خصوصی پوزیشن کی بحالی اور فرقہ پرست عناصر کی سازشوں کا توڑ کرنے میں نوجوانوں کا اہم رول ہے :ڈاکٹر فاروق عبداللہ

سری نگر فروری۔نیشنل کانفرنس کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کی نوجوان کش پالیسیوں سے یہاں کا نوجوان نا اُمید اور بے بس دکھائی دے رہا ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ خصوصی پوزیشن کی بحالی اور فرقہ پرست عناصر کی مذموم سازشوں کا توڑ کرنے میں نوجوانوں کا اہم رول ہے ۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے جموں میں این سی سٹوڈنٹس یونین کے عہدیداران اور کارکنان سے خطاب کے دوران کیا ۔انہوں نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس نے پہلے بھی جموں وکشمیر کے نوجوانوں کی سلب کی جارہی نوکریوں کا مسئلہ بار بار اُٹھایا ہے اور ہم اس سمت میں اُس وقت تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں جب تک یہاں کی نوکریاں مقامی نوجوانوں کیلئے مخصوص رکھی جائیں گی۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی نوجوان کُش پالیسیوں سے یہاں کا نوجوان نااُمید اور بے بس دکھائی دے رہا ہے اور ایسی صورتحال میں منشیات اور دیگر برے کاموں کی طرف راغب ہورہا ہے ۔این سی سرپرست اعلیٰ کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کی غلط شعاری سے یہاں کے پڑھے لکھے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بے روزگار بیٹھے ہیں اور عمر کی حد پار کررہے ہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کی طلبائونگ سے وابستہ نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ والدین کی خدمت کرنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگذاشت نہ کریں اور ہمیشہ بڑھوں کی عزت کریں۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کی انفرادیت، اجتماعیت، مذہبی ہم آہنگی اور خصوصی پوزیشن کی بحالی اور فرقہ پرست عناصر کی مذموم سازشوں کا توڑ کرنے میں نوجوانوں کا اہم رول ہے ۔اس سے قبل این سی سٹوڈنٹس یونین جموں کے عہدیداران نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو نوجوانوں کو درپیش مسائل و مشکلات سے آگاہ کرنے کے علاوہ مقامی نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقعے معدوم کئے جانے پر زبردست مایوسی کا اظہار کیا۔ طلبائنے کہاکہ ہمیں اپنا مستقبل مخدوش نظر آرہاہے کیونکہ جموں وکشمیر میں جس طرح باہری ریاستوں کے اُمیدوروں کیلئے نوکریاں حاصل کرنے کیلئے میدان کھلا چھوڑا جارہا ہے ، یہ ایک خطرناک رجحان ہے جس سے نوجوان پود نااُمیدی اور مایوسی کے بھنور میں ڈوبتی جارہی ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے سٹوڈنٹس ونگ سے وابستہ طلبائکو یقین دہانی کرائی کہ وہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں اُٹھانے کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کیساتھ ملاقات کرکے اُن کی توجہ بھی اس سنگین مسئلے کی طرف مرکوز کرائیں گے ۔

 

Related Articles