برطانوی شہریت کا بنا وارننگ خاتمہ خطرناک ہے، بیرونس وارثی

لندن ،جنوری۔ کنزرویٹو پیر اور سابق ٹوری چیئروومین بیرونس سعیدہ وارثی نے کہا ہے کہ برطانوی شہریت کا بغیر وارننگ خاتمہ انتہائی خطرناک ہے، حکومت کو اس مجوزہ بل پر پھر سے نظرِ ثانی کی ضرورت ہے اور اسے واپس لیا جانا چاہئے۔ دارالامراء میں نیشنلٹی اینڈ بارڈرز بل کی طویل دوسری خواندگی کے دوران بحث میں حصہ لیتے ہوئے برطانیہ کی پہلی خاتون کابینہ وزیر نے مجوزہ بل کو انتہائی خطرناک معاملہ قرار دیتے ہوئے اسے قانون سازی سے نکالنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریت کے بنیادی حق کو متاثر کرنے والے اس بل کو اب لازمی روکا جانا چاہئے، ہم خواہ کسی بھی پارٹی سے تعلق رکھتے ہوں، ہم سب اس مشکل کا حصہ ہیں اور اس پورے ایوان سے ایک آواز بلند ہونی ضروری ہے، ہماری نمائندگی کرنے والی جماعتوں کو اس بنیادی سوچ پر یکجا ہونا ہوگا کہ اس ملک کے تمام شہریوں سے برابری کا سلوک ہو اور ایک شہری کی حیثیت سے آپ ہمارے مستقل رکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ کو ملنے والے یہ اختیارات انتہائی خطرناک ہیں، اس سے آپ کسی بھی شہری کو شہریت سے محروم کر سکتے ہیں اور وہ بھی بنا وجہ بتائے۔ متاثرہ شہری کو یہ حق ہی نہیں ہوگا کہ وہ یہ جان سکے کہ سیکرٹری داخلہ نے جس بنا پر یہ کارروائی کی اس کا کوئی قانونی جواز بھی ہے یا پھر اس قانون پر عملدرآمد کیلئے ان کے پاس درست شواہد تھے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والدین کی نسل، جو اب اپنی 80 کے دور میں ہے، ہمیشہ اپنی اگلی نسلوں کیلئے فکرمند رہے کہ انہیں لامحالہ آئوٹ سائیڈرز، دوسرے درجے کا شہری نہ قرار دیا جائے اور انہوں کہا جائے کہ آپ برطانیہ چھوڑ کر واپس اپنے آبائی ملک چلیں جائیں جبکہ میری نسل نے ان کے ان خدشات کو ہمیشہ غیر حقیقی قرار دے کر مسترد کیا۔ بیرونس وارثی نے مزید کہا کہ میں وزیر سے مطالبہ کرتی ہوں جوکہ سوچ و بچار رکھنے والی اور ان مسائل سے بخوبی آگاہ ہیں، وہ اپنی حکومت سے اس مجوزہ بل پر دوبارہ غور و فکر کا کہیں اور اسے واپس لیں۔

Related Articles