپنو کی قیادت میں پانچ امریکی اسٹارز نے اپریل 2016 میں روز گار کے مساوی مواقع کے وفاقی کمیشن کے پاس یہ مقدمہ دائر کیا تھا، اور پھر اس کے تین سال بعد انہوں نے وفاقی مساوی تنخواہ ایکٹ اور شہری حقوق ایکٹ سات کے تحت ہرجانے کا مقدمہ بھی دائر کیا۔فریقین کے درمیان کام کے حالات کار کیباریمیں تصفیہ دسمبر 2020 میں ہوا،جس میں چارٹرڈ طیارے، رہائش، اور کھیل کے میدان جیسے مسائل کو نمٹا یاگیا تھا۔ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیل میں مساوی تنخواہوں کی بحالی کے مقدمے میں ان کی سماعت سات مارچ کو ہونے والی تھی۔خواتین ٹیم کی یونین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج اعلان کردہ تصفیہ ماضی کی بہت سی غلطیوں کو درست کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اگرچہ 31 مارچ کو ختم ہونے والے معاہدے کو تبدیل کرنے کا لیبر معاہدہ اور اس کی توثیق ہونا ابھی باقی ہے، تاہم یہ تصفیہ بہت بڑا قدم ہے۔32 سالہ فارورڈ ایلیکس مورگن نے کہا کہ ” یہ محسوس کرنا بہت خوش کن ہے کہ ہم یو ایس ساکر کے ساتھ تعلقات کو بہترکرنا شروع کرسکتے ہیں جو امتیازی سلوک کی وجہ سے برسوں سے منقطع ہیں۔ آخر کار اس لمحے تک پہنچنے پر ہمیں ایسا محسوس ہورہاہیکہ اب ہم سکون کا سانس لے سکتے ہیں۔کھلاڑیوں میں دو کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی تقسیم ضلعی عدالت کی منظوری سے مشروط ہے۔

Related Articles